پاکستان میں تعلیم کا شعبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بُحران کا شکار ہے اور اس کے بنیادی اسباب میں اربابِ بست وکُشاد کی جانب سے ایجوکیشن سیکٹر کو نظرانداز کرنا، بدانتظامی، نجی تعلیمی اداروں کی بےلگام وسعت پذیری اور ناقص حکمتِ عملی قابلِ ذکر ہیں۔
تعلیم، جو کسی بھی مُلک کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقّی کی بنیاد ہوتی ہے، وطنِ عزیز میں طبقاتی تقسیم، تجارتی رویّوں اور انتظامی خامیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، جب کہ ایک منظّم، طاقت وَر اور احتساب سے بالاتر پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر نے نظامِ تعلیم کے تصوّر ہی کو بدل کر رکھ دیاہے۔
نتیجتاً، درس وتدریس اصلاحِ معاشرہ کی بجائے سرمائے کا حصول کا ذریعہ بن کے رہ گئی ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ یہ سرمایہ بچّوں کے والدین سے مَن مانے طریقوں سے وصول کیا جاتا ہے اور ریاست اس عمل کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
ذیل میں اُن تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو مُلک کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں پائی جانے والی خرابیوں کا سبب ہیں۔
1 ۔ فیسز میں غیرمنصفانہ اضافہ اور والدین پر بڑھتا بوجھ: نجی اسکولز کی انتظامیہ کوئی جواز پیش کیے بغیر ہر سال فیسز میں10فی صد یا اس سے بھی زیادہ اضافہ کردیتی ہے۔ عام طور پر والدین محدود آمدن اور معاشی مشکلات کے باوجود اپنے بچّوں کو پرائیویٹ اسکولز سے نہیں نکلوا سکتے اور ان کی اِسی کم زوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نجی اسکولز کی انتظامیہ مختلف مدات کے تحت ان سے ہر چند ماہ بعد چارجز ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
فیس اسٹرکچر کی یہ عدم شفّافیت والدین کو مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رکھتی ہے، جب کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے شکایات سُننے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کرتے اور یہ صُورتِ حال تعلیم کو بنیادی حق کی بجائے جبر میں بدل رہی ہے۔
2۔ کم زور قوانین، قانونی خلا اور حکومتی پسپائی: گرچہ مُلک میں نجی اسکولز کی ریگولیشن کے لیے قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے، اکثر نجی اسکولز رجسٹرڈ ہی نہیں یا پھر ان کی رجسٹریشن غلط معلومات پر مبنی ہے۔
کئی بااثر اسکول مالکان حکومتی احکامات کو خاطر ہی میں نہیں لاتے، نیز وہ فیس سے متعلق قوانین کو چیلنج کرتے ہیں اور پھر عدالتی نظام میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
دوسری جانب متعلقہ اداروں کے پاس مطلوبہ افرادی قوّت ہے اور نہ نگرانی کا نظام اور نہ ہی سزا و جزا کا کوئی فعال طریقۂ کار موجود ہے اور اِن ہی کم زوریوں نے نجی اسکولز کو ایک نیم خُود مختار تجارتی ادارے کی حیثیت دے دی ہے۔
3۔ ناقص معیارِ تعلیم: بھاری بھرکم فیسز لینے والے بیش ترنجی اسکولز تعلیمی معیار برقرار رکھنے میں بھی ناکام ہیں، جب کہ دوسری جانب غیرتربیت یافتہ اساتذہ، غیرمعیاری نصاب اور اس میں بار بار کی جانے والی غیرمنطقی تبدیلیوں اور گریڈز کی غیر ضروری دوڑ نے تعلیمی نظام کو غیرمربوط کر دیا ہے۔
علاوہ ازیں، طلبہ کا سیکھنے کا عمل رٹّے لگانے، ٹیسٹ پاس کرنے اور اچّھے مارکس حاصل کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اُن کی تخلیقی سوچ، کردارسازی تو کہیں پس منظر میں چلی گئی ہے۔ نتیجتاً، والدین بھاری بھرکم فیسز دے کر بھی اپنے بچّوں کو معیاری تعلیم دِلوانے سے محروم ہیں، جس کے دعوے اکثر اسکول انتظامیہ کرتی ہے۔
4۔ سرکاری درس گاہوں کی ناگفتہ بہ حالت: درحقیقت، سرکاری اسکولز کی تباہ حالی نجی تعلیمی اداروں کی ترقّی کی بنیاد ہے۔ بنیادی سہولتوں کی کمی،اساتذہ کی غیرحاضری، ناقص انفرااسٹرکچر، ناقص پالیسیز اور حکومت کی غیرسنجیدگی نے سرکاری اسکولز سے عوام کا اعتماد ختم کردیا ہے اور جب ریاست اپنی ذمّے داری نہیں نبھاتی، تو شہریوں کو مجبوراً نجی اداروں ہی کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ اس رجحان نے ہمارے نظامِ تعلیم کو ایک ایسے طبقاتی ماڈل میں تبدیل کردیا ہے، جہاں معیاری تعلیم صرف امیر والدین کے بچّے ہی حاصل کرپاتے ہیں، جب کہ باقی بچّے پس ماندہ رہ جاتے ہیں۔
5۔ والدین کا معاشی اور نفسیاتی استحصال: عام طور پر نجی اسکولز کی انتظامیہ معیاری تعلیم کے ساتھ والدین کی عزّتِ نفس اور اُن پر پڑنے والے نفسیاتی دباؤ کو بھی نظر انداز کردیتی ہے۔ والدین کے لیے ماہانہ فیس کے علاوہ بُکس پیکیجز، یونی فارمز کی مخصوص دُکانوں سے خریداری، سالانہ فنڈز، ایڈوانس اور ایڈمیشن فیس سمیت دیگر چارجز مستقل پریشانی کا سبب بنے رہتے ہیں۔ تاہم، اولاد کے بہتر مستقبل کی فکر اُنہیں یہ نفسیاتی دباؤ برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے، لیکن بہرحال یہ ’’سمجھوتا‘‘ اُن کی معاشی حالت کم زور کرتا ہے۔
6۔ اساتذہ کے لیے غیر محفوظ، غیر پیشہ ورانہ ماحول: بیش تر نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو وہ عزّت، تحفّظ اور سہولتیں نہیں ملتیں، جن کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ قلیل تن خواہیں، کانٹریکٹ کے بغیر فرائض کی انجام دہی، غیرضروری دباؤ، غیرتربیت یافتہ انتظامی عملہ اور حقوق کا فقدان اساتذہ کو غیرمحفوظ ماحول کی جانب دھکیل دیتا ہے اور جب اساتذہ خُود عدم استحکام کا شکار ہوں، تو وہ طلبہ کو کیسے معیاری تعلیم و تربیت فراہم کرسکتے ہیں۔ نتیجتاً، پورا تعلیمی نظام ہی کم زور اور غیر مؤثر ہوکر رہ جاتا ہے۔
7۔معاشرتی اور تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ: نجی اسکولز کی بھاری بھرکم فیسوں نے ہمارے معاشرے میں ایک نئے طبقاتی نظام کو جنم دیا ہے۔ یعنی امیر والدین کے بچّے جدید تعلیمی ماحول میں پنپتے ہیں، جب کہ متوسّط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچّے کم زور تعلیمی ڈھانچے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور آگے چل کریہ عدم مساوات معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ مواقع میں واضح فرق پیدا کردیتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا، تو پاکستان میں تعلیم، امارت اور افلاس کی درمیانی لکیر مزید گہری کر دے گی۔
8۔ ڈونیشنز، داخلہ فیس اور پوشیدہ تجارتی حربے: نجی اسکولز کی انتظامیہ کی جانب سے ڈونیشنز اور داخلہ فیس کی شکل میں والدین سے رقم ہتھیانے کا غیر قانونی رجحان عام ہے، جب کہ کُتب اور یونی فارمز مخصوص وینڈرز سے خریدنے کی شرط والدین کو زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
9۔ امتحانات کا دباؤ اور طلبہ کی ذہنی صحت: بچّوں سے غیر فطری کارکردگی کی توقّع، امتحانات کے دباؤ، اضافی کوچنگ اور مقابلے کے ماحول نے طلبہ کو ذہنی و جذباتی بُحران کا شکار کردیا ہے۔ نتیجتاً اُن میں خوف، بے چینی، اعتماد کی کمی اورشدید تھکن جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں اور یہ صُورتِ حال ایک پوری نسل کی ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
10۔ ناقص حکومتی پالیسیوں، اصلاحات کی عدم موجودگی: بدقسمتی سے ہماری ریاست نے شعبۂ تعلیم کو کبھی بھی وہ اہمیت نہیں دی، جس کا وہ مستحق ہے۔ تعلیمی بجٹ کی کمی، پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان، ادارہ جاتی کم زوریوں اور سیاسی مداخلت نے نظامِ تعلیم کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے، جب کہ دوسری جانب پرائیویٹ اسکولز سیکٹر کی اصلاح کے لیے کبھی کوئی قانون سازی کی گئی اور نہ ہی کوئی مضبوط فریم ورک بنایا گیا، نتیجتاً بُحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بُحران کے پائے دار حل کے لیے چند تجاویز
ذیل میں شعبۂ تعلیم کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چند تجاویز پیش کی جا رہی ہے، جن پر فوری عمل درآمد کر کے اس شعبے کو بُحران سے نکالا جا سکتا ہے۔
٭ریاست کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایسے سخت، مؤثر اور قابلِ عمل قوانین نافذ کرے کہ جن کے نتیجے میں والدین، طلبہ اور اساتذہ کے مفادات محفوظ رہیں۔
٭نجی اسکولز کی فیسزکے ضمن میں قواعد و ضوابط تشکیل دیے جائیں، جو اسکول مالکان کو فیسز میں حد سے زیادہ اضافے سے باز رکھیں۔
٭ہر نجی اسکول کی سالانہ آمدن کا آڈٹ کیا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
٭والدین اور اسکول کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ ’’والدین، اسکول رابطہ کمیٹیاں‘‘ قائم کی جائیں اورانہیں بااختیار بنایا جائے۔
٭سرکاری اسکولزمیں انفرااسٹرکچر کی بہتری، اساتذہ کی کمی پوری کرنےاور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
٭اساتذہ کے لیے جدید پیشہ ورانہ تربیت لازمی قراردی جائے تاکہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے مطابق طلبہ کی بہتر رہنمائی کرسکیں۔
٭یک ساں قومی نصاب کو صرف اعلان کی حد تک محدودنہ رکھا جائے، بلکہ عملی طور پر پورے مُلک میں نافذ کیا جائے۔
٭نجی اسکولز کے اساتذہ و ملازمین کا باقاعدہ سروس اسٹرکچر اور تنخواہ کا معیار مقرّر کیا جائے اور ملازمین کے حقوق کو تحفّظ فراہم کیاجائے۔
٭نجی اسکولز کی شفّاف نگرانی کے لیے ڈیجیٹل فیس مانیٹرنگ سسٹم تیار کیا جائے تاکہ والدین کو اضافی فیس یا بےضابطگیوں سے بروقت آگہی مل سکے۔
٭والدین کی شکایات سننے، اُنہیں حل کرنے اور فوری ایکشن لینے کے لیے مؤثر، تیز رفتار اور قابلِ رسائی نظام قائم کیا جائے۔
یاد رہے، پاکستان کے تعلیمی نظام میں حقیقی بہتری اُسی وقت ممکن ہے، جب ریاست، اساتذہ، والدین، نجی و سرکاری تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز اپنی ذمّے داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔
ریاست کا بنیادی کردار پالیسی سازی، بجٹ کی مؤثر تقسیم اور شفّاف نگرانی ہے، جب کہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، جدید تدریسی طریقوں اور طلبہ کی انفرادی ضروریات کو سمجھتے ہوئے معیاری تعلیم فراہم کریں۔
والدین کو چاہیے، وہ بچّوں کی تعلیم میں دل چسپی لیں اور ان کی حاضری، سیکھنے کے عمل اور اسکول کے ماحول پر نظر رکھیں۔ نجی اسکولز مالکان اپنا کردار صرف پیسا کمانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ قومی ضرورت کے مطابق معیاری تعلیم کو قابلِ رسائی بنانے میں اپنا حصّہ ڈالیں، جب کہ سرکاری اسکولوں میں انفرااسٹرکچر، اساتذہ کی تربیت اور نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔
اِسی طرح سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار آگہی پھیلانا، غیر منصفانہ پالیسیوں کی نشان دہی اور عوامی دباؤ کے ذریعے اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے حصّے کا کام پوری دیانت داری سے انجام دیں گے، تو ہر بچّے کی معیاری تعلیم تک رسائی محض خواب نہیں رہے گی۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں۔)