کراچی (طاہر عزیز۔اسٹاف رپورٹر)کریم آباد چورنگی انڈرپاس کے اثرات زیر تعمیرمنور چورنگی انڈرپاس گلستان جوہر پر بھی نظر آنے لگے دونوں منصوبوں میں یو ٹیلٹی سروسز کی منتقلی آڑے آنے لگی منور چورنگی انڈر پاس میں آٹھ انچ قطر سوئی گیس کی دو لائنوں کی شفٹنگ پروجیکٹ کے لئے مسلہ بن گئی ہے ذرائع کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے شفٹنگ کے لئے 6کروڑ روپے مانگ لئے اور تجویز دی ہے کہ لائینں کٹ کرنے کے بعد پورے انڈر پاس کیساتھ گھمائیں گے جبکہ پروجیکٹ پر تعینات انجینئرز کا مشورہ ہے کہ انڈر پاس کے نیچے سے یا پھر سائیڈ میں فٹ پاتھ میں انہیں بچھا دیا جائے زرائع کا کہنا ہے فیصلہ ہونے اور لائنوں کی منتقلی میں دو سے تین ماہ کا عرصہ مزید درکار ہو گاواضح رہے منور چورنگی انڈر پاس پر کام کا آغاز جولائی 2025میں ہوا تھا اور اسے دوسال میں مکمل کیا جانا ہےمنصوبے کی کل لاگت 2026ملین روپے ہے یاد رہے کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ بھی یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی میں تاخیر ہی بن رہی ہےکے الیکٹرک جس نے5565میٹرکیبل ڈالنا تھا ذرائع کے مطابق اب تک3000 میٹرکے قریب ڈال سکی ہے جبکہ7 پی ایم ٹی اور13کھمبوں کی منتقلی ابھی تک باقی ہے3810 ملین روپے کی لاگت سے اسے دسمبر 2025 تک مکمل کیا جانا تھا اس کا 85فی صد کام مکمل ہے لیکن شفٹنگ کے باعث تاخیر کا شکار ہو رہا ہےدونوںزیر تعمیر منصوبے انتہائی گنجان آباد علاقوں میں ہونے کے باعث لوگوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سندھ انہیں جلد مکمل کرے تاکہ انہیں ٹریفک جام سے نجات مل سکے۔