• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج او پی ڈی میں بہت زیادہ رش تھا، مگر دماغ صرف دو مریضوں پر ہی اٹک کر رہ گیا۔ ڈاکٹر باجی! یہ ہماری بہن کا بچہ ہے اس کو دیکھو…اس کو بخار ہےاس کو دست بھی ہورہے ہیں، بہت چھوٹا سا بچہ چادر میں لپٹا ہو ا تھا۔ اس کی عمر کیا ہے…؟ چار دن، کب سے بخار ہے؟ چار دن سے، ناف پر دھاگہ بندھا ہوا تھا اور اس پر سرمہ بھی لگا ہوا تھا۔ عورت کے ہاتھ میں ایک بغیر ڈھکن کا فیڈر بھی تھا۔

ماں کا دودھ کیوں نہیں دیتے…؟جواب میں عورت ایک دم رونے لگی۔ ڈاکٹر باجی اس کی ماں مر گئی ہے۔ کیسے …؟ یہ بچہ گھر پر پیدا ہوا ہے۔ اسپتال میں چیک اپ نہیں کروایا…؟ ایک دفعہ کروایا تھا۔ ڈاکٹرنی نے بتایا تھاکہ بلڈپریشر زیادہ ہے اور خون کی بھی کمی ہے۔ اس کو باقاعدہ چیک اپ کی ضرورت ہے، مگر اس کی ساس نے بولا ڈاکٹر نیاں ایسے ہی بولتی ہیں، کچھ نہیں ہوتا، مگر میری بہن کو ہاتھوں پیروں پر سوجن بہت آگئی تھی۔

دائی نے کیس کیا، مگر جب زیادہ خون بہنے لگا تو دائی بولی یہ کیس میرے بس کا نہیں ہے۔ اس کو اسپتال لے جائو… اسپتال بھی نہیں پہنچی راستے ہی میں ختم ہوگئی اس سے پہلے پانچ بچے اور بھی ہیں۔

بچے کو چیک کرتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ محبت، شفقت روشنی نرمی اور آسانی اس ننھے وجود کو کیسے معلوم ہوسکتی ہے، جس معصوم کو زندگی اور موت ہی کی خبر نا ہو۔ جو صرف لمس کی زبان جانتا ہو۔ اس معصوم کو کیا خبر کہ اس سے کیا کچھ چھن چکا ہے۔

بچے کو چیک کیا۔ دوا دی، ناف کی صفائی کروائی فیڈر کی صفائی سے متعلق سمجھایا۔ دل اداس ہوگیا۔ جونیئر ڈاکٹر بھی اداس ہوگئی۔ اسٹاف نے چائے ،کافی کا پوچھا میں نے منع کردیا۔ دل ہی ناچاہا۔ دوچار مریضوں کے بعد ایک عورت اپنی ماں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی، ذرد رنگت، سوجی آنکھیں، تھکن سے نڈھال، ایسی تھکن جس میں روح بھی تھک جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آئی، ڈاکٹر صاحبہ میری بیٹی کو دیکھ لیں۔ اس کو بخار ہے اور پیٹ میں درد بھی ہے۔ کب سے؟ جب سے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

ڈیلیوری کب ہوئی ہے…؟ ایک ہفتہ پہلے۔ ناسوتی ہے، ناکھاتی ہے۔ بس روتی رہتی ہے۔ بچہ کہاں ہے اس کا …؟جی وہ تو پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ شاید سانس بھی نہیں لی۔ کہاں پر ڈیلیوری ہوئی؟ گھر پر اسپتال میں کیوں نہیں؟ اس کے سسرال میں رواج نہیں ہے اسپتال میں ڈیلیوری کروانے کا سب کے بچے گھر پر ہی ہوتے ہیں۔ اس کی ساس کہتی ہے اسپتال میں چیک اپ صحیح نہیں ہوتا۔

ڈاکٹرنیاں خوب طاقت کی دوائیاں دیتی ہیں تو بچہ پھر آپریشن ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ تو آپ ماں ہیں آپ ہی اس کا چیک اپ کروالتیں۔ جب یہ میکے آئی تھی تو میں نے اسپتال میں چیک اپ کروایا تھا۔ ڈاکٹر نے معائنہ ، ٹیسٹ اور الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کے بعد بتایا تھا کہ مریضہ کو خون کی بہت کمی ہے۔ خون سات پوائنٹ تھا اور بلڈپریشر بھی زیادہ تھا۔ بچے کے ساتھ پانی بھی کم بتایا تھا۔

