السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کوئی ثانی نہیں ہوتا
میگزین کے آغاز ہی میں ’’حالات و واقعات‘‘ موجود تھا۔ پڑھا، واقعی منور مرزا کے مضمون کا کوئی ثانی ہی نہیں ہوتا۔ مصورِ پاکستان، علامہ اقبال سے متعلق اُمِ حمنہ، ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی اور اشفاق نیاز کے مضامین معلوماتی تھے۔
مصور حمید بلوچ کا انٹرویو پسند آیا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں عرفان جاوید کے انتخاب کی آخری قسط بھی شان دار تھی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بہترین انداز سے مرتّب کیا گیا۔ واقعتاً، اب اس صفحے کا معیار خاصا بہتر ہوگیا ہے۔ (رونق افروز برقی، دستیگر کالونی، کراچی)
ج: بلاشبہ، منور مرزا کے تجزیات جس قدر بے لاگ، غیرجانب دارانہ اور دلائل سے بھرپور ہوتے ہیں، قارئین کے لیے اُن میں سیکھنے کا خاصا سامان موجود ہوتا ہے۔
مجھے بھی پیارا ہونا ہے!!
زندگی چاہے جتنی بھی دشوار گزار ہو، اُسے جیناہی پڑتا ہے۔ اُمید ہے میگزین کی تمام ٹیم ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوگی۔ سرِورق شربتی شربتی سا، پیارا لگ رہا تھا۔ آخری حاضری اگست کے مہینے میں دی تھی اور اب نومبر چل رہا ہے۔ اگرچہ وقت اتنا زیادہ بھی نہیں گزرا، لیکن انسان آندھی طوفانوں سے نبرد آزما ہو، تو وقت گویا ٹھہر سا جاتا ہے۔
خیر، نومبر کا شمارہ ہاتھ میں ہے، آداب کہہ رہا ہے، شاداب لگ رہا ہے۔ منور مرزا آئیں اور اپنے ساتھ ہلچل نہ لائیں، یہ ممکن نہیں۔ اس بار ٹرمپ کی کام یابیوں، عرفِ عام میں چالاکیوں کا ذکر کر رہے تھے۔ یا یوں کہہ لیں، صدر ٹرمپ کی چالاکیوں کے ذریعے حاصل کی گئی کام یابیوں کا احاطہ کررہے تھے۔ اُمِ حمنہ نے علامہ اقبال کی فلسطینیوں کے لیے کی گئی جدوجہد سے آگاہ کیا۔
اب بھی اِس دنیا میں گریٹا تھنبرگ جیسے لوگ موجود ہیں، جو صرف سیاسی بیان بازیوں سے کام نہیں لیتے، باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض علیمی ’’اقبال اور نوجوان‘‘ کے عنوان سے بہترین مضمون لائے، لرزتے قلم کے ساتھ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر ہے۔
خُودشناسی تو دُور کی بات، مسلمان و کافر میں صرف کلمے ہی کا فرق رہ گیا ہے۔ امریکی سماجی ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر کلارک کا ’’انٹرویو‘‘ بہترین تھا۔ اُن کی گفتگو خاصی پُرفکر لگی۔ حمید بلوچ کی باتیں بھی اچھی تھیں۔ اُف! ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کے رائٹ اَپ سے متعلق کیا کہوں۔
بس، اتناہی کہوں گی۔ ’’تسی گریٹ ہو جی‘‘ کیا انرجی ہے آپ میں، مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں پلیز۔’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کو چھوڑ دیا کہ ہم پاکستانی ’’پیناڈول ٹافی‘‘ کھا کے ہی ساری بیماریاں بھگا لیتے ہیں اور جناب! بادام نےکیا خُوب اپنی داستان سنائی۔
مجھے بھی پیارا ہونا ہے، تو بس آج ہی سے نوش فرمانے شروع کر دیے ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے دونوں افسانے بہت بھلے لگے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے تمام خطوط بھی زبردست تھے۔ اِس دُعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ سنڈے میگزین کو دن دگنی، رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔ (ایمن علی منصور)
ج: تم پہلے ہی بہت پیاری ہو۔ بادام سے بھی دوستی کرلی، تو کہیں آئینہ ٹوٹ ہی نہ جائے۔
ورنہ کون، کسی کے پیچھے آتا ہے!!
