• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق اور ان سے حسن سلوک کی اہمیت

ڈاکٹر علّامہ ہشام الٰہی ظہیر

پڑوسیوں کے حقوق ایک ایسا موضوع ہے جو انسانی معاشرے کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، جہاں ہر دل ایک دوسرے کے درد سے لرزتا ہے اور ہر روح ایک دوسرے کی خوشی میں شامل ہوتی ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کا پڑوسی آپ کا سب سے قریب ترین ساتھی ہے، جو رات کی تنہائی میں روشنی اور دن کی ہلچل میں سکون فراہم کرتا ہے۔ اگر پڑوسی خوش نہ ہو تو گھر کی دیواریں بھی اداس ہو جاتی ہیں، اور اگر وہ تکلیف میں ہو تو دل کی دھڑکنیں بھی بوجھل محسوس ہوتی ہیں۔ 

اسلام نے پڑوسیوں کو خاندان کی طرح اہمیت دی ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی انسانیت دوسروں کی خوشی میں پوشیدہ ہے، اور یہ رشتہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے، محبت اور ہمدردی کی زنجیر سے جوڑتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں کے ساتھ، مسکینوں کے ساتھ اور قریبی پڑوسی کے ساتھ اور دور کے پڑوسی کے ساتھ، ہم نشین کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ اور جو تمہارے قبضے میں ہوں ان کے ساتھ بھی۔ اللہ کو وہ لوگ پسند نہیں جو مغرور اور شیخی باز ہوں۔ 

یہ آیت پڑوسیوں کے حقوق کو والدین اور رشتے داروں کے بعد فوری طور پر ذکر کر کے ان کی انتہائی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ اللہ نے قریبی اور دور کے دونوں پڑوسیوں کا ذکر کیا، یعنی پڑوسی کا حق فاصلے سے مشروط نہیں، بلکہ ہر پڑوسی کا احترام اور حسن سلوک واجب ہے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنا اللہ کی عبادت کا حصہ ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا کہ جب شیطان نے لوگوں کے اعمال خوش نما کر دکھائے اور کہا کہ آج تم پر کوئی انسان غالب نہیں اور میں تمہارا حامی ہوں، پھر جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو وہ الٹے پاؤں پھرا اور کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ یہاں "حامی" کے لفظ سے مراد پڑوسی یا ساتھ دینے والا ہے۔ اللہ نے شیطان کی مثال سے بتایا کہ حقیقی پڑوسی وہی ہے جو مشکل میں ساتھ دے، اور جھوٹا حامی مشکل میں چھوڑ جاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ پڑوسی کا حق صرف ظاہری نہیں، بلکہ حقیقی مدد اور وفاداری کا بھی ہے۔

زمین کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ زمین میں ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، انگور کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت جو ایک جڑ سے نکلے ہوئے اور جو الگ الگ، اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ 

یہ آیت پڑوسیوں کی طرح ملحقہ زمینوں اور باغوں کا ذکر کر کے ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ نے پڑوسیوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں اور باہمی تعاون کریں، جیسے ایک ہی پانی سے مختلف پودے مختلف پھل دیتے ہیں۔ یہ پڑوسیوں کے درمیان اختلاف کے بجائے اتحاد اور باہمی احترام کی طرف اشارہ ہے۔

ایک اور جگہ منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر منافق اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینے میں افواہ پھیلانے والے باز نہ آئے تو ہم تجھے ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ تیرے پڑوس میں تھوڑے دنوں کے سوا نہ رہ سکیں گے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ برے پڑوسیوں کا انجام برا ہوتا ہے۔ اللہ نے منافقوں کو پڑوسی بننے سے روک دیا، یعنی اچھے معاشرے میں برے کردار والوں کو جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنے پڑوسی بننے والوں کا انتخاب بھی احتیاط سے کرنا چاہیے اور خود بھی اچھا پڑوسی بننا چاہیے۔

اب احادیث کی طرف آتے ہیں۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! وہ کون ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔ تین بار قسم کھا کر فرمایا کہ پڑوسی کو تکلیف دینے والا کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث پڑوسی کے حقوق کی انتہائی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا حق ایمان کا حصہ بن گیا ہے۔

آپﷺ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے۔ جبرائیل علیہ السلام کا بار بار وصیت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پڑوسی کا حق کتنا عظیم ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ پڑوسی کا حق اتنا بڑا ہے کہ وہ خاندان کے قریب ترین درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے حکم دیا: اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کو کچھ دے دو۔ ایک چھوٹی سی چیز جیسے شوربہ میں پانی بڑھانا بھی پڑوسی کے حق میں شمار ہوا۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ پڑوسی کو دینے کے لیے بڑی دولت کی ضرورت نہیں، معمولی چیز بھی بڑی خوشی دے سکتی ہے۔

آپﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی کا کیل ٹھونکنے سے نہ روکے۔ یہ حدیث پڑوسی کے ساتھ نرمی اور آسانی کی بات کرتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی پڑوسی کی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔

پڑوسیوں کے حقوق کو نبھانا دراصل اللہ کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جہاں ہر چھوٹی سی مہربانی ایک بڑی خوشی کا سبب بنتی ہے اور ہر مدد ایک ابدی رشتہ قائم کرتی ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر ہر شخص اپنے پڑوسی کو اپنا بھائی سمجھے تو دنیا کیسے جنت بن جائے گی، جہاں درد بانٹے جائیں اور خوشیاں ضرب دی جائیں۔ یہ رشتہ اللہ کی امانت ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تنہائی میں ساتھ دینا اور مصیبت میں ہاتھ تھامنا ہی حقیقی زندگی ہے، اور اس میں غفلت کرنا دل کو اداس اور روح کو خالی کر دیتا ہے۔

اقراء سے مزید