صوبۂ پنجاب کے اہم ضلعے ،میاں والی کی( جس کی ترقی کا دار ومدار زراعت، معدنیات، خاص طور پر کوئلے اور دریائے سندھ سے ملنے والے پانی پر ہے) تہذیب و ثقافت، پنجابی اور پختون روایات کا حسین امتزاج ہے۔یہ شہر اپنی مہمان نوازی، بہادری، اور سرائیکی جیسی میٹھی زبان کے سبب پہچانا جاتا ہے۔
ایک زمانے میں ضلع میاں والی، زبوں حالی کا شکار تھا،لیکن آج الحمدلِلہ، ترقی کے نئے سفر پر گام زن ہے اورمیاں والی کا یہ نیا سفر صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں،بلکہ سماجی فلاح اور بہتر زندگی کی طرف بڑھتا ایک قدم ہے، جہاں مقامی افراد مل جل کر علاقے کو مزید خوش حال بنا رہے ہیں۔
درحقیقت، یہاں تعلیم، انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچا) اور مقامی صنعتوں میں بہتری کے امکانات خاصے روشن ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل، زراعت اور معدنیات وغیرہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، نتیجتاً مقامی آبادی کی سماجی و معاشی حالت بھی بہتر ہو رہی ہے۔
نیز، مستقبل میں مزید خوش حالی کی امید ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ترقی و کام رانی کے اس سفر میں انتظامیہ، حکومت اور عوام تینوں کی کاوشیں شامل ہیں، جو کسی ایک منصوبے یا شعبے تک محدود نہیں۔گزشتہ چند برسوں میں شہر سے تحصیل، تحصیل سے دیہات تک انفرااسٹرکچر، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ایسے عملی اقدامات کیے گئے، جن سے ضلعے کی تقدیر بدلنا شروع ہوئی۔
خصوصاً شہر کی تعمیر و ترقی کے ضمن میں سابق ڈپٹی کمشنر خالد جاوید گورایہ کی عملی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے ابتر سیاسی حالات کے باوجود اپنی انتظامی بصیرت، روابط اور ذاتی ساکھ کے ذریعے صوبائی ترقیاتی فنڈز کا حصول ممکن بنایا اور محدود وسائل کے باوجود اپنی ٹیم کے اراکین کی معاونت سے متعدد منصوبے تشکیل دے کر پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔
شہر کی بیوٹی فی کیشن، پی ایچ اے اتھارٹی کا قیام، تاریخی یادگاروں کی تعمیر اور شہر کی تزئین و آرائش جیسے منصوبے اُن کی انتظامی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ خوش آئند امَر یہ ہے کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر، اسد عباس مگسی نے بھی سابق ڈپٹی کمشنر کے تسلسل کو برقرار رکھا ۔وہ نہ صرف جاری منصوبوں کی تکمیل، بلکہ نئے اہداف کے لیے بھی سرگرم ہیں۔
علاوہ ازیں، صحت کے شعبے میں میاں والی نے وہ سنگِ میل عبور کیا، جو ماضی میں محض منصوبہ بندی تک محدود تھا۔ ضلعے میں 42بنیادی مراکزِ صحت میں سے 16مکمل طور پر فعال، 15تکمیل کے قریب، جب کہ 11مراکز کی اصلاحات کا کام جاری ہے۔ اسی طرح ضلع بھر کے10دیہی مراکزِ صحت (RHCs) میں سے8کی اصلاحات کے بعدبقیہ 2دیہی مراکز صحت بھی جدید سہولتوں سے آراستہ کیے جا رہے ہیں۔ ڈی ایچ کیو اسپتال، میاں والی کی پرانی عمارت، جو خاصی خستہ حالت میں تھی، اس کے ایک بڑے حصّے کی تزئین و آرائش کے بعد ڈسپینسریز کو بھی جدید خطوط پر ڈھالنے کا آغاز ہوگیا ہے۔
اسی طرح شہر میں تعلیم کا شعبہ بھی اب ایک نئے دَور میں داخل ہو رہا ہے۔ معیاری تعلیم کی فراہمی اور ہُنرمندی کی تربیت پر زور دیا جارہا ہے، جس سے نوجوان بہتر روزگار حاصل کرسکیں گے۔ بن حافظ جی، ہرنولی اور قمر مشانی جیسے علاقوں میں طلبہ کے لیے ایک اور طالبات کے لیے دو کالجز تعمیر کیے گئے ہیں، جو رواں برس ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردیئے جائیں گے۔یہ اقدام نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھائے گا، بلکہ ضلعے کی خواتین کو اپنے ہی شہر میں معیاری تعلیم تک رسائی بھی دے گا، جو ایک سماجی انقلاب سے کم نہیں۔
