السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
یاسیت کے حوالے کردیا
ایک دَم خشک ہی سردی نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور بارش کا کہیں نام و نشاں نہیں۔ علامہ اقبال کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے اُمِ حمنہ کی تحریر’’علامہ اقبال اور فلسطین‘‘ متاثر کُن تھی۔ ڈاکٹر ریاض علیمی اور اشفاق بیاز نے بھی علامہؒ کے حوالے سے اہم، منفرد موضوعات کا انتخاب کیا۔ ’’انتہا پسندی کا بنیادی سبب نفرت نہیں، محبت ہے،‘‘ امریکی سماجی ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر کلارک میک کولی کا جملہ پڑھ کر کچھ دیر سوچتے رہے کہ بات تو بُہت عمیق کہی گئی۔ ؎ جچتا ہے ہر رنگ کا جوڑا، توبہ ہے… ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں مدیرہ کی تحریر عُمدہ تھی۔
اِس بات سے سو فی صد اتفاق ہے کہ ’’خُود پر بلا کا اعتماد ہی سب کچھ ہے کہ ’’مَیں نے جو پہن لیا، یہ مجھ پہ جچتا ہی ہے۔‘‘ اِس اعتماد کے ساتھ جینے کا اپنا ہی لُطف ہے۔‘‘ آخر میں ثمینہ ثاقب کا کلام بھی پہناووں کی طرح غضب تھا۔ خُوب صُورت رنگوں کو تصویر کی صُورت دینے والے نام وَرمصور، حمید بلوچ کی باتیں بھی رنگوں کی مانند دل کش لگیں۔
عرفان جاوید کے منفرد سلسلے میں محمد عاطف علیم کے افسانے کا دوسرا حصّہ دیکھا، تو گزشتہ ہفتے کا پہلا حصّہ بھی نکال لیااور پھر دونوں اکٹھے پڑھے۔ زندگی میں کم ہی افسانے ایسے پڑھے ہوں گے، جن کے اختتام نے اِس طرح یاسیت کے حوالے کر دیا۔ سماج کے ایک پہلو کو لے کر، بیٹی کے حوالے سے لکھے اس جملے نے ’’وہ اکثر آسمان کو دیکھ کر فریاد کیا کرتی۔
’’اللہ جی! اِنّے پالے پالے سے تو وہ تھے، یہ کیا کِیا…‘‘ سچ میں رُلا دیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد کی تحریر نے ذیابطیس سے متعلق آگاہی دی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں زویا نعیم اور روبینہ شاہد کے موضوعات بھی اہمیت کے حامل تھے۔ نظیر فاطمہ کی ’’لکھاری‘‘ بھی پسند آئی، جب کہ نائلہ روبی کی ’’کٹروا تیل‘‘ عمدہ اندازِبیاں کے ساتھ ایک منفرد تحریر تھی۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: براہِ مہربانی خطوط میں موسموں کی منظر کشی سےتواحتراز ہی کیا کیجیے کہ اشاعت تک تو رُتیں کیا سے کیا ہوچُکی ہوتی ہیں۔
سال 2026ء کے لیے دُعا
بعدآداب عرض ہے۔گرچہ کئی ہفتےبعد حاضری دے رہا ہوں، مگر جریدے کا مطالعہ باقاعدگی اور ذوق وشوق سے جاری و ساری رہا۔ تمام قارئین کو سالِ نو کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ساتھ تہہ دل سے دُعاگو ہوں کہ جریدہ سال 2026ء میں دن دُونی، رات چوگنی ترقی کرے۔ پرنٹ میڈیا کے سب مسائل ختم ہوں اور کارکنان اِسی دل جمعی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں۔ (شری مان مُرلی چندگوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)
ج: بظاہر تو ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا، لیکن بندے کو خوش گمان ہی رہنا چاہیے۔ سو، اتنا ہی کہہ سکتےہیں کہ اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔
ایک اور ماہرِ نفسیات کی ضرورت