اِس دفعہ ایک نئے انداز سے سنڈے میگزین پر تبصرہ کُناں ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔ مندرجات کو اُن کے موضوعات کے تناظر میں قارئین کے جذبات و خیالات و احساسات کے حوالے سے خوشی و مسرت اور غم و دُکھ کے پیرائے میں ترتیب دے رہا ہوں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ طہارت و پاکیزگی کاحامل، ’’حالات و واقعات‘‘ میں رنگینی و نیرنگیٔ دوراں وزماں کا احاطہ اور بےگانگی و کم مائیگی کا اظہار۔
’’سنڈے اسپیشل‘‘ بردباری و سنجیدگی پر مبنی، ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ زودرنجی و افسردگی کا منبع۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ شگفتگی و شائستگی کا پَرتو، ’’پیارا گھر‘‘سلیقگی و فرخندگی سے مرصّع۔ اور ’’متفرق‘‘ بے مثالیت، انسیت و الفت و چاہت کا مرقّع۔ اِس بار ’’ڈائجسٹ‘‘ اول نمبر پر کہ ارسلان ارسل کےمنظوم خطبۂ حجتہ الوداع نےکمال کر دیا۔’’آپ کا صفحہ‘‘ برجستگی، دل بستگی سے مسجّع ’’ناقابلِ اشاعت فہرست‘‘ دل شکستگی و رنجیدگی کی ضامن۔
میرے خط کے جواب میں تم نے لکھا کہ میرے ارسال کردہ مضامین سنڈے میگزین کے لیے موزوں نہیں۔ کسی دوسرے جریدے کو بھیج دوں، تو یہ تم نے کیا کہہ دیا؟ کیوں، جس بچّے کا مَیں نے بچپن، لڑکپن، بانکپن، رعنائی و زیبائی، اولوالعزمی دیکھی ہو، مَیں کیوں اُسے چھوڑدوں؟ مجھے دلیل و برہان کے ذریعے قائل کرو۔
وگرنہ یہ میرا اٹل فیصلہ ہے کہ ان شاءاللہ جب تک زندگی ہے، اِس سے ناتا ختم نہ ہوگا اور مضامین بھی اِسی میں چَھپیں گے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناتا ہے، ورنہ کون، کسی کے پیچھے آتا ہے۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)
ج: آپ جب تحاریر ہمارے فارمیٹ کے مطابق لکھنے کو تیار ہی نہیں، تو پھر بھلا آپ کو اور کیا مشورہ دیا جائے۔ ہمارے ہر صفحے کا ایک مخصوص فارمیٹ ہے اور ہمیں ہرصُورت اُسے فالو کرنا ہوتا ہے۔
آپ تحریروں کی اشاعت کے خواہش مند ہیں، تو جس صفحے کے لیے لکھنا چاہیں، اُس کے اصول و ضوابط پر عمل درآمد کریں، تحریر بغیرکہے شائع ہوجائے گی، جیسے آپ کے خطوط اور پیغامات بھی تو مستقلاً شائع کیے ہی جارہے ہیں۔
ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ
ایک صاحب اپنے تبصرےمیں لکھتے ہیں۔ ’’اس مرتبہ تو ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں قرات نقوی، بھی موجود تھیں، واقعہ پسند آیا۔‘‘حیرت ہے، وہ ایسے کہہ رہےتھے، پسند آیا، جیسےکوئی خُوب صُورت افسانہ لکھا گیا ہو، ہمیں تویہ پڑھ کر انتہائی رنج والم، دُکھ ہوا کہ ایک کرائےدار بیوہ خاتون نے کیا کیا جتن کر کے، کچھ رقم پس انداز کی اور فراڈیے یتیم بچّوں کی زندگی بھرکی جمع پونجی لے اُڑے اور لُوٹنے والے وہ لوگ تھے، جن پر اُن کا سالوں سے اعتماد و اعتبار تھا۔
سیّد زاہد علی نے لکھا کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ یہ بات شاید اُنہوں نے خادم ملک (بےکار ملک) کی عدم شمولیت کی وجہ سے لکھی۔ ڈاکٹر اطہر رانا کے اندازِ تخاطب پر افسوس ہوا کہ اُنہوں نے اپنے خط میں آپ کے لیے، آپ کی بجائے لفظ ’’تم‘‘ دو بار استعمال کیا اور آپ نے بھی اُس کو ایسے ہی شائع کردیا۔
ڈاکٹر محمد حمزہ خان، قرات نقوی کی ای میل پر سیخ پا نظر آئے، قرات سے التماس ہے کہ آپ بےشک ای میلز بھی کریں، لیکن طویل خطوط ڈاک سے بھجوا دیا کریں۔ یوں لوگوں کا اعتراض دور ہو جائے گا۔ شاہدہ ناصر سے کہنا چاہوں گا کہ سالِ نو پر اچھے سے کمنٹ کے لیے سال میں صرف ایک خط؟
ہر ہفتے نہ سہی، مہینے میں ایک خط تو لکھ ہی دیا کریں۔ فیصل آباد والے ڈاکٹر اپنی والدہ سے متعلق لکھی تحریر کی عدم اشاعت پر شکوہ کُناں تھے، یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ والد اور والدہ سے متعلق تحریریں بھجوائے چھے ماہ ہوچُکے ہیں، تاحال کوئی اتا پتا نہیں۔ نیلم احمد بشیرکی تحریر ’’قیمتی‘‘ واقعتاً ’’قیمتی‘‘ تھی۔ ’’خُوب رو ہیں، سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جواب…‘‘ عبارت کے ساتھ ماڈل عالیہ راجپوت جلوہ افروز تھیں، شانوں پہ بال بکھرائے، عنّابی رنگ پیراہن میں مغلیہ دَورکی یاد دلا گئیں، جریدے کو رونق بخشے کا ازحد شکریہ۔
زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ کافی وقفے بعدشائستہ اظہر تشریف لائیں۔ اور ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر لکھی، جو کہ خُوب لکھی۔ درخواست ہے، اپنی تحریروں کے ساتھ حاضر ہوتی رہا کریں، خاص طور پر ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل میں تو حاضری ضرور لگوایا کریں۔
لگتا ہے، فیصل آباد میں تاحال دیسی گھی وافر مقدار میں دست یاب ہے، تب ہی سلیم راجا کے تبصرے اس قدرجان دار ہوتے ہیں، جریدے کے دیگر مندرجات میں مریم شہزاد کی ’’جوڑ‘‘ بابر سلیم کے ’’جواہر پارے‘‘ حنا شاہد کی ’’عظیم معلمہ‘‘ اور حافظ محمّد ثانی اور سیدہ تحسین عابدی کی نگارشات بہترین تھیں۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: آپ کی اسّی، نوے فی صد تحریریں ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ ہی ٹھہرتی ہیں اور ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کی تحاریر بھی شایع نہیں ہو سکیں گی۔ گرچہ فہرست بھی جلد شائع ہو جائے گی، مگر آپ کو انتظار کی زحمت سے بچانے کے لیے مطلع کیا جا رہا ہے۔ اور ہاں، کسی کے اندازِ تحاطب پر آپ کو قطعاً افسرہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ہمیں لکھنے والوں کی Intention کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کسی کو بیٹی سمجھتےہوئے’’تم‘‘کہنے لکھنے اور شایع کرنے میں ہرگز کوئی قباحت نہیں۔
دونوں اقساط بہترین
ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ ’’طالبان حکومت کو بھارت کی تھپکی‘‘ جی ہاں، بھارت پاکستان مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ماہِ نومبر کے دل چسپ عالمی ایّام سے متعلق پڑھ کر اچھا لگا۔ ’’دنیا کا بدلتا توازن اور پاکستان کا کردار‘‘ عُمدہ مضمون تھا۔
کراچی کے نوجوان ڈپٹی میئر، سلمان عبداللہ مُراد، مصور حمید بلوچ اور امریکی سماجی ماہرِ نفسیات، پروفیسر ڈاکٹر کلارک میک کولی کے انٹرویوز شان دار تھے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ،‘‘ میں ’’خواب راستے پر تھمے قدم‘‘کی دونوں اقساط بہترین رہیں۔
’’علّامہ اقبال نمبر‘‘ کا جواب نہ تھا۔ شاعرِ مشرق کے حوالے سے شان دار مضامین شامِل اشاعت ہوئے۔ میرے، ایک شمارے میں ’’اَن مول موتی‘‘ اور دوسرے میں خط شائع فرمانے کا شکریہ۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)
شائستہ کا قلم، ماڈل کا حُسن
’’روشنی کے مینار‘‘، صحابیٔ رسولؐ، حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ سے متعلق محمود میاں نجمی نے عقیدت ومحبت کے وہ پھول چُنے کہ خُوشبو، چہار سُو پھیل گئی۔ بلاشک و شبہ، نبیﷺ کےنقوشِ قدم، ہیں جنّت کے راستے۔ ڈاکٹرعابد شیروانی اپنے مضمون ’’مقامِ مصطفیٰؐ، اقبال کی نظر میں‘‘ سے سمجھا گئے کہ آپؐ کا وجود، قرآنِ کریم کا عملی نمونہ ہے ؎ کی محمّدؐ سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں… یہ جہاں چیز ہےکیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔
حضرت محمد ؐ کا اسلوبِ تدریس، اساتذہ کے لیے مینارۂ نور ہے۔ حافظ بلال بشیر کا مضمون گویا گُلوں کی مالا تھا۔ نصرت عباس داسو نے اچھا لکھا کہ ’’انسان اور پرندے ایک ہی کائناتی سفر کے شریک ہیں۔ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ ڈاکٹر عبدالستار عباسی کی اچھی کاوش تھی۔ منور مرزا ’’پاک، سعودیہ تاریخی دفاعی معاہدے‘‘ پر عُمدگی سے روشنی ڈال گئے۔
شائستہ اظہر تو جب جب آتی ہیں، چھا ہی جاتی ہیں۔ بلکہ مخزن کو بھی آٹھ چاند لگا دیتی ہیں اور جب قلم شائستہ اظہرکا ہو، تو ماڈل کا حُسن دوبالا تو کیا، سہ بالا ہی ہونا تھا۔ عرفان جاوید کے مرتبّ کردہ محمّد عباس کے افسانے ’’واہل‘‘ کا تو آغاز ہی لاجواب تھا۔ ’’ہاں پُتر! بےجان چیزیں بھی روتی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر ایم عارف سکندری، جمیل ادیب سید اور زہرا یاسمین کے مضامین بھی لائقِ ستائش ٹھہرے۔’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے تینوں کردار بہت خُوب تھے۔ اور آپ کا صفحہ، میرا صفحہ، سب کا صفحہ اس بار رانا محمد شاہد کے نام رہا، زبردست۔ (ضیاءالحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)
ج: تبصرہ بھیجنے میں کچھ تاخیر نہیں ہوگئی؟ اب اللہ جانے آپ نے خط دیر سے پوسٹ کیا کہ یا یہ محکمۂ ڈاک کی کارستانی ہے۔
فی امان اللہ
شمارہ سامنے ہے، پیکرِ صبر و رضا، صحابیٔ رسولؐ، حضرت عمار بن یاسرؓ کی لازوال قربانیوں کو محمود میاں نجمی نے خُوب صُورت پیرہن عطا کیا۔ منور مرزا ’’غزہ میں امن کی سحر‘‘ کے عنوان سے حالاتِ حاضرہ پر تحریر لائے۔ اِن امن کوششوں اور امن معاہدے کو ابھی بیس دن بھی نہیں گزرے کہ اسرائیل نے دوبارہ بم باری کرکے درجنوں فلسطینی شہید کردیے۔ قرآن تو ڈیڑھ سوسال پہلے کہہ چُکا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔‘‘
ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی نے سوشل میڈیا کی حقیقتوں کو خُوب آشکار کیا، معاشرتی بگاڑ کی ایک وجہ فیک نیوز بھی ہیں، جو فاصلے بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں، لوگ اب ایک دوسرے پر یقین ہی نہیں رکھتے اور اِس طرح مُلک و قوم کا کتنا نقصان ہورہا ہے، کسی کو اندازہ ہی نہیں۔ ’’ایک وڈیرے کی کہانی‘‘ کا (ہمارے گھر آنے والے جریدے میں) کچھ حصّہ مِس پرنٹ تھا، اب لائبریری جا کرپڑھوں گا۔
رحمان فارس کا ’’انٹرویو‘‘ زبردست رہا، بہت دل چسپی سے پڑھا۔ جامعہ کراچی، بس حادثے میں طالبہ کی موت کا پڑھ کرافسوس ہوا۔ ثانیہ انور نے ’’سفر‘‘ کے عنوان سے منفرد اسلوب اختیار کیا۔ بوڑھے ڈرائیور کے چہرے کے خدوخال اور راستوں کی منظر کشی کا جواب نہ تھا۔ میرے خیال میں ثانیہ انور کو افسانہ نگاری کے متعلق سنجیدگی سے سوچناچاہیے۔ اگلے جریدے کے سرِورق پر ماڈل کا لباس نیلا اور پس منظر ہرا، ہرا تھا، تو کامبی نیشن بہت اچھا لگا۔
ماہِ نومبر کے اہم دنوں پر ثانیہ انور کی تحریر معلومات سے بھرپور تھی۔ ہم ان 13اہم ایام میں سے صرف4 ذیابطیس، برداشت، اطفال اور ٹیلی ویژن کے یوم سے متعلق ہی جانتے تھے۔ سیدہ تحسین عابدی حکومتِ سندھ کی ترجمان ہوکر بھی اتنا اچھا اور تسلسل سے لکھتی ہیں، کمال ہے، وگرنہ سیاسی وابستگی کے ساتھ غیر جانب داری آسان نہیں۔ کراچی کے نوجوان ڈپٹی میئر کی بات مناسب لگی کہ ’’مِنی پاکستان کا لاہور سے موازنہ درست نہیں۔‘‘
