کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی چہرہ ذہن پر نقش ہوجاتا ہے اور پھر نظروں کے سامنے سے ہٹتا ہی نہیں۔ وہ نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں والا بچہ جس کی عمر قریباً چار سال تھی اور اپنی ماں کی گود میں تھا۔ میری ایک پرانی مریضہ گل فندہ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا گل فندہ بولی سلام باجی۔ باجی یہ ہمارے مہمان ہیں آپ ان کو چیک کرلو اس کی طبیعت خراب ہے۔ پیٹ میں درد ہے۔ میں نے پوچھا بچے کو یاماں کو۔ بولی ماں کو … میں نے اس سے کہا آپ بچےکو یہاں کھڑا کردیں اورخود ٹیبل پر لیٹ جائیں، مریضہ کا چہرہ یکدم بجھ سا گیا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگی باجی میرا بچہ کھڑا نہیں ہوسکتا، چل نہیں سکتا۔ کیوں میرا اُس سے یہ سوال تھا، دو پٹے سے آنسو پونچھ کر بولی ایک سال ہوا پولیو سے اس کی ایک ٹانگ بالکل بے جان ہوگئی ہے، دوسرے بچے کھیلتے ہیں ان کو دیکھ کر روتا ہے، چیختا ہے ،ضد کرتا ہے۔ وہ دوبارہ دکھ اور بے بسی سے رونے لگی۔ پولیو کے قطرے پلائے تھے…؟ میں نے پوچھا … جواب تھا نہیں، پھر وہ بتانے لگی ہم پشاور سے آگے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ میرا یہ بچہ شادی کے چار سال بعد پیدا ہوا … سب کا بہت لاڈلہ تھا۔
جب ہمارے گاؤں میں پولیس والی ٹیم آتی تھی تو اس کی دادی اس کو چھپا لیتی تھیں اور اس کا دادا کہتا تھا کہ یہ قطرے پلانا صحیح نہیں ہے، اس سے بچے کو نقصان ہو گا۔ باجی میں نے پانچویں تک اسکول پڑھا ہے۔ میں جب کہتی کہ بچے کو پولیو کے قطرے پلاؤ ،حفاظتی ٹیکے لگواؤ توسب گھروالے کہتے کہ تم ہمارے بچے کی دشمن ہو۔ ہماری بات کون سنتا ہے ، پھر باجی میرے بیٹے کو شروع میں نزلہ، کھانسی اور ہلکا بخار ہوا۔ اس نے کھانا پینا کم کردیا اسے الٹی ہونے لگی۔
پھر یہ ٹانگوں میں درد کی شکایت کرنے لگا۔ گاؤں کے ڈاکٹر کو دکھایا تو وہ بولا یہ موسمی بخار ہے، کمزوری سے بچے کو درد ہورہا ہے۔ اس کا نزلہ زکام تو ٹھیک ہوگیا، مگر پھر یہ ٹھیک سے کھڑا نہیں ہوسکا۔ اس کا پاؤں ڈھیلا اور کمزور ہوگیا۔ پہلے یہ چلتا، کھیلتا، بھاگتا تھا، مگر اب اس کی ٹانگ کمزور ہے، یہ پیر گھسیٹتا ہے۔
ہم نے حکیم کو بھی دکھایا۔ مالش بھی کروائی، پھر ہم اس کو شہر کے بڑے اسپتال لیکر گئے جہاں اس کے ٹیسٹ ہوئے۔ خون کا ٹیسٹ ہوا اور گلےکا بھی ٹیسٹ ہوا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کو پولیو ہے۔ اب دادی بہت روتی ہے پچھتاتی ہے۔
مگر اب کیا فائدہ میرا بیٹا تو چلنے سے معذور ہوگیا۔ وہ اپنی تکلیف تو شاید بھول ہی چکی تھی دوبارہ آنسو پونچھ کر بولی باجی کیا آپ کے شہر میں اس کا کوئی علاج ہے۔ کتنا مشکل ہوجاتا ہے کسی ماں کو یہ بتانا کہ اب کوئی مکمل علاج ممکن نہیں ہے، مگر میں نے اسے بتایا کہ مکمل علاج تو نہیں۔ ہاں البتہ، دیکھ بھال سے کچھ بہتری ممکن ہے۔
پولیو ایک مرض ہے جو سننے میں چھوٹا سا لگتا ہے، مگر اس کے اثرات زندگی بھر کا بوجھ بن جاتے ہیں۔ یہ ایک پشت پا کی طرح بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور بچے کو معذوری میں مبتلا کرکے ماں باپ کی آنکھوں سے ان کے بچوں کے روشن خواب نوچ لیتا ہے۔
