اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے طے کرلیا ہے کہ آٹھ فروری کے احتجاج کے فوری بعد کسی ملک گیر مہم جوئی کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور آج تمام تر جدوجہد کا مرکزی محور بانی تحریک انصاف کی صحت ا ور اس کے معالجین کی قیدی تک رسائی رہے گا۔ جنگ /دی نیوز کو جمعرات کی شب حد درجہ قابل اعتماد حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ آج (جمعہ) کی صبح تمام ارکان پارلیمنٹ سپریم کورٹ میں یادداشت دائر کرنے کے لئے جائیں گے جس میں چیف جسٹس سے استدعا کی جائے گی کہ وہ بانی کے ڈاکٹروں کی رسائی کو یقینی بنائیں اور علاج کے لئے مطلوبہ سہولتوں کے علاوہ قیدی کے انسانی حقوق واگزار کرائیں ۔ارکان سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو یادداشت پیش کرنے کے بعد پرامن طور پر پارلیمنٹ ہائوس چلے جائیں گے جو سپریم کورٹ کے برابر واقع ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صرف ایک ہی مطالبہ اٹھایا جائے گا کہ بانی تحریک انصاف کو صحت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ معلوم ہوا ہے کہ آٹھ فروری کو خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل خان آفریدی سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ آٹھ فروری کو احتجاج کی قیادت کے لئے لاہور جانے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں توقع ہے کہ وہ آٹھ فروری کو پنجاب کا رخ کرنے سے باز رہیں گے۔