کراچی (نیوز ڈیسک) عالمی میڈیاکا کہنا ہے کہ پاکستان میں شہری آلودگی کے بڑھتے بحران کیخلاف خود متحرک ہو گئے،عوام خود آگاہی، ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی کے حصول کے لیے اقدامات کر کے اپنی حفاظت یقینی بنارہے ہیں ۔ اسلام آباد میں 3D پرنٹڈ چھوٹے مانیٹرز کا استعمال، یوجا گروپس قائم اور خاندانوں نے اپنے شیڈول بدل لیے۔نوجوان ماحولیاتی کارکن کاصاف ہوا حق کیلئے مقدمہ ،لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کو عوامی صحت کیلئےخطرہ تسلیم کیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شہری آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف خود متحرک ہو گئے ہیں، جہاں لوگ ایئر مانیٹرز اور قانونی دستاویزات کے ذریعے صاف ہوا کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ 45 سالہ انجینئر عابد عمر نے ایک دہائی قبل محسوس کیا کہ حکومت کی ’’موسمی دھند‘‘ دراصل نئی خطرناک صورتحال ہے، اور انہوں نے 2016 میں پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹیو (PAQI) کے ذریعے مانیٹرنگ کا آغاز کیا، جو اب ملک بھر میں 150 آلات پر مشتمل ہے۔ PAQI کے ڈیٹا نے لاہور ہائی کورٹ میں 2017 کے کیس میں سموگ کو صحت کے لیے خطرہ تسلیم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے بعد پنجاب حکومت نے 44 سرکاری اسٹیشنز قائم کیے۔