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کا صفحہ شائع نہیں کیا گیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منوّر مرزا پاکستان کے حُکم رانوں کو مختلف مثالیں دے کر سمجھا رہے تھے کہ مُلک کی معیشت درست کریں۔ ’’اشاعت خصوصی‘‘ میں اُمِّ حمنہ نے علّامہ اقبال کی فلسطین سے محبّت کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی نےاقبال کے پیغام کو نوجوانوں کے لیے اُمید کی کرن قرار دیا۔ اشفاق نیاز نے نئی بات بتائی کہ علّامہ اقبال پہلوانی کے بھی شوقین تھے۔ امریکی ماہرِ سماجی نفسیات کی کچھ باتیں سمجھنے کے لیے تو ایک اور ماہرِ نفسیات کی ضرورت تھی۔
وحید زہیر نے نام وَر مصوّرحمید بلوچ سے ’’انٹرویو‘‘ کیا۔ ایک بات سمجھ نہیں آئی،اُن کی پیدائش 1966 ء کی ہے، تو اُنہوں نے1935 ء کے زلزلے سے قبل کی پینٹنگز پر مشتمل کتاب کیسے تیار کرلی؟ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘کی دوسری قسط میں تو سارے خواب چکناچور ہی ہوگئے۔ ’’پیاراگھر‘‘ کے لیے زویانعیم نےفکرانگیز مضمون تحریر کیا۔ روبینہ شاہد نے بادام کے طبّی فوائد، بادام ہی کی زبانی گنوائے۔ نظیر فاطمہ اور نائلہ روبی کے افسانے بہترین تھے۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: ہمیں بھی اکثر آپ کی تحریر سمجھنے کے لیے کسی ’’ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ‘‘ یا ’’فرانزک ڈاکیومنٹ ایگزامنر‘‘ کی ضرورت شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک تو بدخطی اور پھر دس دس صفحات، ہر بار 80 فی صد سے زائد تحریر ایڈٹ کردی جاتی ہے، مگر سلام ہے، آپ کی مستقل مزاجی کو بھی۔ اور رہی بات، مصورکی پیدائش سے قبل کی تصاویر بنانے کی، تو ہماری مانیں، دماغ پر اُتنا ہی زور ڈالا کریں، جس قدر وہ سہار سکے۔
اب بھلا کوئی بتائے، یہ کوئی سوال ہے؟ کسی مصور، شاعر، لکھاری کا تخیّل تو تخلیقِ کائنات سے قبل تک بھی جاسکتا ہے، اِک1935 ء کےزلزلے ہی پرکیا موقوف؟ اور تحقیق و جستجو سے بھلا کیا نہیں ممکن، تاریخ کی کتابوں میں جو کچھ لکھ رکھا ہے، کیا اُسے تصویر نہیں کیا جا سکتا۔
اُڑنے کو پرتول رہی ہے
شُمارہ مِلا، ’’جچتا ہے ہر رنگ کا جوڑا، توبہ ہے…‘‘ اِس عبارت کے ساتھ ماڈل طیّبہ سرِورق سے وسطی صفحات تک، جلوہ افروزتھی۔ خُوب صُورت سراپے پہ حسین پیراہن، دِل کشی کی بہار دِکھا رہے تھے۔ ہمیں تو تصویر نمبر6 سب سے اچھی لگی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر، مدیرہ کی تھی۔ ثمینہ ثاقب کے کیا خوب کلام کا انتخاب کیا گیا۔ ویسے یہ طریقہ بھی بھلا ہے،اِس طرح آپ کو کچھ ریسٹ مل جاتا ہے اور دوسری قلم کاروں کو اپنی صلاحیتیں اُجاگر کرنےکا موقع۔
ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے یومِ ولادت کے موقعے پرباحجاب رائٹر، اُمِ حمنہ ’’علامہ اقبالؒ اور فلسطین‘‘ کے عنوان سے بہترین تحریر لائیں۔ دیگر تحریریں ’’اقبال اور نوجوان: خُودی سے خُود اعتمادی تک‘‘ اور ’’اقبالؒ کا فنِ پہلوانی سے لگاؤ‘‘ بھی بہترین تھیں۔ زویا نعیم کی نگارش ’’معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی‘‘ میں کمال دانش مندی سے معاشرے کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا گیا۔
دیگر تحاریر میں خالدہ علی، ثناءتوفیق خان، روبینہ شاہد، نظیر فاطمہ، نائلہ روبی، ڈاکٹر شکیل احمد اور پروفیسر ڈاکٹر صادق میمن کی نگارشات کا جواب نہ تھا۔ اگلا شمارہ، ’’ذکراُس پری وَش کا اور پھر بیان اپنا…‘‘ عبارت اور ہیرعلی کی ماڈلنگ کے ساتھ ملا۔
