• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلے چادر پوش اپوزیشن لیڈر آج اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے

اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار)پہلے چادر پوش اپوزیشن لیڈر آج اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، وہ آئینی حدود سے تجاوز کے مرتکب ہوئے تو انہیں ایوان میں گفتگو کا موقع نہیں دیا جائیگا، محمود اچکزئی کی سب سے بڑی آزمائش ا ٓزاد ارکان کی تحریک انصاف کو قابو میں رکھنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں آج (پیر) شام اس کےپہلے چادر پوش قائد حزب اختلاف اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے ان کا تقرربڑی ردوکد کے بعد عمل میں آیا ہے۔ محمود خان اچکزئی جو قبل ازیں اپنی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ تھے حالیہ دنوں میں تحریک تحفظ آئین کے چیئرمین با نی بن گئے ہیں ان کی اپنی پارٹی میں ’’پاکستان‘‘ کا لفظ شامل نہیں وہ پارلیمنٹ میں اس کے واحد رکن ہیں۔ پارلیمانی ذرائع نے جنگ/دی نیوز کو ا توار کی سہ پہر بتایا ہے کہ محمود خان اچکزئی پر واضح کردیا گیا ہے کہ وہ آئین میں دی گئی حدود (پیرامیٹرز) سے تجاوز کے مرتکب ہوئے تو انہیں ایوان میں گفتگو کا موقع نہیں دیا جائے گا وہ خود کو مرکز گریز قوتوں کےساتھ جوڑتے ہیں جو نام نہاد قوم پرستی کی علمبردار بنتی ہیں تا ہم وہ عوامی ا ور منتخبہ ایوانوں میں کبھی جگہ نہیں بنا سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کےقائد حزب اختلاف کی نشست سنبھالتے ہی ان کی اس مسند سے مڈبھیڑ ہوگی جس پر سردار ایاز صادق بطور اسپیکر فروکش ہیں ان دونوں کے درمیان مراسم مثالی نہیں ہیں ہرچند سردار ایاز صادق نے کبھی نام لیکر محمود اچکزئی پر نکتہ چینی نہیں کی انہوں نے واضح کردیا ہے کہ یہ کہیں تحریر نہیں کہ قائد حزب اختلاف کو پابندیوں سے ماوریٰ ہو کر بات کرنے کی اجازت حاصل ہے یا وہ جب چاہے اسے بولنے کا موقع فراہم کردیا جائے انہوں نے صاف طور پر پیغام دیدیا ہے کہ وہ ایوان میں کسی رکن کو (بشمول قائد حزب اختلاف) آئین کے منافی عدلیہ، مسلح افواج اور تکریم رکھنے والے اداروں کے خلاف لب کشائی کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے وہ احتجاج کے حق کا احترام کرتے رہیں گے۔ ذرائع کا خیال ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی نے ’’تفویض کردہ‘‘ ا ہداف کیلئے صدر مملکت، وزیراعظم یا کسی مقتدر منصب دار سے ملاقات کی تو اڈیالہ سے ان کی قیادت کا قالین نیچے سے کھینچ لینے کے احکام صادر ہوسکتے ہیں۔
اسلام آباد سے مزید