کراچی( افضل ندیم ڈوگر) بولٹن مارکیٹ فائر اسٹیشن ڈیڑھ سال میں بھی تعمیر نہ ہوسکا، علاقہ سیکورٹی رسک بن گیا ہے،پاکستان کی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالنے والی کراچی کی بولٹن مارکیٹ ممکنہ آتشزدگی جیسی کسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے بے یارو مددگار ہے۔ بولٹن مارکیٹ فائر اسٹیشن ڈیڑھ سال سے زیر تعمیر ہے اور یہاں کا عملہ اور فائر بریگیڈ بلاول ہاؤس کی وی وی آئی پی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ علاقے کے تاجروں کے مطالبے پر 20 سال قبل کھارادر پولیس لائن کے ساتھ ایمرجنسی فائر اسٹیشن قائم کیا گیا تھا۔ جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے ہر وقت عملہ اور گاڑی موجود رہتی تھی۔ سال 2010 میں یوم عاشور بم دھماکے کے بعد ہنگاموں کی آڑ میں اس فائر اسٹیشن کو بھی نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد سے عملہ اور گاڑی فٹ پاتھ پر ہنگامی ڈیوٹی کیلئے موجود رہتی تھی۔ پرانی عمارت جلنے کے بعد سیکورٹی رسک بن چکی ہے مگر وہاں پر عملےت نے مختلف کاروباری معاملات کی سرپرستی شروع کر رکھی ہے۔ موجودہ میئر کراچی نے اس فائر اسٹیشن کی تعمیر دو سال قبل شروع کرائی تھی مگر کا اس قدر سست روی کا شکار ہے کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے میں دو ڈھائی کمرے کا یہ فائر اسٹیشن مکمل ہی نہیں ہو سکا جبکہ یہاں کی گاڑی اور عملہ اب وی وی ائی پی ڈیوٹی پر بلاول ہاؤس کے باہر تعینات ہے جبکہ گل پلازہ کی طرز پر اس علاقے میں سینکڑوں کاروباری عمارتیں ہیں جہاں ممکنہ آتشزدگی کی صورت میں نصف گھنٹے سے پہلے کہیں سے بھی کوئی فائر بریگیڈ پہنچنے کی امید نہیں۔ علاقہ مکینوں نے عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں فائر بریگیڈ کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