سوات، ملاکنڈ (نمائند گان جنگ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غلط بیانی کررہی ہے، زبردستی علاقہ چھوڑنے پر مجبورکیا گیا، اب اپنے فیصلوں سے مکر رہے ہیں، بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کیخلاف کھل کر کھڑے ہیں اور خیبرپختونخوا پر گورنر راج یا کسی بھی غیر آئینی اقدام کی سازش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا، اگر تیراہ کے لوگوں کو نکلنے کا نہیں کہا گیا تو کیا وہ شادی میں جارہے تھے، تیراہ میں لوگوں کونقل مکانی پر مجبور کیا گیا، اگر دو تین دن میں آپریشن نہ روکا گیا تو حکمت عملی بنائینگے، اگر بانی پی ٹی آئی جیل سے باہرآگئےتوکسی کی خیر نہیں، اس بار پوری تیاری کیساتھ اسلام آباد جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگورہ میں اسٹریٹ موومنٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہےکہ تیراہ متاثرین نے اپنی مرضی سے نقل مکانی کی حالانکہ ان کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا بند کمروں کے فیصلے پختونوں پر مسلط کرنے کا نتیجہ یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے فیصلوں سے مکر رہے ہیں، متاثرین کو سخت ترین حالات کا سامنا ہے اور یہ سب فارم 47 کی جعلی حکومت کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتوار کے دن خیبر میں آفرادی قوم کا جرگہ بلایا ہے، یہ عام بیان نہیں، اس کا مقصد ہمیں اشتعال دلانا ہےتاہم مقامی ذرائع اور متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر اکتوبر میں موصول ہونے والی تحریری وارننگ پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا اور نقل مکانی کے آغاز سے قبل انتظامات مکمل کر لیے جاتے تو برفباری کے دوران ہزاروں افراد کو درپیش مشکلات سے بچایا جا سکتا تھا۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس غفلت کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کیخلاف گورنر راج لگانے، نااہل کرنے اور حتیٰ کہ قتل تک کے منصوبے بنائے گئے جبکہ انکے آبائی حلقے تیرہ میں آپریشن شروع کرکے لوگوں کو بے گھر کیا گیا۔