السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ماڈلز انتظار میں کھڑی رہ گئیں
شمارہ موصول ہوا، سرِورق پر دو ماڈلز ایک دوسرے سے منہ پھیرے کھڑی تھیں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں، جلیل القدر صحابیٔ رسول ﷺ کے حالاتِ زندگی پڑھ کردل کو بےحدسکون ملا۔ ’’جس مُلک میں رہو، وہاں کےعوام، حکومت کے ساتھ میل ملاپ رکھنا بہت ضروری ہے کہ یورپ اب شدت پسند تارکینِ وطن کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔‘‘ منور مرزا نے سوفی صد درست نشان دہی کی۔ رابعہ فاطمہ قیامِ پاکستان کے بعد صنعتی ترقی میں بگاڑ کی بات کررہی تھیں۔
واقعی، ماحول دوست حکمتِ عملی نہیں اپنائی گئی، جس کا نتیجہ سیلابوں، طوفانوں کی صُورت ظاہر ہے۔ محمّد تنویر ہاشمی چین کی ترقی کا راز بتا رہے تھے، جو مخلص قیادت، عوام کی محنت کی مرہونِ منت ہے۔ ہمیں بھی صرف مخلص قیادت کی ضرورت ہے، پاکستانی قوم کے محنتی ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں فرحی نعیم، نیکی کرنے کی تلقین کررہی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ’’پتھر راستے سے ہٹا دینا بھی نیکی ہے۔‘‘
بلاشبہ، لوگوں کی فلاح کا کام کرنا، اُنہیں تکلیف سے بچانا حقوق العباد میں شامل ہے۔ محمد صفدر خان چاکلیٹ بنانے کی ترکیب لائے۔ بھئی، حضرات کچن میں داخل ہوگئے ہیں، خواتین ہوشیارباش۔ جمشید عالم صدیقی بھنڈی کو غذائیت کا ’’پاور ہاؤس‘‘ بتا رہے تھے، تو ہم نے فوراً فرمائش کرکے پکوا ڈالی اور پھردو دن تک کھائی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ثانیہ انور نے فلسفیانہ سا طویل رائٹ اَپ تحریر کیا، مگر اصل موضوع لباس، پوشاک سے ہٹ ہی گئیں۔
دو دو ماڈلز انتظار ہی میں کھڑی رہ گئیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا بجاکہ ذہنی صحت، جسمانی صحت سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ منور راجپوت نے نئی کتابوں پر ماہرانہ تبصرہ کیا۔ عرفان جاوید، رفاقت حیات کے افسانے ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ کی پہلی قسط لائے۔
ہمیشہ کی طرح بہترین انتخاب۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں راحت کونین کے والد اور مصباح طیّب کے گھنیرے، سرسبز پیپل کی کہانی بہت پسند آئی۔ ہمارے گھر کے سامنے بھی سڑک پر ایک پیپل تھا، جسے بچپن سے دیکھتے آئے، اب اپنی عُمرِ طبعی پوری کرکے چند ماہ قبل گرگیا، بڑا افسوس ہوا۔ اور، اپنے صفحۂ خاص میں راجا فیصل آبادی کے ہم راہ ہم بھی نعرہ زن ہوئے۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الا اللہ۔ پاکستان زندہ باد۔‘‘ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپورخاص)
ج:’’تبدیلی تو اچھی ہوتی ہے۔‘‘مسلسل ایک ہی جیسے رائٹ اَپ پڑھ پڑھ کے آپ لوگ اُکتا نہیں گئے۔ چلیں خیر، ثانیہ تک آپ کی شکایت پہنچ گئی۔ آئندہ خیال رکھیں گی۔
ایک ’’ادبی شگوفہ‘‘
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نے روشنی کا ایک اور مینار منور کیا۔ صحابیٔ رسولؐ، حضرت عمار بن یاسرؓ کی اسلام کے لیے بے مثال قربانیوں کا احوال رُوح پرور تھا۔ منور مرزا پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کا کہہ رہے تھے۔ سیدہ تحسین عابدی نے موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر اثرات کے موضوع پہ تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی سوشل میڈیا کی جھوٹی خبروں کا محاسبہ کررہے تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے فالج سے متعلق عُمدہ معلومات فراہم کیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کا انتخاب اچھا لگا۔ ’’پیارا گھر‘‘ کے مضامین پسند آئے۔ رحمان فارس کے ’’انٹرویو‘‘ کا جواب نہ تھا۔ ثانیہ انور کا افسانہ ’’سفر‘‘ پسند آیا۔ ’’ادبی شگوفے‘‘ بھی زبردست تھے۔ ویسے’’آپ کا صفحہ‘‘ میں بھی ہر دوسرے تیسرے ہفتے ایک ’’ادبی شگوفہ‘‘ پُھوٹتا ہے۔ چاہیں، تو اُسے بھی ’’ڈائجسٹ‘‘ میں شامل کر سکتی ہیں۔ ذراذہن پہ زور ڈالیں، تو سمجھ آجائے گا۔
اگلے جریدے میں حضرت حذیفہ بن یمانؓ کا ذکر ِمبارک کیا گیا۔ منور مرزا نے افغان اور پاکستانی حکومتوں کو بالکل صحیح لتاڑا۔ ثانیہ انور نے نومبر کے اہم ایام کا ذکر کیا۔ سیدہ تحسین عابدی کا مضمون بھی اچھا تھا۔ منور راجپوت کی کراچی کے ڈپٹی میئر، سلمان عبداللہ مراد سے بات چیت زبردست رہی۔
عرفان جاوید نے محمد عاطف علیم کے لکھے افسانے کی پہلی قسط پیش کی، بہت دل چسپ تحریر تھی۔ ڈاکٹر سکندر اقبال صحت کی بہتری کے لیے شان دار تجاویز لائے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں شکارپوری اچار پر مضمون بہت اچھا لگا۔ سنگھاڑے سے متعلق معلومات بھی ٹھیک تھیں۔ ڈاکٹر غلام محمد سولنگی کا افسانہ ’’چھلّا‘‘ بہت منفرد سا معلوم ہوا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: جس ’’ادبی شگوفے‘‘ کا آپ نے ذکرِ خیر فرمایا، اُس کے لیے ذہن پر زور ڈالنے کی قطعاً ضرورت نہیں بلکہ سِرے سے ذہن استعمال کرنے ہی کی ضرورت نہیں۔ ہاں مگر اصلاح فرما لیں، موصوف کی تحریر ادب سے کہیں زیادہ بے ادبی کا شاہ کار ہوتی ہے۔
سیدھی مانگ نکالے، بال بکھرائے
شمارہ موصول ہوا۔ ؎ ’’ہم نے ہر رنگ محبت میں بدل کر دیکھا…‘‘ عبارت کے ساتھ ماڈل ثمن سرِورق سے سینٹر اسپریڈ تک چہرے پر انتہائی سنجیدگی و وقار لیے، سیدھی مانگ نکالے، بال بکھرائے جلوہ افروز تھی۔ ویسے سرِورق کی تصویر اور لباس نمبرون ٹھہرے۔ وسطی صفحات کی تحریر اقصیٰ منور ملک نے لکھی اور بہت ہی اچھی لکھی۔ عورت کے سارے رنگ و رُوپ روشن و اجاگر کردیے، یہ بھی کوئی نئی دریافت ہےکیا؟
ثانیہ انورحسبِ معمول نومبر کےعالمی ایام کا احوال لائیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ رنگ برنگے خطوط سے مزین، چمک، دمک اور چہک مہک رہا تھا، ہمارا نامہ بھی شاملِ اشاعت تھا، شکریہ۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں فوزیہ ناہید سیال چکن کی مختلف ڈشزکی تراکیب بتا رہی تھیں، اِسی صفحے پر شکارپوری اچار کا احوال بیان کیا گیا اور ہمارے شہر گوجرانوالہ سے حکیم حارث نسیم سوہدروی، ’’سنگھاڑے‘‘ کے خواص وفوائد لائے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کے عنوان تلے عاطف علیم کا تحریر کردہ افسانہ ’’خواب راستے پر تھمے قدم‘‘ شاہ کارتخلیق تھی۔
