کراچی ( اسٹاف رپورٹر )گل پلازہ سے سرچ آپریشن کے دوران ایک دکان سے 25 سے 30 افراد کی لاشیں اور انسانی اعضاء ملے ہیں۔جس کے بعد سانحہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 60 ہوگئی۔ ڈی آئی جی سائوتھ کا کہنا ہے کہ تمام لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، ملبہ ہٹانے کا کام روکدیا گیا ہےلاشیں اور باقیات نکالنے کا کام جاری ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جنکی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کیلئے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، پولیس کے مطابق مزید چار افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی ہے جن میں محمد شہروز، مریم نور، محمد رضوان اور محمد علی گھانچی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق ان چار افراد کو ملا کر پولیس ریکارڈ کے مطابق 12 افراد کی شناخت کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا کے مطابق میزنائن فلور پر واقع دبئی کراکری شاپ سے 25 سے 30 مزید افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک فیملی کی بھی اسی دکان میں اطلاع تھی۔فلاحی ادارے کے رضا کار نے بتایا کہ دکان میں 25 سے 30 کے قریب لاشیں ہیں لیکن لاشوں کے اعضا مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ڈی آئی جی سائوتھ کے مطابق لاشوں اور اعضاء نکلنے کے بعد کلئیر ہو سکے گا کہ کتنے افراد کی لاشیں تھیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے اور پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکیلئے دکان میں بندکرلیا تھا۔ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہے کہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں۔ ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے۔واقعہ کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے۔ دکان میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے بلکہ میزنائن فلور 20 سے 25 لاشیں ملنے کی اطلاعات ہیں۔ میزنائن فلور سے ایک دکان سے لاشیں یا انسانی اعضاء ملے ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں کو دکان سے لاشوں کے اعضاء ملے ہیں انکی تعداد کیا ہے سرچنگ جاری ہے۔انسانی اعضاء اور لاشیں میزنائن فلور پر کراکری کی دکانوں سے ملی ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق ہمارے پاس اب تک دو دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں۔ ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔ ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔ سانحہ میں لاپتہ افراد کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔ ایک اور لاپتہ شہری 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہلخانہ نے ڈی سی آفس سے رابطہ کیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جالیاں اور گرل کاٹنے کیلئے کٹر کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔اسنارکل اور فائر بریگیڈ کو پیچھے کر دیا گیا ہے تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے۔عمارت کے اندر درجہ حرارت ابھی بھی زیادہ ہے جسکی وجہ سے کام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ڈی سی ساوتھ اور ایس ایس پی سٹی نے میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو کا عمل مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ لاشوں کی شناخت کاعمل بھی جاری ہے۔ ملبہ اٹھانے کے بعد ایس بی سی اے کی رپورٹ کے مطابق خستہ حال عمارت منہدم کی جاسکتی ہے۔ تمام ریسکیو ادارے متحرک ہیں۔