کراچی (رفیق مانگٹ) ٹرمپ مودی ٹیرف جنگ کا خاتمہ، مگر معاہدہ سوشل میڈیا اعلان تک محدود، اصل شرائط بدستور غیر واضح، 18فیصد نیا ٹیرف، مگر 500 ارب ڈالر اور روسی تیل پر خاموشی برقرار، کاروباری حلقے اب بھی غیر یقینی کا شکار،25 نہیں، 50 فیصد ٹیرف کی حقیقت، نئی شرح فوری نافذ مگر تفصیل غائب ہیں۔ابہام ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کا خاصہ، اکثر معاہدوں کا اعلان اس وقت کر دیتے ہیں جب باریک نکات طے نہیں ہوتے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان عملی طور پر صرف رہنماؤں کی سوشل میڈیا مفاہمت موجود ہے، جبکہ معاہدے کی حقیقی شرائط ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان گزشتہ موسمِ گرما سے جاری سخت تجارتی محاذ آرائی اچانک اپنے اختتام کو پہنچ گئی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے بھاری محصولات ختم کرنے کا اعلان کیا، اعلان کے باوجود معاہدے کی بیشتر شرائط دھند میں لپٹی ہوئی ہیں، جنہوں نے کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پوسٹ میں بتائی گئی نئی 18 فیصد ٹیرف شرح کے سوا معاہدے کی دیگر تمام تفصیلات غیر واضح رہیں۔ زیادہ تر بھارتی اشیا پر 25 نہیں بلکہ 50 فیصد ٹیرف عائد تھا، جو 6 اگست سے نافذ تھا۔صدر ٹرمپ نے لکھا کہ نئی شرح فوری طور پر نافذ العمل ہو گی، تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔ماہرین کے مطابق، اگر بھارت روسی تیل کی خریداری مزید کم کرتا ہے تو اس سے روس کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی گزشتہ سال نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