جو بڑے وقار سے سرِورق سے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ تک جلوہ افروز تھی، تصویر نمبر8 دیکھ کے لگا، جیسے پَری وَش اُڑنے کو پَر تُول رہی ہے۔ رائٹ اَپ ثانیہ انور نے لکھا، اور بےمثال لکھا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کے زیرِعنوان، نیلم احمد بشیر کی تحریر ’’قیمتی‘‘ کی دوسری و آخری قسط نمبر ون رہی۔ انجام نے تو رُلا، رُلا دیا اور عندلیب زہرا بھی’’درد آشنا‘‘ کے عنوان سے اچھا افسانہ لائیں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: پری وَش اُڑنے کو پر تولے یا اُڑنے ہی کیوں نہ لگے، اتنا ہمیں یقین ہے کہ ’’راہوالی‘‘ کے رستوں سے لاعلم ہی ہوگی۔
اپنی چُھٹی پر پیار آگیا
رسالہ موصول ہوا۔ سرِورق پر ماڈل کے رنگِ محبّت دیکھتے، محمود میاں کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ جو رازدارِ رسول ﷺ ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ کے رُوح پرور حالاتِ زندگی سے دِلوں کو سرشار کررہے تھے۔ سکونِ قلب حاصل کرکے منور مرزا کی محفل میں پہنچے، جنہوں نے طالبان کی احسان فراموشی کی داستانِ اذیت قلم بند کی۔ 40 سالہ مہمان نوازی کا صلہ ہمیں دہشت گردوں کی سرپرستی میں تباہی و بربادی کی شکل میں ملا۔
اب دوحا مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا ہے، مگراُن سےوفا کی کیا اُمید، جو وفا کامطلب ہی نہیں جانتےکہ اب بھارت کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ ثانیہ انور نے بڑی عرق ریزی سے ماہِ نومبر کے عالمی حالات و واقعات کا تجزیہ پیش کیا۔ سیّدہ تحسین عابدی دنیا کے بدلتے توازن میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈال رہی تھیں۔ عرفان جاوید محمّد عاطف علیم کے افسانے’’خواب راستے پر تھمے قدم‘‘ کی پہلی قسط لائے۔
عورت و مرد کی ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب پیش آنے والے مسائل بیش تر گھروں کی کہانی ہے۔’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں اقصیٰ منورملک نے بہترین رائٹ اَپ تحریر کیا، اشعار کا تڑکا بھی خُوب تھا۔ اگر بزمِ ہستی میں عورت نہ ہوتی …خیالوں کی رنگین جنّت نہ ہوتی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال خراب عادات سے نجات کو بہترین صحت کی ضمانت قراردے رہےتھے۔ نئی کتابوں پر منور راجپوت کا بے لاگ تبصرہ پڑھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں محمد اکرام شکارپوری اچار کی کہانی لائے، جو دنیا بھرمیں مشہور ہے۔
فوزیہ ناہید سیال نے فرائیڈ چکن سے تیارشان دار ڈنر کی گارنٹی دی، تو حکیم حارث نسیم سوہدروی سنگھاڑے کی خصوصیات وفوائد بتاگئے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ سولنگی کا ’’چھلّا‘‘ تو بڑا ہی پُر اسرار تھا۔ رانا محمّد شاہد کی’’ ایک کپ چائے‘‘ بھی ٹھیک ہی تھی۔ اور اپنے صفحے پر حسبِ معمول محمّد سلیم راجا کو پہلا انعام ملا، تو ہمیں اپنی چُھٹی پربھی پیار آگیا۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
ج: ایسے ظرف کا مظاہرہ تو بس میرپور خاص والے ہی کر سکتے ہیں۔
متاثر ہوئے بغیر
رنگارنگ سرِورق حسبِ معمول خوب صُورت لگا۔ اگلےصفحے پر ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی تحریر تعلیماتِ نبوی ﷺ پر مبنی تھی۔حالاتِ حاضرہ میں منور مرزا پاکستان، افغان تناؤ اور دہشت گردی کے واقعات موضوعِ بحث لائے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ کے تحت حافظ بلال بشیر، استحصال زدہ خواتین کے حقوق کی طرف متوجّہ کررہے تھے۔ رفیع اللہ مندوخیل نے ژوب سے چلغوزے کی تجارت پر روشنی ڈالی۔
