اسلام آباد(قاسم عباسی)پاکستان تیزی سے ایک تنخواہ پر انحصار کرنے والا معاشرہ بنتا جا رہا ہے، جہاں قومی افرادی قوت میں ملازمین کا تناسب بڑھ کر 60فیصد ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی روایتی خود روزگاری سے نمایاں انحراف کی عکاس ہے اوریوں ملازمت کی قیمت خودروزگاری اور خاندانی کاروباروں کو چکانا پڑرہی ہے۔یہ انکشاف گیلپ پاکستان کی ایک جامع رپورٹ میں کیا گیا ہے جو جمعرات کو جاری کی گئی۔ رپورٹ میں 2000 سے 2025 کے دوران ہونے والے ہاؤس ہولڈ انکم اینڈ ایکسپنڈیچر سرویز (HIES) کا تجزیہ شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں تنخواہ دار افراد کا تناسب 47 فیصد تھا، جو اب نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی بالخصوص شہری آبادی میں اضافے اور بدلتے ہوئے معاشی ڈھانچے کا نتیجہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک عام پاکستانی اب روزگار کے لیے کس طرح کے ذرائع پر انحصار کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اجرت پر مبنی محنت میں اضافے کی قیمت خود روزگاری اور خاندانی کاروباروں کو چکانا پڑی ہے۔