• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی پنجاب، ضلع وہاڑی کا ایک اہم شہر، ’’بورے والا‘‘ پاکستان کا اکتیسواں بڑا شہر ہے۔ سطحِ سمندر سے4سو فٹ کی بلندی پر واقع، سٹی آف ایجوکیشن کے نام سے مشہور یہ شہر، بذریعہ سڑک لاہور، ملتان، ساہیوال اور فیصل آباد سے منسلک ہے۔ اس کے مشرق میں عارف والا، شمال مشرق میں چیچہ وطنی، مغرب میں وہاڑی اور جنوب میں دریائے ستلج کے پار ضلع بہاول نگر واقع ہے۔

بورے والا کا پورا علاقہ زمانۂ قدیم میں کھتو وال دیوان چاؤلی مشائخ کے ماتحت تھا۔ کہتے ہیں،1905ء میں یہاں ایک چھوٹی سی قدیم بستی تھی، جسے بوڑا سنگھ نامی ایک شخص نے آباد کیا تھا اوراسی ’’چاہ بوڑے والا بستی‘‘ کی مناسبت ہی سے نئے تعمیر شدہ شہر کو ’’منڈی بوڑے والا‘‘ کہا جانے لگا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ’’بورے والا‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ 

برطانوی دورِ حکومت میں یہاں کی ’’چاہ بوڑے والا‘‘ بستی سے پاک پتن نہر جاری ہوئی، جس کے بعد یہاں زراعت پَھلنے پُھولنے لگی۔ پاک پتن نہر کی تعمیر سے علاقے میں زراعت نے ترقی کی تو یہاں مزید لوگ آباد ہوتے چلے گئے۔ 

پھر جب یہاں ریلوے اسٹیشن قائم ہوا، تورفتہ رفتہ اسے زرعی منڈی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ 1925ء کومعرضِ وجود میں آنے والی چند گھرانوں پر مشتمل آبادی، آج اپنی صنعتی اور زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ اپنے محلِ وقوع ملتان، وہاڑی، لاہور اور قصور کو آپس میں ملانے والی سڑک پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑے اور شان دار شہر کا روپ دھار چکی ہے۔

ماضی کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آج ریلوے اسٹیشن کی عمارت موجود ہے، یہیں بوڑا سنگھ کی جُھگی ہوا کرتی تھی۔ 1927ء میں اس دَور کی برطانوی حکومت نے رائے ونڈ، قصور، پاک پتن، لودھراں تک ریلوے لائن بچھا کر ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا، جس کے بعد یہ شہر صنعتی اور زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ اپنے محلِ وقوع، یعنی ملتان، وہاڑی، لاہور اور قصور کو آپس میں ملانے والی سڑک پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑے اور شان دار شہر کا روپ دھار گیا۔

بورے والا شہر کے شمال میں دریائے بیاس کی پرانی گزرگاہ ہے، جو سکھ بیاس کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں حضرت بابا حاجی دیوان چاولی مشائخ کے مزار کے قریب سکھ مذہب کے روحانی پیشوا، بابا گرو نانک صاحب کی بیٹھک موجود ہے، جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں انہوں نے 3سال چلّہ کاٹا۔ یہاں کے قدیم گاؤں، پرانا بورا میں لنگڑیال قوم آباد تھی۔ بعد ازاں، دیگر دوسری قومیں بھی آباد ہو گئیں۔1912ء کے ایکٹ سے پہلے یہ قوم جھونپڑے بنا کر رہتی تھی۔

پھر جب یہاں کچے مکانات تعمیر ہونے لگے، تو آبادی بھی بڑھنے لگی۔ 1936ء میں میونسپل کارپوریشن اور1939ء میں پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا۔ شہر میں آج بھی کئی پرانی عمارات دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے قدیم اور مشہور بازاروں میں عارف بازار، ریل بازار اور وہاڑی بازار شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں ان کی عبادت گاہیں بھی موجود تھیں۔