ہمیں وہ زمانہ یاد آگیا، جب ٹھیلے والے سے دو آنے میں مٹھی بھر چلغوزے لے کر کھایا کرتے تھے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں محمّد کاشف نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کیا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ پر ڈاکٹر سکندر اقبال اورڈاکٹرامیرحسن نے طبی مشورے دے کر مفید خدمات انجام دیں۔ عرفان جاوید نے ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کے ذیل میں، پرانی کہانی کی آخری قسط پیش کی۔ ویسے اُنہیں اب اپنی ذاتی تخلیقات پیش کرنی چاہئیں کہ قارئین ان کی اچھوتی نگارشات سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔
ثانیہ انور نے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کارائٹ اَپ عُمدگی سے لکھا۔ ڈاکٹر سید عثمان مہدی کا انٹرویو خوب تھا۔ اختر سعیدی نے ’’نئی کتابیں‘‘ کے تحت دو عدد کتابوں پر ناقدانہ تبصرہ کیا۔ ’’متفرق‘‘ سے ہوائی جہاز کی اُڑان سے متعلق دل چسپ معلومات حاصل ہوئیں۔
عندلیب زہرا کا افسانہ ’’درد آشنا‘‘ پسند آیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر دیگر خطوط نگاورں کے ساتھ محمّد سلیم راجا کی ’’اِس ہفتے کی چٹھی‘‘ شامل تھی۔ جوابات تو کھرے کھرے ہوتے ہی ہیں، پڑھنے والا متاثر ہو ئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ (محمّد صدیق فنکار، کلمہ چوک دھمیال روڈ، عسکری اسٹریٹ، جھاورہ کینٹ، راولپنڈی)
ج: جی، جی … آپ تو اب خیر سے ’’خاصے متاثرین‘‘ میں شامل ہوچُکے ہیں۔
فی امان اللہ
آغازِ مطالعہ رائٹ ٹو لیفٹ صفحۂ ہدایت ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے کیا۔ حضرت حذیفہؓ کے فضائل و مناقب سے دلِ ’’طالبِ ہدایت‘‘ کو قوی کیا۔ اُن کی کمال صفتِ رازداری اور انکساری ہرذی ہوش کے لیے اعلیٰ مثال ہے۔ ’’حالات وواقعات‘‘ کے مُوڑھے پر دردمندِ وطن، منور مرزا طالبان کی شر انگیزیوں پر وَٹ کھائے بیٹھے تھے کہ ’’سہولت کاری کے بدلے دہشت گردی ملی۔‘‘
وہ ہے ناں ؎ قسمت والوں کو ملتا ہے، پیار کے بدلے پیار…ہم کو پھولوں کے بدلے، کانٹوں کے ہار۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کی طشتری میں ماہِ نومبر کے چیدہ چیدہ عالمی ایام کے موتی چُور لڈو مہک رہے تھے۔ ہم نے ’’مَردوں کے عالمی دن‘‘ سے منہ کا ذائقہ شیریں اور نظر امروہوی کے اس شعرِ شگفتہ سےدلِ حواس باختہ کوعشق یافتہ کیا۔ ؎ نظر مَیں اپنے بڑھاپے کی آبرو کے لیے… کسی سے عشق نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ سے، بدلتی دنیا میں پاکستان کے نکھرتے کردار کو قرار واقعی ہائی لائٹ کیا گیا۔
پاکستان ماضی کی طرح کسی سُپر پاور کا دُم چھلّا بننے کی غلطی اب نہیں دہرائے گا۔ کراچی کی انتظامی مسند پر براجمان پیدائشی جیالے، ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مُراد نے ’’انٹرویو‘‘ میں اچھا چٹکلا چھوڑا۔ ’’جتنا لاہور ہے، اتنا ہمارا گلستانِ جوہر ہے۔‘‘ چلو مان لیا، تو پھر گلستانِ جوہر ہی کو اہل کراچی کے لیے ’’رشکِ قمر‘‘ بنا دو۔ اور دو مختلف سیاروں میں جنم لینے والے میاں، بیوی کو عرفان جاوید نے حُسنِ تدوین سے افسانے کے ایک ورق پر احسن طریق یک جاکیا۔ اوراقِ وسطیٰ (اسٹائل) بمطابقِ معمول، رنگِ عورت اور ادائے عورت سے عبارت تھے۔ ’’عورت کے بغیر ہر آرٹ ادھورا، شاعری بےاثر، موسیقی بےسُر اور محبّت بے رنگ ہے۔‘‘