پہلی قسط لاجواب رہی، دوسری کا شدّت سے انتظار ہے اور اِس انتخاب پرعرفان جاوید داد کے مستحق ہیں۔ شائستہ اظہر ایک بار اینٹری دینے کے بعد غائب ہی ہوگئیں، اُن کو آواز دیں، کہاں ہیں، دوبارہ اپنی منفرد، خُوب صُورت اور دل فریب تحریر کے ساتھ محفل میں آئیں۔ اب کی بار پھر ’’آپ کا صفحہ‘‘ مَردوں کا صفحہ ہی بنا ہوا تھا۔ دیگر تحاریر میں ’’دنیا کا بدلتا توازن اور پاکستان‘‘، ’’اخبار، تہذیب کا آئینہ اور ’’چھلّا‘‘ بے حد پسند آئیں۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکّی مسجد راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: ہماری ہزار سرزنش پر بھی، آپ کی کن انکھیوں سے سیدھی مانگ، بکھرے بال دیکھنے کی عادت نہ گئی۔ اِس ’’استقامت‘‘ (عرفِ عام میں ڈھٹائی) کو بھی سلام ہے۔اور شائستہ اظہر کو آواز دینے کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اب سمجھیں،ہماری ٹیم کا حصّہ ہی بن گئی ہیں۔
شری مُرلی اور شکارپوری اچار
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آس رکھتا ہوں کہ اہلِ بزم خوش و خرّم ہوں گے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ’’سورج نامہ‘‘ چمکے اور ہمارا چہرہ نہ دمکے، ہاں البتہ کبھی کبھار ماتھا بھی ٹھنکے۔ حیرت کی بات ہے کہ طالبان حکومت کو بھارت کی تھپکی حاصل ہے۔ ویسے’’حالات و واقعات‘‘ روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ عالمی ایامِ نومبر کو ثانیہ انور نے لکھ کر ’’سنڈے میگزین‘‘ کو ’’اسپیشل‘‘ بنادیا۔ سیدہ تحسین عابدی کا مضمون ’’پاکستان اور بدلتی دنیا کا توازن‘‘ بھی شان دار تھا۔
کراچی کے نوجوان ڈپٹی میئر، سلمان عبداللہ کا ’’انٹرویو‘‘ اچھا تھا، مگر لاہور سے موازنہ نہ کرنے والی بات پرحیرت ہوئی۔ مانا کہ کراچی مِنی پاکستان ہے، مگر ایک بڑے شہر کا موازنہ دوسرے بڑے شہر ہی سے ہوگا ناں۔ ڈاکٹر سکندر نے خراب عادات سے نجات کی ترغیب دی۔ بھئی، بہت عُمدہ۔
اساتذہ کی بے توقیری واقعتاً المیہ ہے، ڈاکٹر علیمی نے اچھا لکھا۔ اخبار بینی کی مِٹتی روایت پر ثاقب نظامی رقم طراز تھے، یہ بھی عُمدہ تحریر تھی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ اچھا سلسلہ ہے، تمام اقساط نہیں پڑھ سکا۔ اس بارعرفان جاوید نے عاطف علیم کا افسانہ منتخب کیا اور خُوب کیا۔ لنچ میں فرائیڈ چکن کے ساتھ شکارپوری اچار نے تو مزہ ہی دوبالا کردیا۔
مضمون پڑھ کے بےاختیار شری مرلی چند کی یاد آگئی کہ وہ اور شکارپور لازم و ملزوم ہیں۔ ڈاکٹر سولنگی کا ’’چھلّا‘‘ پڑھ کے ’’ایک کپ چائے‘‘ تو ضروری ہوگئی تھی۔ ’’دل کی باتیں‘‘ بھی اَن مول لگیں اور’’آپ کا صفحہ‘‘ہو، سلیم راجانہ ہو، کیسے ممکن ہے۔’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں قرات نقوی بھی امریکا سے خُوب ہی لکھتی ہیں۔ (ڈاکٹر محمّد حمزہ خان ڈاھا، لاہور)
ج: ارے بھئی، شکارپور کے اور بھی کئی حوالے ہیں۔ قارئین نے تو اِسے بس شری مُرلی ہی سے منسوب کر چھوڑا ہے۔
حلوا پوری کے ساتھ مطالعۂ جریدہ
اس ہفتے کا ’’سنڈے میگزین‘‘ بہت ہی زبردست تھا۔ ویل ڈن، ادی نرجس ملک۔ صُبح سویرے جب چاچا ارشاد نے(اخبار فروش، جن سے ہر اتوار اخبار خریدتا ہوں) پوچھا کہ ’’برخوردار! آج اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہو؟‘‘ تو مَیں نے اُنہیں بتایا کہ آج میرا مَن حلوا پوری کھانے کا ہے، سو آج وہیں بیٹھے بیٹھے اخبار بھی دیکھ لوں گا۔‘‘ اور پھر حلوا پوری اور سنڈے میگزین دونوں سے ایک ساتھ بھرپور لُطف اٹھایا تو سمجھیں، جریدے کا مطالعہ سہ آتشہ ہوگیا۔
قصّہ مختصر، جریدہ بےمثال تھا۔ سرِورق کا جواب نہ تھا۔ مفکرِ اسلام، علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے خصوصی تحریروں کا انتخاب بہترین رہا۔ امریکی سماجی ماہرِنفسیات، پروفیسر ڈاکٹر کلارک میک گولی سے بات چیت بھی بہت اچھی لگی۔ بلوچستان کے نام وَر مصور، حمید بلوچ کی باتیں مزے کی تھیں۔
