• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 ڈاکٹر نوشین ناصر

ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سیکشن ہیڈ متعدی امراض، آغا خان یونیورسٹی اسپتال

 کریمین کانگو ہیمرجک فیور (CCHF) جسے عام طور پر ’’کانگو وائرس ‘‘کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کوکانگو وائرس ایک غیر مانوس خطرہ محسوس ہوتا ہے، جو صرف دیہی علاقوں یا مویشی پالنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ عید کے موقعے پر یہ خطرہ کھیتوں اور دیہات سے کہیں زیادہ بڑھ کر گنجان آباد شہری علاقوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ملک بھر سے جانوروں کی بڑے پیمانے پر منتقلی شہروں میں ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں انسانی رابطہ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہر اچانک ایسے مقامات بن جاتے ہیں جہاں لاکھوں لوگ کئی دنوں تک مویشیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں آتے ہیں۔یہ موسمی تبدیلی ہی وہ وجہ ہے، جس کی بنا پر صحت کے ماہرین ہر سال عیدالاضحیٰ کے دنوں میں کانگو وائرس میں اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔یہ تشویش اس لیے نہیں کہ خوف پیدا کیا جائے بلکہ اس کا مقصد اس کے برعکس ہو لوگوں کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں آگاہی فراہم کرنا اور اس سےبچاؤ کی تدابیر بتانا ہوتا ہے۔

کانگو وائرس ایک زونوٹک بیماری ہےیعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ گائے، بکری، بھیڑ اور اونٹ جیسے مویشی بظاہر صحت مند دکھائی دینے کے باوجود وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ وائرس زیادہ تر متاثرہ چیچڑوں (ticks) کے ذریعے یا جانوروں کے ذبح ہونے اور گوشت کی تیاری کے دوران خون اور بافتوں کے براہِ راست رابطے سے منتقل ہوتا ہے۔

اس وائرس کو خاص طور پر خطرناک بنانے والی بات یہ ہے کہ اس کی منتقلی اکثر خاموشی اور غیر ارادی طور پر ہوتی ہے۔ چیچڑ وںکے کاٹنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ذبح کے دوران ہاتھ پر معمولی سا زخم بظا ہر معمولی لگتا ہے۔ خون یا جانوروں کے فضلے کی صفائی میں مدد کرنے والا شخص اکثر یہ محسوس نہیں کرتا کہ وہ خطرے میں آ چکا ہے۔

کئی گھروں میں بچے گھنٹوں جانوروں کے قریب کھیلتے ہیں، انہیں اس پوشیدہ خطرے کا علم نہیں ہوتا جو جانوروں کے کانوں کے پیچھے یا جلد کی تہوں میں چھپے چیچڑوں کی صورت میں ہوتا ہے۔یوںکانگو وائرس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک رویے اور عوامی صحت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کا مسئلہ صرف وائرس کی موجودگی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ کم آگاہی، غیر رسمی طریقہ کار، گنجان مویشی منڈیاں، حفاظتی اقدامات کا کمزور نفاذ اور علامات کی دیر سے شناخت ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ہر سال قابلِ بچاؤ انفیکشنز کے لیے حالات پیدا کرتے ہیں۔

عید سے پہلے کسی بھی بڑے شہر کی مویشی منڈی میں جائیں تو صورتحال فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ ہزاروں جانور ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہوتے ہیں۔ لوگ تنگ راستوں سے گزرتے ہیں جہاں خریدار، بیوپاری، ٹرانسپورٹرز اور بچے سب ہوتے ہیں۔ بہت کم لوگ حفاظتی اقدامات اپناتے ہیںاور کم لوگ جانوروں میں چیچڑ چیک کرتے ہیں یا اس کی اہمیت سمجھتے ہیں۔

لیکن مسئلہ صرف منڈیوں تک محدود نہیں رہتا۔ جب جانور رہائشی علاقوں میں پہنچتے ہیں تو خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ جانور گھروں کے باہر، گلیوں یا مشترکہ جگہوں پر باندھے جاتے ہیں۔ بچے مسلسل ان کے آس پاس کھیلتے ہیں۔ بعض علاقوں میں صفائی اور فضلہ ٹھکانے لگانے کے انتظامات ناکافی ہوتے ہیں، خاص طور پر جب قربانی ہوتی ہے۔

