• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں واقع فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں واقع فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی،چیف فائر آفیسر نے آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دے دیا،ٹریفک جام کی وجہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پھنس گئیں۔تفصیلات کے مطابق لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں قائم فیکٹری میں جمعہ کی شب آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا آگ کی اطلاع ملنے پر ابتدائی طور پر متعدد فائر ٹینڈر روانہ کیے گئے تاہم آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیکر شہر بھر سے فائر ٹینڈز اور اسنار کل کو طلب کرلیا گیا ہے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر پہنچنے کے لیے نیشنل ہائی وے ملیر 15 سے قائد آباد جاتے ہوئے جائے فائر ٹینڈر ٹریفک جام میں پھنس گئے جس کی وجہ سے عملے کو جائے حادثہ پر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پلاسٹک کا سامان بنانے والی فیکٹری میں لگی تھی جس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپٹ میں لے لیا۔مجموعی طور پر 10 فائر ٹینڈرز ، 3 اسنار کل اور واٹر باؤزر کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ لانڈھی ایکسپوٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری کے اندر آتشزدگی کی اطلاع پر واٹر کارپوریشن کے واٹر ٹینکرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق سی ای او واٹر کارپوریشن نے لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس کے انچارجز کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی جبکہ آتشزدگی پر مکمل قابو پانے تک فائر بریگیڈ کے عملے کو واٹر ٹینکرز کی فراہمی جاری رہے گی ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں آتشزدگی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر اور ایس پی ٹریفک کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ فیکٹری اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنایا جائے جبکہ فائربریگیڈ اور ریسکیو رضا کاروں کی بروقت رسائی کے لیے راستہ بھی کلیئر کرایا جائے ، فائر بریگیڈ کے مطابق آگ پر چاروں جانب سے قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ پلاسٹک فیکٹری میں لگنے والی آگ نے برابر پرانے جوتا فیکٹری کی تیسری منزل کو بھی اپنی لپٹ میں لے لیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں آتشزدگی کے تین بڑے واقعات ہوئے تھے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی اطلاع 8 بجے کے قریب ملی۔حکام کے مطابق ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی میں ہر چھ ماہ بعد فائر فائٹنگ کی ٹریننگ کا ایم او یو سائن ہوا تھا۔ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کو فائر اینڈ سیفٹی سے متعلق سروے فارمز دیئے گئے۔چار ماہ گزرنے کے باوجود اب تک فائر اینڈ سیفٹی سروے فارمز فائر بریگیڈ حکام تک نہیں پہنچائے گئے۔ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں ایم او یو کے مطابق فائر فائٹنگ کی ٹریننگ کا بھی کو بندوبست نہیں کیا گیا۔ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں تیسرے درجے کی تیسری بڑی آگ لگی ہے۔زون کو 2 فائر ٹینڈرز بھی فراہم کیے گئے ہیں جبکہ 4 ماہ قبل سروے فارم دیئے گئے تھے جو کہ 100 کے قریب تھے لیکن اس میں سے ایک بھی رسپارنس نہیں آیا ۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر کب تک قابو پایا جا سکے گا یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم آگ کی شدت میں کچھ کمی ضرور آئی ہے تاہم مکمل قابو پانے کے بعد ہی کولنگ کا عمل شروع کیا جا سکے گا ۔آتشزدگی کی اطلاع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد بھی ایکسپورٹ پروسسینگ زون پہنچ گئے جہاں انھوں نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے فائر فائٹرز ریسکیو آپریشن میں سرگرم ہیں ، مختلف شاہراہوں پر احتجاج کے باعث فائر بریگیڈ کے عملے کو مشکلات پیش آئیں جبکہ واٹرکارپوریشن اور دیگر ادارے بھی ریسکیو آپریشن میں تعاون کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ آگ پر جلد قابو پالیا جائے ۔آخری اطلاعات آنے تک فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف تھا ۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق مشیر وزیر اعلیٰ سندھ برائے بحالیات گیان چند اسرانی کے احکامات اور ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 (سندھ) واجد سبغت اللہ مہر کی ہدایات پر چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122، ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ جائے وقوعہ پر موجود رہ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک کراچی مظہر نواز شیخ کی ہدایات پر ڈی ایس پی ایڈمن ٹریفک کاشف ندیم ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں آتشزدگی کے مقام پر پہنچے جہاں وہ ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے اور ٹریفک کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ترجمان رینجرز کے مطابق سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں ۔ایس ایس پی ملیر زبیر نذیر شیخ اور ڈپٹی کمشنر ملیر سمیع اللہ شیخ ٹریفک پولیس افسران کے ہمراہ موقع پر موجود ہیں۔انتظامی و سیکیورٹی امور کی نگرانی براہ راست اعلیٰ افسران کی جانب سے کی جا رہی ہے۔پولیس کی نفری نے جائے وقوعہ کو محفوظ بناتے ہوئے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا، ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں کا انتظام بھی کیا گیا۔فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کے بعد آگ پر قابو اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کے عملے کے ٹریفک جام میں پھنسنے کے حوالے سے ٹریفک پولیس کا کہنا ہے نہ نیشنل ہائی وے ملیر پر اسلام آباد دھماکے کے تناظر میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی گیا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ۔احتجاج ختم ہونے کے بعد جب ٹریفک کو چھوڑا گیا تو ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاروں لگ گئیں جس میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو رضاکار بھی پھنس گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ روڈ کو ٹریفک کے لیے کلئیر کر دیا گیا ہے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ رات 9 بجے کے قریب لگی جس پر تاحال قابو پانے کی کوشیش جاری ہیں۔آگ ایک سے دوسری فیکڑی میں پھیلی ، تیسری فیکٹری بھی متاثر ہوئی تاہم تیسری فیکٹری محفوظ ہے ۔ابتداء میں جس فیکڑی میں آگ لگی وہ 4 ہزار گز پر قائم ہے ۔آگ کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے۔کے ایم سی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں چار اطراف سے فائر فائٹنگ کر رہی ہیں۔متاثرہ عمارت میں روئی اور پلاسٹک موجود ہے۔آگ کی شدت کے باعث شہر بھر سے گاڑیاں منگوائی گئی ہیں۔کے ایم سی کی تین اسنارکلز بھی آپریشن کا حصہ ہیں ۔کے ایم سی ، نیوی اور ریسکیو 1122 کی 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ کوشش ہے آگ پر جلد قابو پا لیا جائے۔
اہم خبریں سے مزید