’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کا نیا افسانہ ’’خواب راستے پر تھمے قدم‘‘ (مرتب: عرفان جاوید) ایک بہترین کاوش ٹھہری۔ ڈینگی بخار سے متعلق پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن نے بہت ہی مفید مشورے دیے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں خشک میوہ جات کے سلطان، بادام سے متعلق روبینہ شاہد کی کاوش کا جواب نہ تھا۔ رونق افروز برقی نے میری خالہ نگار سے متعلق لکھی تحریر پسند کی، بےحد شکریہ۔ (اسلم قریشی، آٹو بھان روڈ، ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد)
ج: خیال رہے، یہ حلواپوری کے ساتھ مطالعے کی عادت پختہ ہی نہ ہوجائے۔ پتا چلے، چند ماہ بعد کسی ڈاکٹر کے کلینک کے باہر بیٹھ کے مطالعے سے لُطف اندوز ہونا پڑے۔
فی امان اللہ
مدیرہ صاحبہ کے کرارے و جان دار جوابات پر مشتمل ایک نامۂ پُرتکلف پیشِ خدمتِ قارئین کیا تھا۔ اب یہ ایک ’’کشتِ زعفران‘‘ حاضرِ خدمت ہے، جو مدیرہ کے 2025ء میں، خوش قسمت نامہ نگاروں کو دیے گئے شیریں و دل چسپ جوابات سے مشک بیزہے۔ اپریل ٭ روبینہ ادریس، کراچی (محبّتوں اور رفاقتوں کا یہ سفر بہت پرانا ہے۔ اگر آپ نے شاملِ محفل کیا تو آنا جانا لگا رہے گا۔) جواب: خوش آمدید چشمِ ماروشن دلِ ماشاد…بخدا آپ کا آنا قلب ونظر کو بہت اچھا لگا۔
اپریل٭ رانا محمّد شاہد، بورے والا (درمیانی صفحات پر آپ کی تحریر جدّت، خنکی، شدّت اور خوشبو کا حسین امتزاج لیے ہوئے تھی۔) جواب: بہت خُوب، آپ کے طرزِ تحریر میں جس قدر تیزی سے نکھار آتے دیکھا ہے، کم ہی تحریروں میں دیکھا جاتا ہے۔ مئی٭ شری مرلی چند جی، شکارپور(’’سنڈے میگزین‘‘سے اتنا کچھ حاصل کیا ہے کہ عُمربھر کی ممونیت واجب ہوگئی ہے۔) جواب: ہم بھی ’’سنڈے میگزین‘‘ کے مستقل قاری کے طور پر آپ کے لیے بہت ممنونیت ہی کے جذبات و احساسات رکھتے ہیں۔ مئی٭ پرنس افضل شاہین، بہاول نگر (سچ تویہ ہے،مجھےجنگ ’’سنڈے میگزین‘‘ سے دیرینہ پیارہے، محبّت وعشق ہے۔) جواب: بھئی، اِس پیار، محبت کو عشق ہی تک رہنے دیجیے گا، جنون تک نہ لے جایئے گا۔
جون٭ شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص (لیجیے، یہ ہم نے خُود ہی دو ہفتوں کے جرائد کا مکسچر پیش کردیا ہے۔) جواب: شاباش! اگلی بار تین جرائد کی ’’معجون‘‘ تیار کرنے کی کوشش کی کیجیے گا۔جولائی٭ محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد (استاد صحافی شام جی کا انٹرویو پڑھوا دیں، تو ہم ہر شام یوں ترانۂ تشکر گاتے رہیں۔ ’’یہ شام اور تیرا نام، دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں… تیرا نام نہیں لوں گا، بس تجھ کو شام کہوں گا۔‘‘) جواب: آپ کی واپسی طویل عرصے بعد ہوئی، مگر خوشی اِس بات کی ہے کہ تحریر کی لطافت و چاشنی، سلاست وروانی جُوں کی تُوں ہے۔ جولائی٭ شاہدہ ناصر، کراچی (جو آپ کے رائٹ اَپ نہیں پڑھتا، اپنے ساتھ بڑا ظلم کرتا ہے۔) جواب: ہم خُود بھی ایک بار لکھنے کے بعد دوبارہ نہیں پڑھتے، تو مطلب ہر طرف ظلم ہی ظلم ہورہا ہے۔
