• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان، 9 شہروں میں حملے ناکام، 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک، 15 سیکورٹی اہلکار اور 18 شہری شہید

راولپنڈی، کوئٹہ، مستونگ، (نمائندگان جنگ، ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) سکیورٹی فورسز نے ’فتنہ الہندوستان‘ کی جانب سے بلوچستان کے 9شہروں میں کئے جانے والے حملوں کو ناکام بنا دیا،دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کو نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک جب کہ 15 سیکیورٹی اہلکار اور 18شہری شہید ہوگئے۔

دو روز میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہوگئی، گوادر میں دہشت گردوں کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 مزدور شہید ہوگئے، مسلح افراد نے مستونگ میں الصبح تقریباً 6 بجے شہر پر دھاوا بول دیا جس کے بعد دھماکوں، فائرنگ اور سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوگئے۔

دہشت گردوں نے بازار، سنیٹرل جیل، ایک تھانے، سابقہ لیویز ہیڈ کوارٹرز، کیسکو آفس پر بھی حملے کرکے 3 گاڑیاں نذر آتش کیں، 30 قیدی چھڑا لیے اور 2 نجی بینک نذر آتش کر دیے، سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ سے اندرون ملک ٹرین اور انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیا گیا ہے۔

نوشکی میں مسلح افراد نے ڈی سی کو اغواء کرلیا ہے، صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قومی شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں، کوئٹہ میں شہید ڈی ایس پی سمیت 9 جوانوں کی نماز جنازہ کر دی گئی۔

دہشت گردوں کی جانب سے شہروں میں حملوں کے پیش نظر مچ میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں 84 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، سکیورٹی حکام نے ان دعوؤں کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

کوئٹہ میں سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، سریاب روڈ فیض آباد میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے.

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گرد بھارت کی حمایت سے حملے کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کامیاب آپریشن پر فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا بلوچستان میں حملوں کے پیچھے بھارت ہے، دہشت گردوں اور ان کے ماسٹرز کو نہیں چھوڑیں گے۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ’فتنہ الہندوستان‘ کے دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر صوبہ بلوچستان میں یہ بزدلانہ کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگیوں کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ضلع گوادر اور خاران میں بدترین درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین، بچوں، معمر افراد اور محنت کشوں سمیت 18بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔ 

واضح رہے کہ 30 جنوری کو بھی پنجگور اور ہرنائی میں’فتنہ الہندوستان‘ اور ’فتنہ الخوارج‘ کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے جس کے بعد گزشتہ دو روز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 133 تک پہنچ گئی ہے۔ 

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ قومی ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی اور ان گھناؤنے جرائم کے سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائیگا۔ 

علاوہ ازیں، نامہ نگار کے مطابق ہفتے کے روز مسلح دہشت گردوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور ساحلی شہر گوادر سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں بیک وقت حملے کیے۔ 

پولیس حکام کے مطابق گوادر میں دہشت گردوں نے بیرونِ علاقہ سے آئے ہوئے مزدوروں کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔ 

پولیس حکام  نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ 

پولیس حکام کے مطابق فورسز کی جوابی کارروائی میں یہاں 6 عسکریت پسند مارے گئے۔ ضلع نوشکی میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کو اغوا کرلیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مذکورہ افسر نے دہشت گردوں کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم آزادانہ ذرائع سے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ مستونگ میں ہفتہ کے روز  صبح تقریباً 6 بجے کے قریب بڑی تعداد میں مسلح افراد نے شہر پر دھاوا بول کر تباہی مچا دی۔ 

حملہ آوروں نے پولیس تھانہ، سینٹرل جیل، سابقہ لیویز ہیڈکوارٹر، 2 نجی بینکوں کو نزر آتش کرنے کے ساتھ کیسکو آفس پر حملے کے دوران 3 گاڑیاں بھی نذر آتش کر دیں۔ 

اس کے علاوہ، پولیس تھانے میں موجود تمام اسلحہ اور پولیس ایمبولینس بھی حملہ آوروں کے قبضے میں چلی گئی، جیل تھانہ اور لیویز ہیڈ کوارٹر کے سارے سرکاری ریکارڈز کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا جب کہ قومی شاہراہ پر شمس آباد کراس پر واقع پولیس چوکی کو بھی بم سے اڑا دیا گیا۔ 

صوبے میں فائرنگ اور دھماکے کئی گھنٹوں تک جاری رہے اور تقریباً 25 سے زائد دھماکے ہوئے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اہم خبریں سے مزید