کراچی (نیوز ڈیسک) کینیڈین ارب پتی اور فنانسنگ کمپنی کے مالک اسٹیفن اسمتھ نے لیڈی لن فارسٹر ڈی روتھس چلڈ سے ʼدی اکانومسٹ گروپʼ کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ (تقریباً 27فیصد) خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے، یہاس پریمیئم میگزین کے پبلشر کی ملکیت میں ایک دہائی کے دوران پہلی تبدیلی ہے۔ سمتھ کی فیملی ہولڈنگ کمپنی، ʼسمتھ فنانشلʼ، فارسٹر ڈی روتھس چلڈ، ان کے خاندان اور ان کے فیملی فاؤنڈیشن سے گروپ میں 26.9 فیصد حصہ حاصل کرے گی۔ اس معاملے سے واقف افراد کے مطابق، اسمتھ نے تقریباً 300 ملین پاؤنڈ ادا کئے ۔ اسمتھ فنانشل نے ایک بیان میں کہا: "یہ سرمایہ کاری ʼدی اکانومسٹʼ کی سخت ادارتی آزادی کی دیرینہ روایت کے لئے اسمتھ کی مکمل حمایت کی عکاسی کرتی ہے ۔ آپریٹنگ منافع بڑھ کر 48.1 ملین پاؤنڈ ہو گیا اور سبسکرپشنز 3 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3 ملین تک پہنچ گئیں۔گروپ کا ملکیتی ڈھانچہ پیچیدہ ہے جس میں تقریباً 1,000 شیئر ہولڈرز شامل ہیں، جن میں فیملی ہولڈنگز سے لے کر موجودہ اور سابق ساتھی اور ان کے خاندان شامل ہیں۔ روتھس چلڈکی ہولڈنگ، جسے سمتھ خرید رہے ہیں، میں عام حصص اور خصوصی ʼAʼ حصص شامل ہیں، جو انہیں بورڈ کے ڈائریکٹرز کی تقرری میں رائے دینے کا حق دیں گے۔ ایگنیلی خاندان کی سرمایہ کاری کمپنی ʼایکسرʼ (Exor) کے پاس گروپ کا 43.4 فیصد حصہ ہے، جس میں اس کے تمام خصوصی ʼBʼ کلاس شیئرز شامل ہیں۔ کچھ شیئرز ٹرسٹیز کے پاس بھی ہیں، جن کی رضامندی ʼدی اکانومسٹʼ کی ادارتی آزادی کے تحفظ کے لئے مخصوص کارپوریٹ سرگرمیوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ کوئی بھی واحد شیئر ہولڈر، یا شیئر ہولڈرز کا گروپ، کل ووٹنگ حقوق کے 20 فیصد سے زیادہ ووٹ استعمال کرنے کا حقدار نہیں ہے، جس کا مقصد مؤثر طریقے سے اکثریتی کنٹرول حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنا ہے۔