اسلام آباد(ممتاز علوی)پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی پارلیمانی پارٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں جمعرات کے روز 8فروری کے ’یومِ سیاہ‘ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔8 فروری کو پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے عوامی تحریک کو مزید تیز کرنے کا اعادہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا، عوام پرامن طور پر اور رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بند کر کے اس ناانصافی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ عوام پرامن احتجاج کریں گے اور نمازِ مغرب کے بعد مشعل بردار ریلیاں نکالی جائیں گی۔یہ اجلاس یہاں خیبر پختونخوا ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن اتحاد کی قیادت کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر تحریک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ، چیئرمین تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی، وائس چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس، جنرل سیکرٹری اسد قیصر اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ اجلاس میں مجموعی سیاسی، سیکورٹی اور صوبائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور پارٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق امور اور 8 فروری کے حوالے سے حکمت عملی پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں متحد ہے۔