• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے

کراچی ( رفیق مانگٹ) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات، ایران کے لیے وقت ختم ہونےکی وارننگ اور خلیج میں امریکی فوجی طاقت کی غیر معمولی نقل و حرکت نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کیا امریکا ایران پر ایک اور براہِ راست حملے کی تیاری کر رہا ہے؟ امریکا، جو دنیا کی سب سے طاقتور فوج رکھتا ہے، ماضی میں بھی ایران کو نشانہ بنا چکا ہے۔ گزشتہ برس جون میں آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں 100 سے زائد طیارے شامل تھے اور بی-2 اسٹیلتھ بمبارز نے امریکا سے براہِ راست پرواز کر کے بنکر بسٹر بم گرائے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایک بار پھر ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے؟ صدر ٹرمپ کی تازہ سوشل میڈیا پوسٹس نے اس خدشے کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔
اہم خبریں سے مزید