ڈاکٹر علی فیصل سلیم
اب تک ملک بھر میں کم از کم 71 بچے خسرے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 40 اموات سندھ میں رپورٹ ہوئیں۔ جب دنیا بھر میں عالمی ہفتۂ حفاظتی ٹیکہ جات ”ہر نسل کے لیے ویکسین مؤثر ہے“ کے پیغام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، ایسے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں خسرے کے 4,541 تصدیق شدہ کیسز اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج اور صحت کے نظام میں سنگین خلا موجود ہیں۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر نمبر ایک ایسے بچے کی نمائندگی کرتا ہے جو ہنستا، کھیلتا اور خواب دیکھتا تھا مگر اب ایک ایسی بیماری کا شکار ہو کر دنیا سے چلا گیا ،جس سے پچاس برس سے زائد عرصے سے بچاؤ ممکن ہے۔
یہ سانحہ اس لیے مزید دردناک ہے کہ ان میں سے تقریباً تمام اموات دو خوراکوں پر مشتمل خسرہ-روبیلا (MR) ویکسین سے روکی جا سکتی تھیں جو پاکستان میں 9 اور 15 ماہ کی عمر میں مفت فراہم کی جاتی ہے۔ اگرچہ دو خوراکوں کے بعد اس ویکسین کی افادیت تقریباً 97 فیصد ہے، مگر تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ویکسین بروقت لگائی جائے اور پاکستان اب بھی اس ہدف سے پیچھے ہے۔
ذرا سوچیں، انتہائی کم لاگت پر ایک بچے کو نہایت متعدی وائرس سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ شہری کچی آبادیوں سے لے کر دیہی علاقوں تک علاج میں تاخیر، سفری مشکلات اور بنیادی صحت سہولیات کی کمی ایسی بیماریوں کو موت میں بدل رہی ہے جنہیں روکا جا سکتا تھا۔
خسرے کے دوبارہ پھیلاؤ کی اصل وجہ طبی علم کی کمی نہیں بلکہ غربت، رسائی میں رکاوٹیں اور ویکسین سے ہچکچاہٹ ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ”زیرو ڈوز“بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، یعنی وہ بچے جنہیں ایک بھی ویکسین نہیں لگی۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ایک ملین سے زائد ایسے بچے موجود ہیں، جو قومی حفاظتی ڈھال میں خطرناک خلا پیدا کرتے ہیں۔
ماں سے ملنے والی ابتدائی قوتِ مدافعت چند ماہ بعد کمزور ہو جاتی ہے، جس کے بعد بچے پہلے ٹیکے سے پہلے ہی خطرے میں آ جاتے ہیں، خاص طور پر جب آبادی میں مجموعی مدافعت کم ہو۔ اس صورتحال کو غذائی قلت مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ کمزور اور غذائی کمی کا شکار بچہ اگر خسرے میں مبتلا ہو جائے تو اس کے مرنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فی صد بچے نشوونما کی کمی (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں جو مسلسل غذائی قلت اور کمزور مدافعتی نظام کی نشاندہی ہے۔ وٹامن اے کی کمی خسرے کو مزید شدید بنا دیتی ہے، جس سے اندھے پن اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خسرہ صرف جلد پر دانوں والی بیماری نہیں، بلکہ دنیا کے سب سے زیادہ متعدی وائرسز میں سے ایک ہے۔ یہ ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے اور دو گھنٹے تک فضا میں موجود رہ سکتا ہے۔ ایک بچہ کلاس روم میں بیٹھا ہو، گھر والے منی بس میں سفر کر رہےہوں، متاثرہ شخص کو چھونے کی بھی ضرورت نہیں صرف ایک ہی ہوا میں سانس لینا کافی ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ خسرہ ” امیون امینیشیا“پیدا کرتا ہے یعنی جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور کئی ماہ بلکہ سالوں تک دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بچ جانے والے بچوں میں بعد میں دماغی نقصان بھی ہو سکتا ہے، جس میں سب ایکیوٹ اسکلروزنگ پین اینسیفلائٹس (SSPE) شامل ہے جو ایک نایاب مگر جان لیوا دماغی مرض ہے اور سات سے دس سال بعد ظاہر ہوتا ہے۔
اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں۔ حکومت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے خسرے کی ویکسین کو پولیو مہمات کے ساتھ جوڑ کر خصوصی مہمات شروع کی ہیں، تاکہ غیر محفوظ بچوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ پاکستان کا پولیو نظام ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز، جدید نگرانی نظام اور مضبوط کمیونٹی نیٹ ورک کے باعث دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے مثال ہے۔
تاہم خسرے کی ویکسین کو ان مہمات میں شامل کرنے کے نتائج محدود رہے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ عوامی سوچ ہے۔ پولیو کو لوگ معذور کرنے والی بیماری سمجھتے ہیں، جبکہ خسرے کو اکثر دیہی علاقوں میں”دھبوں والا بخار“کہہ کر معمولی لیا جاتا ہے۔ یہی غلط فہمی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو اعتماد دلانے کے لیے مقامی ثقافت کے مطابق آگاہی مہمات، خواتین ویکسینیٹرز اور قابلِ اعتماد کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی ضرورت ہے۔ اعتماد زبردستی نہیں دلایا جا سکتا، اسے ایک ایک گفتگو کے ذریعے قائم کرنا پڑتا ہے۔
جبکہ سرکاری نظام بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے ذریعے وبا روکنے کی کوشش کر رہا ہے، شدید متاثرہ بچوں کے لیے بڑے اسپتالوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ کراچی میں نجی اسپتال کے ماہر اطفال شدید نمونیا، دماغی سوزش اور سانس کی ناکامی جیسے پیچیدہ کیسز کا علاج کر رہے ہیں۔ تاہم، اگر خسرہ اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو کوئی بھی آئی سی یو نظام اس بوجھ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
طبی برادری یہ جنگ صرف ایمرجنسی وارڈز میں نہیں جیت سکتی۔ ویکسین سے بچاؤ ممکن بیماری سے بچوں کی مسلسل اموات قومی ایمرجنسی ہیں۔ مضبوط بنیادی صحت نظام، ڈیجیٹل امیونائزیشن ٹریکنگ، مقامی ویکسین تیاری اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات اب اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔
خسرے سے مرنے والا ہر بچہ وہ بچہ ہے جسے ہم محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل ہیں یا نہیں، کیونکہ ویکسین 1963 سے موجود ہے۔ پولیو مہمات کے ذریعے نظام بھی کئی دہائیوں سے آزمایا جا چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس اتنا اجتماعی عزم ہے کہ تھرپارکر کے کچے گھر، لیاری کی بستی یا اپر دیر کے گاؤں میں رہنے والے آخری بچے تک بھی پہنچ سکیں؟جب تک اس سوال کا جواب پورے یقین کے ساتھ “ہاں” میں نہیں دیا جاتا، تب تک خاندان غم مناتے رہیں گے، ڈاکٹر جدوجہد کرتے رہیں گے، اور خسرہ ان جانوں کو لیتا رہے گا جنہیں بچایا جا سکتا تھا۔