• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا معیشت کی کمزوریوں کا عکاس، مفتاح اسماعیل

لاہور(خبر نگار،شوبز رپورٹر ) سابق وزیر خزانہ اور سیاسی معیشت کے ماہر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کا بار بار عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف ) کے پروگرامز کی طرف جانا کسی پالیسی انتخاب کے بجائے معیشت کی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ وسائل نوجوانوں اور طلبہ پر خرچ کیے جائیں تو طویل مدتی فوائد ہونگے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اصل ترقی سیاسی و معاشی مسائل کے حل کا نتیجہ ہوتی ہے۔روبینہ اختر نے کہا پاکستان کو درپیش اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجوہات پر توجہ کی ضرورت ہے۔علی چیمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بنگلہ دیش کی طرز پر ترقی کرتا تو فی کس آمدن دگنا ہوتی۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو الحمرا آرٹس کونسل میں تھنک فیسٹ کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی پر ہونے والے سیشن میں کہی۔ الحمرا میں تین روزہ تھنک فیسٹ افکار تازہ اختتام پذیر ہوگیا۔ آئی ایم ایف پروگرامز سے متعلق سوالات کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب دیوالیہ پن کا خطرہ ہو اور بین الاقوامی بینک قرض دینا بند کر دیں تو آئی ایم ایف آخری سہارا بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے تناسب سے حجم تقریباً 12 فیصد ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے جبکہ مسلسل مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے ملک کو محدود آپشنز تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا بجٹ خسارہ تقریباً 7.5 فیصد جی ڈی پی ہے جس کے باعث حکومت کو خسارے کی فنانسنگ کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زیادہ قرض لینے یا نوٹ چھاپنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں پاکستانی روپے کی قدر میں اوسطاً سالانہ سات فیصد کمی ہوئی جو دیرینہ معاشی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔

ملک بھر سے سے مزید