ڈاکٹر علی فیصل سلیم
ایسوسی ایٹ پروفیسر اور وائس چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ آغا خان یونیورسٹی اسپتال
حالیہ دنوں میں سندھ میں ایم پاکس کے کیسز سامنے آئے جن میں کراچی، خیرپور اور لاہور سے منسلک واقعات شامل ہیں، نے ایک بار پھر ایک اہم سوال کو اُجاگر کر دیا ہے کہ ابھرتے ہوئے متعدی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کس حد تک تیار ہے؟ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ جانا جائے کہ ایم پاکس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے۔
’’ ایم پاکس‘‘، جسے پہلے ’’مونکی پاکس‘‘ کہا جاتا تھا، ایک وائرل زونوٹک بیماری ہے جو مونکی پاکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور آرتھوپاکس وائرس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اسی خاندان کا حصہ ہے، جس سے اسمال پاکس کا وائرس تعلق رکھتا تھا، تاہم یہ نسبتاً کم شدت کا حامل ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے، آلودہ اشیاء جیسے کپڑے یا بستر، یا طویل وقت تک آمنے سامنے رہنے کے دوران سانس کے قطروں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
ایم پاکس کی علامات میں عام طور پر بخار، نزلہ، سر درد ،گلے میں خراش، پٹھوں میں درد اور لمف نوڈز کی سوجن شامل ہوتی ہے، جس کے بعد جسم پر دانے نکلتے ہیں جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے خارش اور زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز ہلکے نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ اس کی شرح اموات دیگر متعدی بیماریوں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بروقت طبی سہولیات محدود ہوں۔
عالمی سطح پر ایم پاکس کو 2022 میں اس وقت خاص توجہ ملی جب متعدد ممالک میں اس کے کیسز رپورٹ ہوئے، جس پر عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی صحت ایمرجنسی قرار دیا۔ اگرچہ اب عالمی صورتحال کافی حد تک بہتر ہو چکی ہے لیکن وقفے وقفے سے سامنے آنے والے کیسز اور مختلف ممالک میں اس کی موجودگی اب بھی خطرے کی گھنٹی ہیں، خصوصاً ان ممالک کے لیے جہاں آبادی زیادہ اور نگرانی کا نظام کمزور ہے۔
پاکستان میں اب تک ایم پاکس کے زیادہ تر کیسز کا تعلق بین الاقوامی سفر سے رہا ہےجہاں متاثرہ افراد حالیہ دنوں میں ایسے ممالک سے آئے تھے جہاں وائرس موجود تھا۔ تاہم سندھ سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس، خاص طور پر خیرپور میں مشتبہ کیسز کا کلسٹر، مقامی سطح پر منتقلی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ملک میں بیماری کے پھیلاؤ کے انداز میں ایک اہم تبدیلی ہوگی، جس کے لیے فوری اور مربوط حکمت عملی درکار ہوگی۔
کووڈ-19 کا تجربہ ابھی تک تازہ ہے، جب یہ پاکستان میں آیا تو ملک تقریباً ٹھہر کر رہ گیا۔ ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ بہت سے لوگ آج بھی طویل مدتی صحت کے مسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وبا نے ملک کے صحت کے ڈھانچے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور عوامی صحت کی آگاہی کے حوالے سے ایک سخت تنبیہ کا کام کیا۔
ایم پاکس اگرچہ کووڈ-19 کے مقابلے میں کم متعدی ہے، پھر بھی مکمل احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی تشخیص، مشتبہ کیسز کو الگ کرنا اور بروقت کانٹیکٹ ٹریسنگ نہایت اہم ہیں۔
حالیہ ایم پاکس کی صورتحال نے مشترکہ صحت اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مارچ 2026 کے آخر میں کراچی میں دو تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے ایک میں ممکنہ مقامی منتقلی کا عندیہ ملا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک طور پر خیرپور میں ایک مشتبہ وبا کے نتیجے میں سات نومولود بچوں کی افسوسناک اموات ہوئیں۔ ٹیسٹ کے بعد لیبارٹری نے سات میں سے چار بچوں میں ایم پاکس کی تصدیق کی، جس نے وبا کی فوری تصدیق میں مرکزی کردار ادا کیا۔
اگرچہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، یہ واقعہ حساس آبادیوں کے خطرے اور تیز رفتار تشخیص کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ تشخیص کے علاوہ عوامی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے خوف کو حقائق سے بدلنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر عوامی خوف کو بروقت معلومات سے کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ خود وائرس سے زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔اس کے لیے بروقت آگاہی، افواہوں کا خاتمہ اور عوام کو مستند معلومات دینا انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں فعال اور لچکدار حکمت عملی انتہائی ضروری ہے۔ بین الاقوامی داخلی مقامات، خصوصاً ایئرپورٹس پر صحت کی اسکریننگ کو مضبوط بنانا درآمد شدہ کیسز کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نگرانی جیسے ویسٹ واٹر مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل بیماری رپورٹنگ سسٹمز کو فروغ دینا بیماری کی جلد نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔
عوام میں علامات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ صحت کے عملے کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ایم پاکس کی علامات کی پہچان، حفاظتی سامان کے درست استعمال اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر مکمل تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ ہسپتالوں میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ جیسے جیسے عالمی ماحول تبدیل ہو رہا ہے، مضبوط اور فوری ردعمل دینے والے نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے صحت کے نیٹ ورکس اتنے مضبوط ہوں کہ وہ عوام کو اُبھرتے ہوئے متعدی خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔ ایم پاکس خوف کا امتحان نہیں بلکہ کارکردگی کا امتحان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو نئے متعدی امراض کا سامنا ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اس کے نظام انہیں مؤثر طریقے سے شناخت، ردعمل اور قابو کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔
اس کا جواب وسائل کے ساتھ ساتھ مؤثر رابطہ کاری، واضح پیغام رسانی اور ماضی کے تجربات سے سیکھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ عوامی صحت کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری، مستند معلومات کی فراہمی اور کمیونٹی کی شمولیت ہی اس چیلنج سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ایک ایسے دور میں جہاں بیماریاں سرحدوں کی پابند نہیں رہیں، تیاری کوئی آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