مرکزی جامع مسجد بورے والا یہاں کی سب سے پہلی اور قدیم مسجد ہے۔ ہندوؤں کی بڑی عبادت گاہوں میں آریا سماج مندر اور سناتن دھرمی مندر کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں کا اے آر پی چرچ عارف بازار میں ایم سی ہائی اسکول کے سامنے واقع ہے۔ شہر کی ایک بڑی پہچان، ’’بورے والا ٹیکسٹائل مل‘‘(BTM) سےکئی دہائیوں تک ہزاروں افراد کو روزگار میسّر رہا۔ اس کا شمار ایشیا کی بڑی ٹیکسٹائل مِلز میں ہوتا تھا۔

بلا شبہ، اس مل نے بورے والا کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم، 2008ء میں توانائی کے بحران اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا۔ شہریوں کو دست یاب طبّی سہولتوں کی بات کی جائے، تو بورے والا میں ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال موجود ہے، جب کہ گردونواح میں تقریباً 30بنیادی مراکز صحت کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں توسیع اور دل کے امراض کا وارڈ تعمیر کیا گیا ہے۔

سٹی آف ایجوکیشن: بورے والا شعبہ تعلیم کے ضمن میں ملحقہ تمام شہروں کی نسبت، ممتاز حیثیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ’’سٹی آف ایجوکیشن‘‘ کے نام سے بھی پُکارا جاتا ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، بورے والا کا قیام 1958ء میں عمل میں آیا، جب کہ1938ء میں قائم ہونے والا گورنمنٹ ایم سی ہائی اسکول یہاں کا سب سے قدیم اسکول ہے۔ 

نیز، ڈگری کالجز کے ساتھ ساتھ زرعی یونی ورسٹی، فیصل آباد کا سب کیمپس بھی موجود ہے۔ گرلز ڈگری کالج کے علاوہ شہر میں 10ہائر سیکنڈری اسکولز، 70 ہائی اسکولز، 35 مڈل اور تین سو 80 پرائمری اسکولز موجود ہیں، جب کہ نجی تعلیمی اداروں کی تعداد چار سو سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ 

پھر پنجاب کالج، سپریئر کالج کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تقریباً تمام اہم نجی اسکولز اور کالجز کی شاخیں شہر کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے ملتان بورڈ اور زکریا یونی ورسٹی کے نتائج دیکھے جائیں، تو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک70فی صد پوزیشن ہولڈر طلباء و طالبات کا تعلق سٹی آف ایجوکیشن بورے والا ہی سے ہے۔

دینی تعلیم کے حوالے سے ’’جامعہ عربیہ اسلامیہ‘‘قدیم ترین ادارہ ہے، جب کہ جامعہ مسجد غلّہ منڈی، جامعہ حنفیہ اور جامعہ الفاروق کا شمار بھی بڑے مدارس میں ہوتا ہے۔ ان مدارس میں حفظ و ناظرہ کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی، تفسیر، حدیث، فقہ اور اسلامک سائنسز کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

نام وَر شخصیات: بہت سی شخصیات قومی و بین الاقوامی سطح پر شہر کی پہچان بنیں۔جن میں فاتح لکشمی پور، میجر طفیل محمد شہید ، جنہوں نے اپنی بہادری اور بے لوث قربانی سے مادرِ وطن کا نام روشن کیا۔ سیاست میں میاں ممتاز خان دولتانہ (پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ)، قومی ہاکی ٹیم کی کھلاڑی رانا احسان اللہ خان، کرکٹ میں دنیا کے مایۂ ناز فاسٹ باؤلر وقار یونس، معروف عالمِ دین حاجی عبدالوہاب، بھارتی اداکار راجیش کھنہ، جب کہ ادبی شخصیات میں غلام حیدر مستانہ، علی محمد ملوک، سید مسعود ہاشمی، پروفیسر جمیل احمد عدیل اور محمود غزنی کا تعلق بھی بورے والا ہی سے ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید