کراچی (ٹی وی رپورٹ)تجزیہ کاروں فخر درانی، بینظیر شاہ، مظہر عباس اور ڈاکٹر قمر چیمہ نےکہا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران جس انداز میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے وہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان علینہ فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔تفصیلات کے مطابق میزبان علینہ فاروق کے سوال کہ پاکستان نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی اسلام آباد کے حالیہ سانحے کے تناظر میں اس مطالبے کی اہمیت کیا ہے۔ تجزیہ کار فخر درانی نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور جوں جوں ہماری قوم نارملائزیشن کی طرف آرہی ہے تو دوسری طرف سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب بلوچستان ، خیبرپختونخوا سے نکل کر اسلام آباد تک آچکے ہیں بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ دہشت گردی دوبارہ سر اُٹھا رہی ہے۔ تمام متعلقہ حلقے بالخصوص سیاسی جماعتوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے اور اب ناگزیر ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک بے رحم آپریشن کیا جائے۔امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کیا تھا اور پچھلے سال بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کو بھی دہشت گرد کے زمرہ میں ڈالا تھااور پاکستان کے موقف کی تائید امریکہ سمیت دیگر ممالک کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار بینظیر شاہ نے کہا کہ پچھلے دو سال میں جس طرح دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے یہ بہت خطرناک ہے یہ اسلام آباد میں تین مہینوں میں دوسرا بڑا واقعہ تھااکثر جب ملک میں بڑے تہواروں کی تیاری ہوتی ہے تو اس طرح کا واقعہ ہوجائے تو ڈبیٹ اس طرف چلی جاتی ہے کہ بسنت بند کردی جائے جبکہ ڈبیٹ یہ ہونی چاہئے کہ بسنت بند نہ کی جائے بلکہ اپنی اندرونی سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا جائے۔