پولیو ایک خطرناک، وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر چھوٹے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔پولیو کا وائرس گندے پانی اور آلودہ خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ شروع میں اس کی علامات عام بخار، نزلہ زکام، تھکن اور جسم میں درد جیسی ہوتی ہیں، مگر شدید صورت میں یہ اعصاب کو متاثر کرکے ہاتھ یا ٹانگوں کو مفلوج کرکے مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
پولیو ایک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے
٭… آلودہ پانی پینے سے وائرس جسم میں داخل ہوجاتا ہے۔٭… غیر صاف پانی آلودہ خوراک کے ذریعے یہ بیماری دوسروں تک منتقل ہوتی ہے۔ ٭… متاثرہ بچے کے فضلے (Stool) کے ذریعے جراثیم ماحول میں پھیل جاتے ہیں ۔٭… ہاتھوں کا نا دھونا یا گندے ہاتھ بھی اس جراثیم کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں۔٭… گنجان آبادی والے علاقوں میں یہ مرض تیزی سے پھیلتا ہے۔
خصوصاً جہاں گندے پانی کے نکاسی کا باقاعدہ انتظام نا ہو۔ ٭… بچوں کا مٹی یا آلودہ چیزیں منہ میں ڈالنا بھی انہیں متاثر کرسکتا ہے۔ ٭… ویکسن ناکروانے والے بچے اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ پولیو لا علاج مرض ہے، مگر اس سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔ جہاں تک پولیو سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کا تعلق ہے تو :
(1) ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔ سوچیں یہ دو قطرے ہمارے بچے کی صحّت مند متحرک زندگی کے ضامن ہیں۔
(2) حفاظتی ٹیکوں کا کورس شیڈول کے مطابق پورا کریں۔
(3) صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں۔
(4) کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھوئیں۔
(5) بیت الخلاء کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں اور بچوں کو عادت ڈالیں۔
(6) گھر اور ماحول کو صاف رکھیں۔
(7) بچوں کو گندگی سے دور رکھیں۔ گو کہ پولیو کا مکمل علاج ممکن نہیں ہے لیکن۔٭ صحیح دیکھ بھال ٭ فزیو تھراپی ٭ ورزش ٭ پرہیز، یا واکنگ ایڈز سے مریض بہتر زندگی گذار سکتا ہے۔
پوری دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان ہی میں پولیو کا مرض موجود ہے 2025میں ملک بھر میں پولیو کے 30 کیسز ریکارڈ ہوئے ہم اب تک پولیو کو شکست نہیں دے سکے یہ صرف حکومت کام نہیں یہ ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم خود سمجھیں اور دوسروں کو سمجھائیں کہ اس مرض سے بچاؤ کتنا ضروری ہے۔
ہمارے غیر سنجیدہ رویئے اور پولیو کے قطروں کے خلاف مزاحمت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دو قطروں سے انکار زندگی بھر کا پچھتاوا اور معذوری بن جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وطن عزیز میں صحّت اور زندگی بانٹنے کیلئے گھروں سے نکلنے والے پولیو ورکرز پر حملے ہوتے ہیں اور انہیں جان سے ماردیا جاتا ہے۔ جب تک ہم اس بات کو سوچیں اور سمجھیں گے نہیں کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے صرف بچاؤ ممکن ہے ہم پولیو کو شکست نہیں دے سکیں گے۔
صرف دو قطرے جو پولیو کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ دو قطرے ایک بچے کو معذوری سے بچا کر اسے کامیاب روشن مستقبل دیتے ہیں۔ اگر والدین اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب پولیو کا مکمل خاتمہ ہوجائےگا اورہمارا ملک پولیو فری پاکستان کہلائے گا اور کوئی عمر خان معذور نہیں ہوگا۔