کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شر کت کا معاملہ تاحال غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے، خود کھلاڑی بھی گومگوں کیفیت کا شکار ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا نےبڑھکیں مارتے ہوئےپی سی بی کی جانب سے بنگلہ دیش کی حمایت پر کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ورلڈ کپ سے بائیکاٹ کرنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں، وہ پہلے ہی اپنے میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے، اس قسم کی باتیں صرف معاملے کو مزید بھڑ کانے کے مترادف ہے، ایونٹ سے دستبرداری کا فیصلہ پاکستان کرکٹ کیلئے تباہ کن ہوگا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ متبادل ٹیم ہوگی، بائیکاٹ سے بنگلہ دیش کو بھاری مالی نقصان ہوگا، اور پاکستان نے ایساکوئی فیصلہ لیا تو اسے بھی کڑے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی شرکت کے حوالے سے آئی سی سی کا فیصلہ بدھ تک متوقع ہے۔ ریں اثنا بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس نے منگل کو ڈھاکا میں میڈیا نے ان سے ورلڈکپ سے متعلق سوال پر انہوں برجستہ جواب دیا کہ ہمیں یہ بھی یقین نہیں ہے کہ ہم جائیں گے یا نہیں، بورڈ حکام نے بھارت جانے کے معاملے پر بطور کپتان مجھ سے کوئی مشاورت کی نہ رائے لی ہے، معاملہ بورڈ اور حکومت کے درمیان ہے۔ بنگلہ دیش میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرول نے کہا کہ بنگلہ دیش کوئی بھی غیر معقول شرائط قبول نہیں کرے گا اگر آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤ کے سامنے جھکتی اور ہم پر کوئی غیر منطقی شرط عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ دباؤ میں بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے بھارت جانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ایسی مثالیں موجود ہیں، جب بھارت نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کیا تو آئی سی سی نے مقام تبدیل کر دیا۔ ٹیم نے محنت سے ورلڈ کپ میں جگہ بنائی ہے، کوئی ہمیں پیچھے دھکلینے کی کوشش کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ حکومت اپنے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر آئی سی سی کوئی ایسا فیصلہ لیتی ہے جو بنگلہ دیش کے مفادات کے خلاف ہوگا، تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