خون سڑکوں اور نالیوں میں بہایاجاتا ہے۔ قصائی ایک کے بعد ایک جانور ذبح کررہے ہوتے ہیں اور دن بھر خون اور بافتوں کے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ یہ تمام طریقے بہت حد تک معمول بن چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خطرہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

کانگو وائرس کے بارے میں ایک بڑا غلط تصور یہ ہے کہ گوشت کھانے کے قابل نہیں رہتاجب کہ یہ درست نہیں ہے۔ اچھی طرح پکا ہوا گوشت وائرس منتقل نہیں کرتا۔ اصل خطرہ متاثرہ خون، بافتوں یا چیچڑوں میں ہوتا ہے جو پکانے سے پہلے ہوتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیوںکہ غلط معلومات غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہیں اور اصل خطرات سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔

ایک اور چیلنج یہ ہے کہ ابتدائی علامات بظاہر عام بیماریوں جیسی ہوتی ہیں۔مثلاً بخار، جسم درد، تھکن، سر درد اور پٹھوں میں درد، فلو، وائرل انفیکشن یا ڈینگی وغیرہ، جو پاکستان میں عام ہیں۔ نتیجتاً لوگ اکثر ابتدائی مرحلے میں طبی مدد لینے میں تاخیر کرتے یا خود علاج پر انحصار کرتے ہیں۔ مریض جب اسپتال پہنچتے ہیں تو بیماری کافی بڑھ چکی ہوتی ہے۔

اسی لیے آگاہی بہت ضروری ہے۔ وہ شخص جسے مویشی منڈی جانے یا ذبح میں حصہ لینے کے بعد بخار ہو، اسے ان علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جانوروں سے رابطے کی معلومات ڈاکٹروں کو بتانا بروقت تشخیص اور علاج میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے،تاہم صرف عوامی آگاہی کافی نہیں۔ کانگو وائرس پاکستان میں موسمی صحت کی تیاری کے وسیع تر مسائل کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

ایک رجحان یہ بھی ہے کہ ہم کانگو وائرس کو پیشگی تیاری کے بجائے ردعمل کے طور پر لیتے ہیں۔ توجہ صرف کیسز سامنے آنے کے بعد بڑھتی ہے، بجائے اس کے کہ پہلے سے مسلسل آگاہی فراہم کی جائے۔ اگر پہلے سے حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں تو خطرہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔

مویشی منڈی جانے والے افراد کو پوری آستین کی قمیص پہننی چاہیے اور جانوروں کے فضلے سے بچنا چاہیے۔ ذبح کے دوران دستانے اور ماسک کا استعمال کریں۔ اگر آپ کوکوئی زخم ہے تواس کو ڈھانپ کر رکھیں ۔ ذبح کے مقامات کو بعد میں اچھی طرح دھو کر جراثیم سے پاک کرنا چاہیے۔

پاکستان نے ماضی میں ڈینگی، کووڈ-19، ہیٹ ویوز اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سمیت کئی صحت بحران دیکھے ہیں۔ ہر بحران نے ایک ہی سبق دیا ہے۔آگاہی اور بچاؤ، بعد کے ردعمل سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ کانگو وائرس کو بھی اسی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔اس کے لیے خوف کی ضرورت نہیں ہے ،صرف باخبر رہنا، مضبوط نظام اور اجتماعی ذمہ داری درکار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کانگو وائرس قابلِ بچاؤ ہے۔ اس کے لیے اقدامات نہ مہنگے ہیں نہ پیچیدہ۔ یہ زیادہ تر آگاہی، صفائی، حفاظتی اقدامات اور بروقت طبی توجہ پر منحصر ہیں۔ انفرادی اور گھریلو سطح پر چھوٹے فیصلے قومی سطح پر بڑے نتائج کو روک سکتے ہیں۔

جب ہم سب عید کی تیاری کر رہے ہیں تو صحت کو بھی دیگر تیاریوں کے ساتھ جگہ دینی چاہیے۔ جیسے گھروں کی صفائی اور کھانوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، ویسے ہی حفاظت پر بھی بات ہونی چاہیے۔ بچوں کو بنیادی احتیاطیں سکھانی چاہیے۔ حفاظتی سامان کو لازمی سمجھا جانا چاہیے، اختیاری نہیں۔ قربانی کے بعد صفائی اجتماعی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

صحت سے مزید