نازنینِ جلوہ گر کا دعویٰ تھا۔ ’’ہم نے ہر رنگ محبت میں بدل کر دیکھا…‘‘ جب کہ قلبِ سلیم کاحاصلِ زندگانی ہے ؎ زمانے کےدیکھے ہیں رنگ ہزار… نہیں کچھ سِوا پیار کے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کلینک میں ڈاکٹر صاحب نے صحتِ انساناں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والی پوری بارہ عاداتِ خرابہ گنوائیں۔ شری مُرلی چند کےدیس، شکار پور کے شہرۂ آفاق اچار نے ’’پیارا گھر‘‘کی دہلیز پردامِ محبت میں گرفتار کرلیا اور سرمائی سوغات سنگھاڑے نے جب اپنی سیاہ چلمن سے سپید بتیسی کے ساتھ تاڑا، تب سے ہم کالا شاہ کاکو رُو ہو کر سنگھاڑے کھاتےگائے جارہے ہیں۔
کالا شا کالا، میرا کالا اے دل دار… تے گوریاں نوں پراں کرو۔ ’’متفرق‘‘ کے بارِ تضاد نے تو ہمارے بھیجےکی بُھجیا ہی بنادی، اوپر بیانیہ تھا ’’استاد کو عزت دو‘‘ اور نیچے بیانِ ناگفتہ بہ ’’نااہل اساتذہ‘‘۔ ڈاکٹر سولنگی کے ’’چھلّے‘‘ کورانجھن کا چھلّاگر دانتے زیبِ انگشت کرنا چاہا، مگروہ بےایمان تو’’سیریل کلر‘‘ نکلا۔ اوہ مائی گاڈ! مریضاں نال ایہوجیا فراڈ! دمِ اشاعتِ خط، سالِ نو 2026ء شروع ہوچُکا ہوگا، ٹیم میگزین اورقارئینِ جنگ کو نیک تمنائوں کے ساتھ نیا سال مبارک ہو۔ نیز، بزمِ احباب کو بھی کہ اُنہی کے دم قلم سے ’’آپ کا صفحہ‘‘ سلسلہ ہائے رسالہ میں سُپرہٹ اور پرفیکٹ ہے۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
* منیر احمد خلیلی نے اپنے مضمون میں اندلس سے مسلم حکومت کے خاتمے، عیسائی حکومت کے اہلِ یہود پرمظالم کی بات کی۔ پہلی بات یہ کہ مسلمانوں نے اندلس کی حکومت تلوار کے زور پر حاصل کی تھی، نہ کہ کسی جمہوری عمل کے ذریعے۔ جب تک مسلمانوں کے پاس طاقت تھی، تو حکومت اُنہی کے پاس رہی۔ اس لیے اندلس سےمسلم راج کےخاتمے کو ظلم نہیں کہہ سکتے۔
دوسری بات، مضمون نگار نے ہمیشہ اپنے مضامین میں اہلِ یہود سے نفرت کا اظہار کیا ہے، تو اب میری سمجھ سے یہ بالاتر ہے کہ اگر اندلس میں عیسائی حکومت نے یہودیوں پر ظلم کیا بھی تھا، تو منیر احمد خلیلی نے اس بات کو اتنی اہمیت کیوں دی۔ (محمّد کاشف، کراچی)
ج: تحقیقی مضامین میں اگر درست اور تمام تر حقائق پر بات نہیں ہوگی، توپھر کیا بات ہوگی۔ آپ شاید اپنی علمیت و قابلیت کے اظہار کے لیے عمومی طور پر پوری تحریر میں سے کوئی الگ ہی نکتہ نکال لاتے ہیں۔ وہ کیا ہے کہ ؎ وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا… وہ بات اُن کو بہت نا گوار گزری ہے۔
* ’’سنڈے میگزین‘‘ کے اگست کے آخری شمارے میں، عمیر محمود کے مضمون کے آخری کالم کی چھٹی سطر میں ایک جگہ سال 2227 ء کا ذکر کیا گیا ہے، جو دو صدیوں بعد آرہا ہے۔ براہِ مہربانی، اِس غلطی کی تصحیح شائع کردیں۔ (ایم یاسین احمد)
ج: جی، آپ نے بالکل درست نشان دہی فرمائی، معذرت خواہ ہیں، سال 2007ء غلط طور پر 2227ء لکھا گیا۔
* شمارہ پڑھا، تمام صفحات ایک سے بڑھ کر ایک تھے، لیکن خاص طور پر ’’متفرق‘‘ کے دونوں مضامین کا جواب نہ تھا۔ فیصل قاسم قریشی نے ’’فرقۂ بیڑاغرقیہ‘‘ میں جس انداز سے فیس بُکی ادباء، دانش وَروں کی اُردو کا احوال بیان کیا، پڑھ کر لگا کہ واقعتاً اُردو زبان کے زوال میں اِن کا بہت ہاتھ ہے۔
ڈاکٹر محمد ریاض کا مضمون ’’دوستی، دل سےدل کا رشتہ‘‘ بھی اعلیٰ تھا۔ بہادریار جنگ اکادمی کے کتب خانے کا پڑھ کرخوشی ہوئی۔ رائٹ اَپ میں تتلیوں سے متعلق اقوال لاجواب تھے۔ تتلی اور فلسفۂ حیات میں کیا خُوب مماثلت بیان کی گئی، زبردست۔ رہ گیا آپ کا صفحہ، تو وہ ہمیشہ کی طرح بہترین تھا۔ (بلقیس متین، کراچی)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk