کراچی (جنگ نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو اسلحہ امداد دینے کیلئے کانگریس کو بائی پاس کر دیا، 6.5ارب ڈالر کے اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز، جدید فوجی گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیوں کے پرزہ جات شامل۔ تفصیلات کے مطابق امریکی جمہوریت میں طاقت کے توازن پر ایک نیا سوال اٹھ گیا، جب ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر اسرائیل کو اربوں ڈالر کے جدید ہتھیار فراہم کرنے کا اعلان کر دیا، جس پر ڈیموکریٹس نے اسے کانگریس کے آئینی اختیار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار دینے کا اعلان کیا ہے، جن میں اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز، جدید فوجی گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیوں کے پرزہ جات شامل ہیں۔ یہ فیصلہ کانگریس کی غیر رسمی نظرثانی کے عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا گیا، جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیسری بار ایسا قدم ہے۔ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے اقدام کو کانگریس کے نگرانی کے اختیار کی توہین قرار دیا۔ اسرائیل کو اسلحہ فراہمی غزہ جنگ میں بھاری فلسطینی ہلاکتوں کے باعث پہلے ہی امریکا میں شدید تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے، جس پر کئی قانون ساز ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