اسلام آباد ( طاہر خلیل )تیراہ آپریشن حقائق بمقابلہ پروپیگنڈہ ، پی ٹی آئی حکومت نے وفاقی حکومت فوج کوبدنام کرنے کیلئے منظم ،بدنیتی پر مبنی مہم شروع کی، سیکورٹی ذرائع کےمطابق جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے تیراہ دہشت گردی کا ایک بڑا گڑھ بن چکا تھا، جہاں متعدد ہائی پروفائل دہشت گردانہ واقعات رونما ہوئے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک وسیع دہشت گردی–جرائم گٹھ جوڑ وجود میں آیا جس کے روابط افغان طالبان اور منشیات کے نیٹ ورکس سے جا ملے۔ بے گناہ جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے تیراہ کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ قبائلی عمائدین کے متعدد جرگے منعقد کیے گئے، جن میں دہشت گردوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خاتمے کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا،مقامی مشران کو اپنی مرضی کا حل تجویز کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے تیراہ میں مقیم خوارج سے رابطہ کر کے انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ سیکیورٹی فورسز کے متوقع IBOs کے دوران کولیٹرل ڈیمیج سے بچا جا سکے خوارج نے اس درخواست کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