اگست٭ رونق افروزبرقی، کراچی (یقین کریں، ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں، جو کرتی ہیں، خُوب ہی کرتی ہیں۔) جواب: آپ کے سانچے کی تو فوٹوکاپیاں تقسیم ہونی چاہئیں کہ آپ کو کوئی شکایت ہی نہیں۔ اگست٭ شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ (مجھے خاموشی کی زباں میں گفتگو پسند ہے اور آپ کے پاس اِس زباں کو سمجھنے کا ہنر ہے۔) جواب: اگر خط کے ساتھ اپنا نمبر بھی لکھ بھیجتی تو تم سے خموشی کی زباں ہی میں نہیں، باقاعدہ گفت و شنید ہوجاتی۔
ستمبر٭ اسماء خان دمڑ، سنجاوی، بلوچستان (’’پیارا گھر‘‘ کی چھوٹی سی تحریر بہت پسند آئی کہ ’’مزے دار بریانی بنائیں اور مہمانوں کا دل جیتیں‘‘ مگر مہمان بھی تو کوئی خاص الخاص ہو۔) جواب: تمہارے خاص الخاص مہمان کا کس کو نہیں پتا، بس مسئلہ یہ ہے کہ وہ آکے ہی نہیں دے رہا، ورنہ تم تو کب سے آنکھیں فرشِ راہ کیے بیٹھی ہو۔ اکتوبر٭ نواب زادہ بے کار ملک، کراچی (’’اسٹائل‘‘ کی تحریر نہ ہوئی، شعراء کا جمعہ بازار ہوگیا۔) جواب: ہم نے ’’اسٹائل رائٹ اَپ‘‘ سے بہت حد تک راہِ فرار ہی اختیار کرلی ہے۔ اب آپ کو کسی اور دیوار سے سر پھوڑنا پڑے گا۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج: آپ کی ’’عرق ریزی‘‘ دیکھ کے تو ہمارے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور اتنی بےتحاشا فرصت پربھی بخدا بےحد رشک آتا ہے۔
* اس بارشمارہ چلچلاتی دھوپ میں پڑھا۔ ’’ڈے ٹریڈنگ‘‘ کے فوائدونقصانات پر معلوماتی تحریر شامل کی گئی۔ ارسلان اللہ خان تاریخ کی اہم شخصیات کی اپنے بیٹوں کو کی گئی نصیحتوں پرمبنی اَن مول تحریر لائے۔ پڑھ کے امی جان کی بچپن کی نصائح یاد آئیں اور آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایک عرصے بعد میرا پسندیدہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ شامل ہوا اوردونوں ہی واقعات درد انگیز تھے۔’ ’اسٹائل‘‘کی تحریر دل اداس کر گئی، پہناوے البتہ بہت پیارے تھے۔ ’ ’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ایک اچھوتے موضوع پر تھا۔
سیّد زاہد علی کی خواہش پڑھ کے تو ہنسی ہی چُھوٹ گئی۔ کمپاؤنڈر کو ڈاکٹر کی ڈگری…ہاہاہا۔ اگلے شمارے میں ہر ماہ کی مناسبت سے اہم ایام والا مضمون شامل تھا، یہ بہت ہی پیارا اور منفرد سلسلہ ہے۔ ’’اسٹائل بزم‘‘ میں کیف بھوپالی کی نظم دل چھو گئی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘کا ’’انکشاف‘‘ تو سرسےگزر گیا؟
بلقیس متین ’’بیکنگ سوڈے اور بیکنگ پاؤڈر‘‘ کا فرق سمجھا رہی تھیں۔ حمیرا دہی بڑوں کی تاریخ لے کر آئیں۔ ایسی تاریخ اگر سموسوں، پکوڑوں اور پانی پوری وغیرہ کی بھی بتائی جائے، توکیا ہی بات ہو۔ ’’آپا زبیدہ‘‘ تو میرے خیال میں ہر گلی، محلے کا کردار ہے۔ اپنی ای میل دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
* ’’آپ کاصفحہ‘‘میں میری ای میل شامل کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ ویسے مجھے یہ صفحہ پڑھنے میں بہت ہی لُطف آتا ہے، خصوصاً آپ کے جوابات۔ جو کسی کے لیے بہت ہی سنجیدہ ہوتے ہیں، تو کسی کے لیے کھٹے میٹھے سے۔ کسی کی رام کہانی لکھنے پر سرزنش، تو کسی کے لیے اپنائیت سے بھرپور جواب۔
یہ بلوچستان کی اسماء دمڑکہاں غائب ہے؟ خادم ملک کی ایک سے بڑھ کر ایک بونگی اور آپ کا ایک سے بڑھ کر ایک جواب، تو جیسے اس صفحے کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اُمید ہے، جلد ہی گوشۂ برقی خطوط کےحجم میں بھی کچھ اضافہ ہوگا۔ (طاہرہ طلعت)
ج: کسی بھی قسم کےاضافے کی بات، تو بس اب ایک خواب ہی ہے۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk