کراچی (افضل ندیم ڈوگر)ائر بریگیڈ میں نامساعد حالات، گوناں گوں مسائل، آگ کیسے بجھائی جائے؟ ہیڈکوارٹر میں 6 مرتبہ بجلی کی 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، فائر بریگیڈ کو پانی کی محدود فراہمی 450 ملازمین کی کمی، ہیڈکوارٹر کنٹرول روم میں 4 فون اٹینڈ کرنے کیلئے صرف 1 آپریٹر ہے۔ فائر بریگیڈ کا کمیونیکیشن سسٹم سال 2011 میں خراب ہوا جو 15 سال سے بند ہے، حکام ملازمین کی انشورنس، میڈیکل نہیں، علاج پر خود پیسے خرچ کرکے بل وصولی میں مشکلات ہیں ریسکیو 1122 میں 1 شفٹ میں 36 اپریٹرز، 224 فائر فائٹرز مگر صرف 3 گاڑیاں ہیں،کراچی کے گل پلازہ میں اگ لگنے اور نہ بجھا پانے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایسے میں محکمہ فائر بریگیڈ کی مشکلات اور وسائل کے فقدان کے حوالے سے کوئی بات چیت سامنے نہیں آرہی۔ جس سے یہ خدشات سامنے آرہے ہیں کہ شہر میں کہیں خدانخواستہ اس نوعیت کی آگ اگر پھر لگ گئی تو موجودہ حالات کے پیش نظر فوری بجھانا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور اس طرح کے کئی اداروں پر سالانہ اربوں روپے کے اخراجات کیے جا رہے ہیں مگر منصوبہ بندی نہ ہونے سے نتائج صفر انے آرہے رہے ہیں۔ اس نمائندے نے دورہ کیا تو پتہ چلا کہ فائر ہیڈ کوارٹر میں کسی کچی آبادی کی طرح یومیہ 12 گھنٹے کی وڈ شیڈنگ ہے۔ صبح ساڑھے 7 بجے سے ساڑھے 8 بجے، صبح 10 بجے سے ساڑھے 12 بجے، دوپہر 2 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے، شام ساڑھے 6 بجے سے رات ساڑھے 9 بجے اور رات ساڑھے 10 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک بجلی بند ہوتی ہے۔ دن میں امور چلانے کیلئے جنریٹر اور رات میں بلب جلانے کیلئے ایک یو پی ایس کام کرتا ہے۔