• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا بندر، خنزیر، چوہے یا گوہ کسی مسخ شدہ قوم کی نسل سے ہیں؟

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میں نے سنا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا اس قوم کی نسل کے بندر باقی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بطورِ عذاب بندر بنا دیا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی شکل مسخ کرکے عذاب بھیجتے ہیں تو تین دن سے زیادہ اسے زندگی نہیں دیتے، لہٰذا بنی اسرائیل کے جو لوگ بندر اور خنزیر بنائے گئے، وہ ہلاک ہوکر ختم ہوگئے۔

جبکہ دوسری طرف صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث سنی ہے کہ رسول اللہﷺ نے چوہے کو دیکھ کر فرمایا جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی ایک گمشدہ قوم معلوم ہوتا ہے، یعنی جو مسخ شدہ امت تھی ان ہی میں سے معلوم ہوتا ہے۔ جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مسخ کے بعد بھی نسل جاری رہ سکتی ہے۔

آپ سے درخواست ہے کہ مذکور دونوں حدیثوں میں جو تعارض محسوس ہورہا ہے، اسے حل فرما دیجیے۔ نیز دونوں حدیثوں اور قرآن مجید کی وہ آیت جس میں بنی اسرائیل پر مذکورہ عذاب کا ذکر ہے، کا ترجمہ اور مکمل حوالہ بھی درج کردیجیے؟

جواب: سوال ميں جس قوم کے بندر بنائے جانے کے واقعے کی طرف اشارہ ہے وہ بنی اسرائيل کا واقعہ ہے، بنی اسرائیل کے ليے ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مقرر تھا اور انہیں اس کی تعظیم کا حکم تھا، مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا، حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی ایک بستی سمندر کے کنارے آباد تھی، یہ لوگ مچھلی کے شوقین تھے، انہوں نے ہفتے کے دن کے حوالے سے اس حکم کو نہ مانا اور حيلہ کرکے مچھلی کا شکار کیا، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوا، اور انہیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔

قرآنِ مجید میں ہے: ’’اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے (شرع سے) تجاوز کیا تھا دوبارہ (اس حکم کے جو) یوم ہفتہ کے (متعلق تھا)، سو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔ ‘‘ (سورۃالبقرہ: 65 ، بیان القرآن)

سورۂ اعراف، آیت نمبر 162 اور 165 میں ارشاد ہے: ’’اور آپ ان لوگوں سے اس بستی کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے، اس وقت کا حال پوچھیے، جب کہ وہ ہفتے کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے، جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے، اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے ۔ جب وہ جس کام سے انہیں منع کیا گیا تھا، اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے انہیں کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔‘‘

اسی طرح قرآن مجید میں ہے: ’’آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں ایسا طریقہ بتاؤں جو اس سے بھی خدا کے یہاں سزا ملنے میں زیادہ بُرا ہو؟ وہ ان اشخاص کا طریقہ ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہو اور ان پر غضب فرمایا ہو، اور ان کو بندر اور سور بنادیا ہو، اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی ہو، ایسے اشخاص مکان کے اعتبار سے بھی بہت بُرے ہیں اور راہِ راست سے بھی بہت دور ہیں۔“ (سورۃالمائدہ: 60، بیان القرآن) بنی اسرائیل کے مذکورہ واقعے میں جن لوگوں کو بندر اور خنزیر بنایا گیا تھا، راجح قول کے مطابق یہ سب تین دن کے بعد مرگئے تھے، اور ان کی نسل نہیں چلی۔

مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ”اس معاملے میں صحیح بات وہ ہے جو خود رسول اللہ ﷺ سے بروایت عبداللہ بن مسعود ؓصحیح مسلم میں منقول ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے زمانے کے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا یہ وہی مسخ شدہ یہودی ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں مسخِ صورت کا عذاب نازل کرتے ہیں تو ان کی نسل نہیں چلتی (بلکہ چند روز میں ہلاک ہو کر ختم ہوجاتے ہیں) اور پھر فرمایا کہ بندر اور خنزیر دنیا میں پہلے سے بھی موجود تھے۔ (اور آج بھی ہیں، مگر مسخ شدہ بندروں اور خنزیروں سے ان کا کوئی جوڑ نہیں)۔“ ( معارف القرآن، 1/ 243، سورۂ بقرہ، ط: مکتبہ معارف القرآن)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓکی حدیث، جس میں مسخ شدہ قوموں کے باقی نہ رہنے کا ذکر ہے، کا ترجمہ مع حوالہ ملاحظہ کیجیے: ’’حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امّ المومنین حضرت امّ حبیبہ ؓ یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر جناب رسول اللہ ﷺ ، اپنے والد ابوسفیان ؓ اور اپنے بھائی معاویہ ؓ سے فائدہ پہنچا، نبی اکرم ﷺ نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہوسکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذابِ جہنم اور عذابِ قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔

راوی کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! کیا بندر اور خنزیر ان مسخ شدہ میں سے ہیں؟ توآپ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کرنے یا اسے عذاب دینے کے بعد اس کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور سور اس سے پہلے ہی موجود تھے۔“ (صحيح مسلم ، 4/ 2051 ، برقم : 2663، ط: داراحياء التراث العربی)

رہی وہ حدیث جس میں بنی اسرائیل کی کسی مسخ شدہ قوم کے چوہے کی صورت میں باقی رہنے کا بطورِ خیال ذکر ہے، اس کا ترجمہ اور حوالہ بھی ملاحظہ کیجیے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی، معلوم نہیں کہاں ہے؟

میرا خیال تو یہی ہے کہ اُسے چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا، کیوں کہ چوہے کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتا، (اور بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ حرام تھا) جب بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتا ہے۔(صحيح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب خير مال المسلم غنم يتبع بھا شعف الجبال حدیث: 3305 - صحيح مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب في الفار وانہ مسخ ، حدیث: 7496)

مزید فائدے کے لیے اسی مفہوم کی ایک اور حدیث ملاحظہ کیجیے: ’’حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک گوہ لائی گئی تو آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار فرما دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ” مجھے معلوم نہیں شاید کہ یہ گوہ ان زمانوں میں سے ہوں جن زمانوں کی قومیں مسخ ہو گئیں۔“ (صحيح مسلم 3/ 1545، برقم : 1949، ط: داراحياء التراث العربی)

گوہ اور چوہے سے متعلق مذکورہ دونوں حدیثوں کے بارے میں شراح حدیث فرماتے ہیں: جمہور علماء نے اس بات کی وضاحت یہ کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ بات اس وقت فرمائی تھی جب اس مسئلے کی حقیقت رسول اللہ ﷺ کے سامنے بذریعہ وحی واضح نہیں کی گئی تھی، اسی لیے آپ ﷺ نے اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں فرمائی۔

اس کے برخلاف جب حقیقت واضح کر دی گئی کہ کسی بھی مسخ شدہ قوم کی نسل باقی نہیں رہی تو آپ ﷺ نے صاف اور قطعی انداز میں نسل باقی رہنے کی تردید فرما دی، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر (7/ 160 ط السلفيۃ –تفسير القرطبی، البقرہ:65 – المفھم لما أشکل من تلخيص كتاب مسلم لأبی العباس القرطبی، كتاب الصيد والذبائح وما يحل أکلہ من الحيوان وما لا يحل، باب ما جاء فی أن الضب والفأر يتوقع أن يکونا مما مسخ، رقم الحديث: 1848)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید