اقوام متحدہ (تجزیہ : عظیم ایم میاں) دنیا بھر میں 80؍ فیصد سے زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل دو ملکوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کا معاہدہ اپنی مدت پوری کرکے ختم ہوگیا اب یہ دو نوں ممالک اور ان کے ہمراہی ممالک پہلے سے بھی زیادہ مہلک ایٹمی ہتھیاروں کی ایجاد، ٹیسٹنگ اور استعمال کے لئے آزاد ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 50؍ سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل ہونے والے ’’نیوکلیئر آرمز ٹریٹی‘‘ کی میعاد ختم ہونے پرنئے معاہدہ پر دستخط کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے لمحات میں کہ جب عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں تو ایسے وقت میں عالمی امن اور سیکورٹی کے لئے یہ صورتحال بڑی تشویشناک ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ بیان اور ان مہلک ہتھیاروں کے با رے میں نئے معاہدہ کی فوری ضرورت پر مبنی بیان بالکل درست اور عالمی طاقتوں کی توجہ کا طلب ہے کیونکہ اب نہ صرف امریکا اور روس ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں آزاد ہیں بلکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران روس، امریکااور دیگر ایٹمی ممالک نے نئے نئے خاموش تجربات اور تحقیق کے ذریعے جومزید مہلک اور عام تباہی پھیلانے والے ایٹمی ہتھیار تیار تو کررکھے ہیں لیکن ان کا اعلان یا اعلانیہ تجربہ اس معاہدہ کی وجہ سے نہیں کیا تھا اس معاہدہ کے ختم ہونے پر نہ صرف امریکا اور روس ان نئے ایجاد کردہ مزید مہلک ا ور عام تباہی کے ہتھیاروں کے تجربات، وجود اور استعمال کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔ روس کے صدر پیوٹن نے یوکرین کے خلاف نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے دی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت کے دروان پی ٹی آئی کے سربراہ اور پاکستانی وزیراعظم سے وائٹ ہائوس میں 22؍جولائی 2019ء کو ملاقات کے دوران اپنے ریمارکس میں ایک ایسے ہتھیار کا ذکر کیا تھا جس ایک ہتھیار کا استعمال پورے افغانستان کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی طاقت کا حامل تھا صرف یہی نہیں بلکہ میعاد پوری کرکے ختم ہونے والے ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدہ کے دوران اس عرصہ میں بھارت اور پاکستان بھی ایٹمی طاقت حاصل کرچکے ہیں بلکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کے میدان میں نت نئے تجربات اور دعوے بھی سننے اور دیکھنے میں آرہے ہیں ۔