اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے حتمی ہونے کےبعد یورپی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں پاکستان کو حاصل طویل عرصے سے چلا آ رہا مسابقتی ٹیرف فائدہ شدید طور پر متاثر ہو گیا ہے۔معاہدے کے بعد بھارتی و پاکستانی برآمدات پر یکساں ٹیرف ہوگا،ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کیلیے سنگین چیلنج بن گیا ہے ، جو ملک کے زرِمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔یورپی یونین پاکستان کی سب سے اہم برآمدی منڈی ہے، جہاں مالی سال 2025 میں پاکستان کی 27.2 فیصد برآمدات (تقریباً 8.8 ارب ڈالر) گئیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں انحصار مزید گہرا ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 39 فیصد ٹیکسٹائل برآمدات، جن کی مالیت 7 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، یورپی منڈی میں فروخت ہوتی ہیں۔وزارتِ تجارت کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یورپی یونین۔بھارت تجارتی معاہدے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے پاکستان کی برآمدات پر براہِ راست اور نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد یورپی منڈی میں پاکستانی اور بھارتی مصنوعات پر تقریباً یکساں کسٹمز ڈیوٹیز لاگو ہوں گی۔