میں نے دوائیاں بھی لیکر دی تھیں، پھر یہ اپنے سسرال چلی گئی۔ دن بہ دن پیلی زرد ہوتی گئی اور جسم پر سوجن آتی گئی میں ایک بار ملنے بھی گئی تھی۔ دوا تو دور کی بات اسکو انڈا، کجھور، مرغی، مچھلی وغیرہ بھی کھانا منع تھا کہ یہ چیزیں گرم ہوتی ہیں۔ سارے پرہیز کے باوجود میری بچی کی گود تو خالی رہ گئی نا…! بچہ تو نہیں بچانہ…!سب بتاتے ہوئے وہ رونے لگی۔

ایک ماں جس نے نو ماہ اپنے بچے کے لئے آنکھوں میں خواب سجائے، مگر قسمت اس کی گود میں مسکراتا بچہ دینے کی بجائے ایک خاموش وجود تھماگئی۔ یہ ایک عورت کے لئے ایسا زخم ہے جوکبھی نہیں بھرتا۔ امید کیسے حسرت میں بدلتی ہے، آس کیسے ٹوٹتی ہے، خواب کیسے بکھرتا ہے، خوشی کیسے غم میں بدل جاتی ہے۔ ممتا بھری مسکراہٹ نرمی کیسے نوحے میں بدل جاتے ہیں ۔یہ میں نے دیکھا۔ ایسے میں ڈاکٹر کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔

ایسے وقت میں صرف علاج نہیں ہمدردی ، تسلی اور حوصلے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بے شک زندگی اور موت پر اللہ سبحانہ تعالیٰ قادر ہے ،مگر کچھ اصول طے شدہ ہیں۔ جیسے آگ جلا دیتی ہے ۔ پانی ڈبو دیتا ہے۔ بیماری مار دیتی ہے اور لاپرواہی زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔ جب ایک ماں کی گود بھرنے سے پہلے اجڑ جائے اور ایک نومولود سے اس کی ماں چھن جائے تو ایک سوال ذہن میں آتا ہے کیوں…؟

ان دونوں صورتوں میں کہیں لاپرواہی تو ہوئی نا۔ اگر دونوں عورتیں حمل کے دوران اپنا باقاعدہ معائنہ کروالیتیں تو شاید یہ سب کچھ نا ہوا ہوتا۔ پاکستان اس وقت دنیا میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں نیچے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ یہاں میٹرنل مورٹیلیٹی ریٹ 155اموات فی ایک لاکھ زندہ پیدائش پر ہے۔

پاکستان میں روزانہ 27عورتیں زچگی کے دوران فوت ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح 27.5فی 1000زندہ پیدائش ہے۔ روزانہ 675نومولود بچوں کی اموات ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں زچہ اور بچہ کی صحت ایک اہم مسئلہ ہے۔

بچاؤ یا احتیاطی تدابیر پر غور کریں تو 

( 1) حمل کے دوران باقاعدہ معائنہ 

(2) خون کی کمی کا بر وقت علاج 

(3) ڈیلیوری ہمیشہ تربیت یافتہ دائی یا ڈاکٹر کی نگرانی میں کروائیں اسپتال کو ترجیح دیں۔

(4) صاف ستھرے اور محفوظ ماحول میں ڈیلیوری کروائیں۔

(5) ہائی رسک حاملہ خواتین مثلاً جن کا بلڈ پریشر زیادہ ہو یا جن کوذیابیطس ہو یا جگر کے مسائل جیسے ہیپاٹائٹس، ان کو لازمی اسپتال میں ڈیلیوری کروانی چاہئے۔

(6) خون کی کمی کا بروقت علاج کروانا چاہئے۔

حمل کے دوران ہر قسم کے مسائل سے بچنے کے لیےباقاعدہ طبی معائنہ اور صحت بخش متوازن غذا بہت ضروری ہے ۔ ایسی غذا جس میں تمام غذائی گروپس شامل ہوں۔ خون بڑھانے والی اہم غذاؤں کے لئے سبز پتوں والی سبزیاں جیسے میتھی، پالک، سرسوں کا ساگ، پھلوں میں انار ، آم، سیب، چقندر ، کھجور پروٹین والی غذا میں گوشت، کلجی، مچھلی، انڈا، دالوں میں لوبیا، چنے، مسور، خشک میوہ جات میں بادام، اخروٹ، کشمش اور وٹامن سی جو فولاد کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے، اس کے لئے مالٹا، لیموں، کینو وغیرہ۔

حاملہ خواتین کو چاہئے کہ غذا کے ساتھ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق آئرن اور کیلشیم سپلیمنٹ ضر ور لیں۔ چائے اور کافی کا استعمال کم کریں۔ زیادہ نمک، چکنائی اور چینی سے پرہیز کریں۔ فاسٹ فوڈ اور کولڈڈرنکس کا استعمال انتہائی کم کردیں۔

صحت سے مزید