مگر موازنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کراچی اگر مِنی پاکستان ہے تو اِس شہر کو کم از کم وہ تو لوٹایا جائے، جو اِس کا حق ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں اقصیٰ منور ملک نے عورت ذات کو لے کر بہت عُمدہ لکھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں شکار پوری اچار کی تاریخ اور اقسام پر محمِد اکرام کی تحریر دل چسپ تھی، مگر ہمارا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا۔ اس سے اچھا اچار تو ہمارے گھروں کی مائیں، بہنیں بنالیتی ہیں۔
ریاض علیمی اور رستم علی خان کے مضامین کاموضوع’’نظامِ تعلیم‘‘تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ کی بےتوقیری ہو یا فرسودہ نظامِ تعلیم، رونا توسب روتے ہیں، مگر کوئی مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا۔ ثاقب عبداللہ نظامی کی تحریر ’’اخبار، تہذیب کا آئینہ‘‘ دل چسپ تھی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں افسانے کی اشاعت کا بےحد شکریہ۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
* سنڈے میگزین کے اوراق پلٹتے ہوئے دل نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ تم بھی اپنی خاموشی کو الفاظ دے دو۔ مَیں لیاقت آباد کی رہائشی ہوں، اور پچھلے دو سال سے یہاں ہر روز گیارہ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہی ہوں۔ ہم وقت پر بجلی کا بل دیتے ہیں، کسی غیر قانونی طریقے سے بجلی نہیں لیتے، مگر پھر بھی دن کا بڑا حصّہ اندھیرے میں گزرتا ہے۔
میری حکومتِ وقت سے بس اتنی گزارش ہے کہ جو لوگ ایمان داری سے اپنے واجبات ادا کرتے ہیں، اُن کے لیے بھی انصاف کا کوئی در کھولا جائے۔ بچپن سے ذہن میں ’’جنگ‘‘ کے معنی کچھ اور تھے، لیکن جیسے جیسے بڑے ہوئے، جنگ اخبار کا مطالعہ شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ جنگ کے معنی صرف لڑائی نہیں، زندگی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد بھی ایک جنگ ہے۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنگ ایک مکمل اخبار ہے، اس کےمطالعے سے ہم نہ صرف اپنےاردگرد کے حالات و واقعات بلکہ دنیا بھر کے معاملات سے بھی باخبر رہتے ہیں۔ (فضاءالہیٰ، کراچی)
ج: وہ کیا ہے فضاء ؎ آ عندلیب! مل کے کریں آہ و زاریاں۔ اور ؎ تیرا غم، میرا غم، اِک جیسا صنم۔ ہم خُود کے الیکٹرک کے ہاتھوں اِسی طرح ذلیل و رسوا ہورہے ہیں۔ ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے ہمارا ایریا ’’لوڈ شیڈنگ فری‘‘ تھا، جو اچانک نام نہاد ’’لائن لاسز‘‘ کے سبب چھے سے آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سزاوار ٹھہرا۔
اب کوئی اِن ظالموں، عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ جو لوگ اپنے ماہانہ واجبات باقاعدگی اور پوری ذمّے داری سے ادا کررہے ہیں بلکہ اپنے بچّوں کے پیٹ کاٹ کے آدھی آدھی تن خواہیں بلز میں لگےبھانت بھانت کے ٹیکسز کی مد میں دے رہے ہیں، اُنھیں کس جُرم کی سزادی جارہی ہے۔
اگر کہیں بجلی چوری ہو بھی رہی ہے، تو کیا یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ڈنڈے لے کر بجلی چوروں کے پیچھے بھاگیں۔ ادارے میں اتنی بھی اہلیت نہیں، تو یہ لوگ اتنی بڑی بڑی تن خواہیں کس مد میں لے رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اِس مُلک میں ایمان دار، سفید پوش افراد کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk