• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان بارڈر بند ہونے سے کاشتکاروں کو نقصان، آلو اور کینو اونے پونے داموں فروخت

ملتان (فورم رپورٹ؍شازیہ ناہید)کینو اور آلو کی فصل وافر ہونے کے باوجود برآمدات کو بڑھایا نہیں جا سکا۔ایکسپورٹ کے لئے حکومت کو ایک سے زائد روٹس کے لئے کام کرنا چاہیے کیونکہ ایک ہی راہداری پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں۔ افغانستان کا بارڈر بند ہونے سے 50 فیصد نقصان کاشتکار کو اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ ایسی صورت حال میں کاشتکار کی فصل کی فروخت کم ہوتی ہے اور قیمت بھی کم ملتی ہے۔ آلو اور کینو اونے پونے داموں فروخت ہورہا ہے۔منڈیوں میں قیمت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے کاشتکار تو آلو کی فصل اٹھا ہی نہیں رہے بلکہ کھڑی فصل پر ہل چلا رہے ہیں کیونکہ آلو کی قیمت اس پر آنے والے خرچ سے کہیں زیادہ کم ہو چکی ہے۔آلو کی منظم طریقے سے زوننگ کی جائے جس سے پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار’’ آلو اور کینو کی برآمد۔۔۔مشکلات کا شکار‘‘کے موضوع پر جنگ فورم میں ماہرین نے کہا۔مرکزی صدر کسان بورڈ پاکستان شوکت علی چدھڑ نے کہا کہ حکومت کو ایک سے زائد روٹس کے لئے کام کرنا چاہیے کیونکہ ایک ہی راہداری پر انحصار کرنا ٹھیک نہیں ۔کسی وقت کوئی مسئلہ ہوجائے تو نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔افغانستان کا بارڈر بند ہونے سے 50 فیصد نقصان کاشتکار کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔اب ایران سے وسطی ایشیائی ممالک تک ایکسپورٹ کی جارہی ہے ایسے میں مافیا بھی بہت متحرک ہوجاتے ہیں۔افواہیں پھیلا کر کاشتکاروں کو پریشان کیا جاتا ہے ۔صرف تاجر کی سہولت کا نہ سوچا جائے، کاشتکاروں کی فکر بھی کی جائے۔کاشتکاروں کو کولڈ سٹوریج کی سہولت میسر نہیں ۔اس وقت سبزیوں کے حوالے سے بڑی مارکیٹ بنگلہ دیش ،آذربائیجان، ازبکستان کی ہیں ان کا روٹ ایران والا بن سکتا ہے۔ایران تک ٹرین کے ذریعے ایکسپورٹ ہوگی اور اس پر ایکسپورٹرز کو ری بیٹ دیا جائے گا۔کرایوں میں کچھ رعایت مل جائے گی لیکن کاشتکار کو اس کی فصل کی جائز قیمت ملے اس کو میکانائز کرنے کی ضرورت ہے۔صدر پنجاب فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کو راہداری دی ہوئی تھی کیونکہ روڈ کے ذریعے دوسرے ممالک میں جانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا افغانستان میں ہمارا آلو صرف آٹھ فیصد کنزیوم ہوتا تھا ۔تاجکستان اور ازبکستان کے حوالے سے نقصان ہوا ہے۔ایران کے حالات کچھ خراب ہونے کی وجہ اس معاملے میں تاخیر ہوئی ۔سرگودھا سے حکومت کی سپورٹ کے بغیر ہی سٹرس کے قریباً 1100 کنٹینرز دسمبر میں ایکسپورٹ کئے ۔22.93 ملین ڈالر کا ریونیو اسٹیٹ بینک کے ذریعے پاکستان میں آیا ہے۔آلو کے حوالے سے شور زیادہ ہے جس سے کاشتکاروں کو پریشان کیا جا رہا ہے تاکہ مڈل مین اونے پونے داموں اس کی پیداوار خرید لے۔جب کاشتکار سے پیداوار نکل جاتی ہے تو پھر مڈل مین کماتا ہے۔آلو کے تین سو کنٹینرز بحری جہاز کے ذریعے باہر بھیج چکے ہیں۔ترقی پسند کاشتکار،ایکسپورٹر مظفر حیات خاکوانی نے کہا کہ پیداوار میں اضافہ ہو تو مناسب قیمت نہیں ملتی۔کاشتکاروں کے لئے زرعی مداخل مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔وہ اپنی فصل کی لاگت بھی پوری نہیں کر پارہے۔ وقت کے ساتھ کینو کی فصل کا رقبہ سکڑ رہا ہے جس کی وجہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ہمارا انحصار چند ممالک کو برآمد کرنے تک محدود ہے۔ناموافق حالات کے باعث ایران کے راستے سے ایکسپورٹ کرنا مشکل اور مہنگا ہوگا۔نئی منڈیوں میں جگہ بنانے کے لئے ہمیں اپنی اشیاء کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔اب تک کینو پاکستان کا سب سے زیادہ برآمد ہونے والا پھل رہا ہے۔ اس سال اگر پچھلے سال کی نسبت آدھا بھی برآمد ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملک کی پیداوار میں50 فیصدکمی ہے، ممکن ہے کم منافع اور معمولی برآمدی آمدن سے کسان مایوسی میں کینو کی کاشت چھوڑ کسی اور زیادہ منافع بخش فصل کی طرف رجوع کرے۔ یہی پھل جو کہ 6 سے9 دن کے اندر روس براستہ افغانستان پہنچ جایا کرتا تھا،افغانی بارڈر بند ہونے کی وجہ سے 25 دنوں میں براستہ ایران پہنچے گا جس کی کھانے کے قابل ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔آلو کی فصل حکومت کو خریدنی چاہئے۔ ایکسپورٹرز کو اس مد میں سبسڈی ملنی چاہئے۔آلو کی منظم طریقے سے زوننگ کی جائے جس سے پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے۔افغانستان کے بعد ہماری مارکیٹ سری لنکا تھی ۔سر ی لنکا نے 50 روپے فی کلو ایکسپورٹ ڈیوٹی لگا دی ہے۔اس پر حکومت کو بات کرنی چاہیے ۔جنرل سیکرٹری سبزی منڈی ندیم قریشی نے کہا کہ برآمدات کو بڑھانا ملکی معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے۔ مہنگے زرعی مداخل نے کاشتکاروں کو پریشان کیا ہوا ہے۔کینو اور آلو کی فصل وافر ہونے کے باوجود برآمدات کو بڑھایا نہیں جا سکا۔ہمیں دوسرے ممالک سے اشیاء منگوانے کہ بجائے مقامی پیداوار پر انحصار بڑھانا چاہیے۔فصل کی قیمت ہی کاشتکار کو ٹھیک نہ ملے تو وہ کیا کرے۔80 کلو کی بوری پانچ، چھ سو روپے میں فروخت ہوئی۔ آلو کے کاشتکاروں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ملتان سے مزید