کراچی (ٹی وی رپورٹ) انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا، جنگوں اور کشیدگی کے باوجود معاہدہ قائم رہا۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے کہا کہ بھارت نے ایک طرف اپنی پراکسیز کو فعال کردیا ہے دوسری طرف آبی دہشت گردی کر رہا ہے۔ انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے مابین دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا معاہدا ہو جس کی ثالثی میں عالمی بینک نے کلیدی کردار اکیا۔ انیس ستمبر 1960 کو پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو راوی، ستلج بیاس مشرقی دریاؤں کا پانی دیا گیا۔جبکہ پاکستان کو سندھ جہلم چناب مغربی دریاؤں کا پانی دیا گیا معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے تنازعات ختم کرنا اور مستقبل میں آبی نظام یقینی بنانا تھا۔ سید مہر علی شاہ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک پانی کے بہاؤ، منصوبوں اور سیلاب سے متعلق معلومات باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے۔ مستقل انڈس کمیشن قائم کیا گیا جو دونوں ممالک کے کمشنرز پر مشتمل ہے۔ اختلاف کی صورت میں مرحلہ وار نظام بنایا گیا جس میں دو طرفہ بات چیت ، غیر جانبدار ماہر، ثالثی عدالت، یہ معاہدہ جنگوں اور کشیدگی کے باوجود قائم رہا اوراسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