• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں FIR درج کرنے کا رواج پورے ملک سے الگ ہے، جسٹس اشتیاق

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیتے ہو ئے کہا ہے کہ سندھ میں FIR درج کرنے کا رواج پورے ملک سے الگ ہے ،پولیس کو قتل کی اطلاع پر روزنامچہ لکھنے کی بجائے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرلینی چاہیے، سندھ پولس صرف رپٹ درج کر کے پراسیکیوشن کی شہادتوں کو خراب کردیتی ہے، ایسا کرنے والے اہلکار وں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201کے تحت قانونی کارروائی ہونی چاہیے ،جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہوراورجسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز قتل کے مقدمہ کے سزا یافتہ مجرم دین محمد کی بریت کی درخواست کی سماعت کی تومجرم کے وکیل رانا کاشف نے موقف اختیار کیا کہ وقوعہ اپریل 2012 میں سندھ میں پیش آیا تھا، جس کی ایف آئی آر دو دن سات گھنٹہ تاخیر سے درج کی گئی تھی۔
اہم خبریں سے مزید