کراچی (اسٹاف رپورٹر) پری ارائیول، پوسٹ پے منٹ جی ڈی فائلنگ ،کسٹمزکلیئرنس کے عمل کو تیز بنا دے گی، یہ نظام کسٹمز حکام اور تاجر برادری کے درمیان اعتماد اور باہمی رابطے کو بھی مضبوط کرے گا، یہ بات آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (اے پی سی اے ے)کے چیئرمین ارشد خورشید نے کسٹمز اکیڈمی آف پاکستان میں منعقدہ ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بتائی ۔اس سیشن میں سینئر کسٹمز افسران، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو)کے نمائندگان اور بڑی تعداد میں کسٹمز ایجنٹس نے شرکت کی۔ چیئرمین ارشد خورشید نے کہا کہ پاکستان میں درآمدی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پری ارائیول فائلنگ اور پوسٹ پیمنٹ آف امپورٹ گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی)کے نفاذ کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔یہ نیا نظام ملک میں درآمدی کلیئرنس کے عمل کو تیز، شفاف اور موثر بنانے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ارشد خورشید کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت درآمد کنندگان جہاز کی آمد سے قبل ہی گڈز ڈیکلریشن فائل کر سکیں گے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور حتی کہ صوبائی سیس کی ادائیگی بعد میں ممکن ہوگی۔ اس سہولت سے نہ صرف کارگو کی بندرگاہوں پر قیام کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ تاجروں کو کیش فلو کے دبا سے بھی نمایاں ریلیف ملے گا۔چیف کلکٹر کسٹمز(اپریزمینٹ)ساتھ واجد علی نے آگاہی سیشن سے میں جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تاجروں اور کسٹمز ایجنٹس پر زور دیا کہ وہ پری ارائیول اور پوسٹ پیمنٹ جی ڈی فائلنگ کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ تیز رفتار کلیئرنس کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستان سنگل ونڈو کے ڈائریکٹر خرم اعجاز نے نظام کے عملی خدوخال سے آگاہ کیا جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ریفارمز اینڈ آٹومیشن غلام نبی کمبو نے آٹومیشن پر مبنی اصلاحات کے فوائد پر روشنی ڈالی۔