اسلام آباد( قاسم عباسی)نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد کاروباری برادری کا اعتماد بحال، من مانی احتسابی کارروائیوں اور ہراسانی کا دور ختم کاروباری شخصیات کیخلاف شکایات میں 52فیصد کمی آگئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر اور نیب کے بزنس کمیونٹی سیل کے فوکل پرسن احمد چنائے کا کہنا تھا کہ یہ وہ دور ہے کہ اگر آپ شفاف اور صاف کاروبار کریں تو نیب آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔کاروباری شخصیات کے خلاف شکایات میں 52 فیصد کمی نے پاکستان کی کاروباری برادری کے حوصلے اور اعتماد کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ کارپوریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس (نیب آرڈیننس) میں حالیہ ترامیم نے من مانی احتسابی کارروائیوں اور ہراسانی کے دیرینہ خدشات کو کم کر دیا ہے۔ احمد چنائے نے کہا کہ 2022 سے 2025 کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات نے احتساب کے نظام میں واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب سے خوف کا دور ختم ہو چکا ہے اور کاروباری شخصیات کے خلاف نیب کی مہم کا زمانہ اب ماضی بن چکا ہے۔ یہ وہ دور ہے کہ اگر آپ شفاف اور صاف کاروبار کریں تو نیب آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔احمد چنائے جو آرچ گروپ کے منیجنگ پارٹنر بھی ہیں اور سی ڈی سی، این سی سی پی ایل، پی ایم ای ایکس اور ایس این جی پی ایل کے بورڈز میں خدمات انجام دے رہے ہیں نے کہا کہ ان ترامیم نے ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ان کے مطابق اب کاروباری افراد کو یہ احساس نہیں رہتا کہ ہر معاملے میں انہیں نیب کے سامنے گھسیٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے بعد کاروباری شخصیات کا یہ خوف ختم ہو گیا ہے کہ ہر کیس میں انہیں نیب کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، جو کاروبار میں آسانی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں کاروباری افراد کے خلاف درج کی جانے والی شکایات میں 52 فیصد کمی آئی، جسے احمد چنائے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے سے براہِ راست جوڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شکایات میں نمایاں کمی نے کاروباری طبقے کو نئی سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا فرق پڑا ہے اور کاروباری افراد کو یہ اعتماد ملا ہے کہ نیب کی جانب سے کوئی بے بنیاد کیس نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی مناسب تحقیقات اور شواہد کے بغیر کارروائی کی جائے گی۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے بھی احمد چنائے کو پورے پاکستان سے بزنس کمیونٹی کے لیے فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔انہوں نے بدنیتی پر مبنی یا غیر سنجیدہ شکایات کو فلٹر کرنے کے لیے حلف نامے پر مبنی نئے معیار کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے گمنام یا بلیک میلنگ کے مقصد سے دائر کی جانے والی درخواستوں کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے نیب کو بھیجا گیا ایک نوٹس بھی کاروباری شخص کے لیے بڑا خوف بن جاتا تھا، لیکن ان اقدامات نے پورے عمل کو شفاف بنا دیا ہے اور کاروباری طبقے کا اعتماد بڑھایا ہے۔