• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تربوز کا نباتاتی نام ’’سٹریولس لیناٹس‘‘ ہے۔ موسمِ گرما کا یہ لاجواب پھل دُنیا بَھر میں بڑی تعداد میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس کی ایک ہزار سے زائد اقسام ہیں۔ تربوز کی زیادہ تر انواع میں بہت زیادہ بِیج پائے جاتے ہیں، جب کہ کچھ انواع اِن کے بغیر بھی ہوتی ہیں۔

اس کا پودا کاشت کے 100دن کے اندر پھل دینا شروع کردیتا ہے، جسے پَھلنے پُھولنے کے لیے 25ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت کی ضرورت ہوتی ہےاوراس کے تنوں کی لمبائی تین میٹر ہوتی ہے۔ 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق تربوز کی عالمی پیداوار 101.6ملین میٹرک ٹن ہے، جس میں سے 60فی صد تربوز چین میں پیداہوتاہے،جب کہ پیداوار کے اعتبار سے دیگر بڑے ممالک میں تُرکی، بھارت، ایران، الجزائر اور برازیل شامل ہیں۔

تربوز ایک خوش نُما، میٹھا، رسیلا اور فرحت بخش پھل ہے۔ اس کے بِیج بھی کھائےجا سکتے ہیں، جن میں کاپر، زِنک، آئرن اور میگنیشیم پایا جاتا ہے۔ عام طور پرایک سو گرام تربوز میں 30 کیلوریز، 92 فی صد پانی، 0.2 گرام چکنائی، ایک ملی گرام سوڈیم، 112ملی گرام پوٹاشیم، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 0.4 گرام ڈائٹری فائبرز،6 گرام شکر،11 ملی گرام فاسفورس،10ملی گرام میگنیز،8.1 ملی گرام وٹامن سی، ایک فی صد آئرن، 13فی صد وٹامن اےاور 0.333 ملی گرام تھایامین پایا جاتا ہے۔

ذیل میں تربوز کے اہم طبّی فوائد پیش کیے جا رہے ہیں۔

1۔ قوّتِ مدافعت میں اضافہ: وٹامن سی کی بڑی مقدار کا حامل ہونے کی وجہ سے تربوز قوّتِ مدافعت بڑھانے کے لیے ایک بہترین پھل ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، جب انسان ذہنی تناؤ اور انفیکشن کا شکار ہوتا ہے، تو اس میں وٹامن سی کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں تربوز کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

2۔ امراضِ قلب سے تحفّظ: تربوز میں پائے جانے والے متعدد اجزاء دل کی صحت کے ضامن ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، تربوز میں موجود لائیکوپین بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے، جب کہ اس میں پائے جانے والے وٹامنز، میگنیشیم اور پوٹاشیم امراضِ قلب سے محفوظ رکھتے ہیں۔

3۔ پٹّھوں کے درد میں کمی: تربوز میں پایا جانے والے امینو ایسڈ، سیٹرولائن پٹّھوں کو مضبوط بناتا اور اُن کے درد میں کمی لاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، کم ازکم سات روز تک سیٹرولائن کا باقاعدگی سے استعمال جسم میں نائٹرک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی جسم کے دیگر حصّوں میں منتقلی آسان ہوجاتی ہے اور دل کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

4۔ صحت مند جلد: اس پھل میں موجود وٹامن سی جسم کو کولیجن بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے، جو جِلد اور بالوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ علاوہ ازیں، وٹامن سی جِلد کو جُھریوں اور خُشکی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

5۔ نظامِ ہاضمہ میں بہتری: پانی کی وافر اور فائبر کی تھوڑی مقدار کا حامل ہونے کے سبب تربوز نظامِ ہاضمہ کے لیے نہایت مفید ہے۔ جسم میں پانی اور فائبر کی کمی کے سبب قبض میں مبتلا افراد کو اِسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔

6۔ سوزش میں کمی: سوزش متعدد دائمی امراض کا سبب بنتی ہے، جب کہ تربوز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ، لائیکوپین اور وٹامن سی سوزش میں کمی لاتے ہیں، نیز یہ الزائمر جیسی بیماری کی روک تھام میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

7۔ بینائی میں اضافہ: میکولرڈی جنریشن آنکھوں کا ایک مرض ہے، جو وقت گزرنےکےساتھ نابینا پن کا سبب بن سکتا ہے، جب کہ تربوز میں موجود لائیکوپین بینائی میں اضافہ کرتا ہے۔

8۔ کینسر سے تحفظ: تربوزمیں موجود لائیکوپین ایک مؤثر اینٹی آکسیڈینٹ ہے۔ اسے ’’کیمو پریونیٹو‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور تربوز کا استعمال بالخصوص پروسٹیٹ کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔

9۔ دَمے سے حفاظت: دمے کے مریضوں پر کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تربوز ان مریضوں کے لیے نعمتِ خداوندی ہے۔ وٹامن سی کا حامل ہونے کے سبب تربوز کے استعمال سے سانس کی نالیوں کی سوزش میں کمی واقع ہوتی ہے اور یہ دمے سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

10۔ مسوڑھوں کی صحت کا ضامن: تربوز میں موجود وٹامن اے کی زیادہ مقدار مسوڑھوں کو مختلف امراض سے بچاتی ہے۔

11۔ وزن میں کمی: وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے تربوز بہترین پھل ہے۔اس میں موجود پانی کی زائد مقدار میٹابولزم بہتر بناتے ہوئے وزن میں کمی لاتی ہے۔

12۔ گُردوں کی صحت: گرچہ گُردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پوٹاشیم پر مشتمل غذائیں نقصان دہ ہوتی ہیں، تاہم تربوز میں پوٹاشیم ہونے کے باوجود یہ گُردوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جسم سے زہریلے مادّے خارج کرتا ہے، جب کہ اس میں موجود کیلشیم خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

13۔ پانی کی کمی سے نجات: روزمرّہ امور کی بہتر انداز سے انجام دہی کے لیے انسانی جسم میں پانی کی مناسب مقدار کی موجودگی ضروری ہے، جس کے نتیجے میں جسم کا درجۂ حرارت معمول پر رہنے کے علاوہ خلیات تک غذا کی ترسیل بھی ہوتی رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زیادہ پانی کی حامل غذائیں جسم کو صحت مند رکھتی ہیں۔ چوں کہ تربوز میں 92 فی صد پانی پایا جاتا ہے، تو اس کے استعمال سے نہ صرف جسم میں پانی کی کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ دیر تک شکم سیری کا احساس بھی رہتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید