• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں آگ لگنے کے واقعات نئے نہیں، سینکڑوں شہری جاں بحق ہو چکے

کراچی( ثاقب صغیر )کراچی میں آگ لگنے کے واقعات نئے نہیں ہیں۔شہر میں آتشزدگی کے واقعات میں اب تک سینکڑوں شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔کراچی کی تاریخ میں آگ لگنے کا سب سے بڑا واقعہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائز میں پیش آیا جس میں آتشزدگی کے نتیجے میں 289 ملازمین بشمول خواتین جاں بحق ہوئیں۔فیکٹری کے ایگزٹس بند تھے، بارڈ شدہ کھڑکیاں تھیں جس کے باعث لوگ اندر پھنس گئے تھے۔تحقیقات میں الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے ساتھ حفاظتی تدابیر کی عدم پابندی اور فیکٹری میں آگ لگائے جانے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہوئیں۔25 دسمبر 2023 کو کریم آباد میں واقع عرشی شاپنگ مال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 4 افراد جاں بحق جبکہ تمام دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں ۔25 نومبر 2023 کو آر جے شاپنگ مال کے چوتھے فلور پر لگنے والی آگ سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 35 زخمی ہوئے۔ابتدائی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی۔اپریل 2023 میں نیو کراچی کے صنعتی ایریا کی فیکٹری میں لگنے والی آگ میں امدادی کاموں کے دوران عمارت گرنے سے 4 فائر فائٹرز جاں بحق ہوئے۔2021 میں گورنگی کے تھانہ مہران ٹاؤن میں واقع فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 16 ملازمین جاں بحق ہوئے۔
اہم خبریں سے مزید