ایک طرف جہاں، زرعی پیداوار میں جدّت اور معدنی وسائل (جیسے کوئلہ) کے بہتر استعمال سے معیشت مضبوط ہورہی ہے، ٹیکسٹائل (کھدّر کی پیداوار) اور دیگر چھوٹے کاروبار فروغ پارہے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں پر حکومتی سطح پر توجّہ مرکوز کرنے سے علاقے میں مثبت تبدیلی آرہی ہے، تو دوسری جانب شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری پر بھی خصوصی توجّہ دی جارہی ہے۔ عوام کوصاف پانی، علاج معالجے، سڑکوں کی استرکاری سمیت دیگر بنیادی سہولتیں بہم پہنچانے کے حوالے سے کام جاری ہے۔
نیز، شہر میں جنرل بس ٹرمینل کی تعمیرِ نَو تیزی سے اپنے آخری مراحل میں ہے۔ گرین الیکٹرک بسز کےلیے اسی نئے بس ٹرمینل کا ایک حصّہ بطور الیکٹرک بس ٹرمینل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور یہیں سے گرین الیکٹرک بسز، ضلعے کے مختلف روٹس پر شہریوں کو سستی و معیاری سفری سہولت فراہم کررہی ہیں۔ جنرل بس ٹرمینل کے منصوبے کی تکمیل کے بعد ضلعے میں بین الاضلاعی سفری نظام کو جدید، آرام دہ اور باوقار سہولتوں سے آراستہ کیا جاسکے گا۔
یہ منصوبہ نہ صرف شہر کی ٹریفک مینجمینٹ کو بہتر بنائے گا، بلکہ شہریوں کو معیاری سفر بھی فراہم کرے گا۔ دوسری جانب پکی شاہ مردان (داؤدخیل) کے مقام پر ’’ایکوا پارک‘‘ جیسے تفریحی اور عوام دوست منصوبے، مقامی سیّاحت کو فروغ دینے کے ساتھ، معاشی سرگرمیوں کے نئے دروازے بھی کھول رہے ہیں۔ اسی طرح داؤدخیل، واں بھچراں اور کندیاں میں ریسکیو1122کی نئی عمارات بھی مکمل ہونے کے بعد فعال ہوچکی ہیں۔
پنجاب لاء انفورسمینٹ اتھارٹی کی نئی سرکاری عمارت بھی زیرِ تعمیر ہے اور توقع ہے کہ کم سے کم عرصے میں پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گی۔ اسی طرح جہاز چوک کے قریب ریسکیو1122کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کی عمارت سے لے کر ڈی سی ہاؤس تک ’’وال آف میاں والی‘‘ تعمیر کی گئی ہے، جس پر ضلعے کی تاریخ، اہم شخصیات اور کلچر کو نمایاں طور پر انتہائی خُوب صُورت انداز میں دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ان تمام تر ترقیاتی منصوبوں میں جہاں دیگر سرکاری محکموں نے اپنا اپنا حصّہ ڈالا، وہیں اُنھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں محکمہ بلڈنگ ڈویژن کے سربراہ اور اُن کی ٹیم کی اَن تھک محنت بھی شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات ریاستی رِٹ کے استحکام اور قانون کی عمل داری کے عملی مظاہر ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ میاں والی کی ترقی محض ضلعی کارکردگی نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف کے سیاسی وژن کا عکس ہے، تو غلط نہ ہوگا۔
کیوں کہ انہوں نے صوبے کے پس ماندہ اضلاع کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے جو بیانیہ دیا، آج میاں والی اس کی عملی تصویر بن چکا ہے۔ اسی طرح ائرایمبولینس سروس کا میاں والی سے شروع ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ حکومتِ پنجاب اب دُور دراز علاقوں میں انسانی جانوں کے تحفّظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرچکی ہے۔
یقیناً یہ وہ اقدامات ہیں، جو سیاسی فیصلوں سے آگے بڑھ کر پالیسی کے تسلسل اور عوامی مفاد کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار اور شفّافیت برقرار رہی، توامید ہے آنے والے برسوں میں میاں والی، پنجاب کے ترقی یافتہ اضلاع کی صف میں فخر سے کھڑا ہوگا، جہاں ترقی صرف نظر نہیں آتی، بلکہ عوام اسے واضح طور پر محسوس بھی کرتے ہیں۔