• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیموفیلیا اور دیگر خون بہنے والی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک طبی موضوع نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے، جس کے لیے مسلسل شعور اُجاگر کرنا ناگزیر ہے۔

اس مرض سے آگاہی کے ضمن میں ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا کی جانب سے پیش کی گئی تھیم تشخیص، دیکھ بھال کی پہلی سیڑھی ہے، درحقیقت ایک جامع پیغام یہ ہے کہ کسی بھی بیماری کے مؤثر علاج کی بنیاد بروقت اور درست تشخیص ہوتی ہے۔ اور یہی اصول ہیموفیلیا جیسے امراض میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ پیغام اس امر پر زور دیتا ہے کہ مریض، ان کے اہلِ خانہ، ڈاکٹرز اور سماجی کارکن سب مل کر ایسی آگاہی مہمات کو فروغ دیں جن کے ذریعے ممکنہ متاثرہ افراد کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ بروقت تشخیص نہ صرف بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ مریضوں کو بہتر علاج اور معیاری زندگی کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔

مزید یہ کہ اس حوالے سے مسلسل توجہ اور سنجیدہ کوششیں نہ صرف عوامی شعور میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، مؤثر پالیسی سازی کو فروغ دینے اور سائنسی تحقیق کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں جو ہیموفیلیا اور دیگر خون بہنے کی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا کے مطابق دنیا بھر میں ہیموفیلیا کے تین چوتھائی سے زائد مریض ابھی تک تشخیص سے محروم ہیں۔

دیگر خون بہنے والی بیماریوں میں یہ خلا اس سے بھی زیادہ ہے۔ لاکھوں افراد بنیادی علاج تک رسائی نہیں پا رہے۔ خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں اس حوالے سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں، کیوں کہ ان کی علامات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

ہیموفیلیا کیا ہے؟

ہیموفیلیا ایک موروثی خون بہنے کی بیماری ہے ،جس میں جسم کے خون جمانے والے پروٹینز (کلاٹنگ فیکٹرز) کی کمی ہو جاتی ہے۔ یہ پروٹین جگر میں بنتے ہیں۔ جب کوئی چوٹ لگتی ہے تو عام آدمی کے جسم میں قدرتی طور پر ایک جھلی (کلاٹ) بن جاتی ہے جو خون روک دیتی ہے۔ لیکن ہیموفیلیا کے مریض میں یہ جھلی نہیں بن پاتی، نتیجتاً خون زیادہ دیر تک بہتا رہتا ہے اور بعض اوقات موت کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ بیماری عام طور پر والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ زیادہ تر کیسز X کروموسوم سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے یہ مرض لڑکوں میں زیادہ عام ہے۔ البتہ کچھ کیسز” ایکوائرڈ ہیموفیلیا“ بھی ہوتے ہیں جو بعد میں مدافعتی نظام کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

اقسام اور شدت

ہیموفیلیا کی تین اہم اقسام ہیں:

ہیموفیلیا اے (فیکٹر 8 کی کمی)* ہیموفیلیا بی (فیکٹر 9 کی کمی)* ریئر فیکٹر ڈیفیشینسیز (نایاب فیکٹرز کی کمی)

اس مرض کی شدت تین درجوں میں تقسیم کی جاتی ہے:

٭ مائلڈ: فیکٹر 5% سے زیادہ٭ موڈریٹ: 1% سے 5%٭ سیویر: 1% سے بھی کمعلامات: علامات فیکٹر کی مقدار پر منحصر ہیں۔ عام علامات میں معمولی زخم پر بھی دیر تک خون بہنا، بار بار ناک سے خون آنا، نیل پڑ جانا، جوڑوں میں سوجن اور درد، دانت نکالنے یا سرجری کے بعد شدید خون بہنا شامل ہیں۔

شدید صورت میں بغیر کسی چوٹ کے بھی جوڑوں، عضلات یا دماغ میں خون بہہ سکتا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً چار لاکھ افراد ہیموفیلیا کا شکار ہیں۔

پاکستان میں محتاط اندازے کے مطابق 15 سے 20 ہزار بچے متاثر ہیں۔ صرف کراچی شہر میں ہی تین ہزار بچے اس مرض سے لڑ رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں نہ تو کوئی قومی پالیسی ہے اور نہ ہی مریضوں کو سستی یا مفت فیکٹرز فراہم کرنے کا کوئی مستقل نظام۔ نتیجتاً بچے بغیر علاج کے شدید درد اور پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں۔ یہ مرض صرف جسم ہی نہیں، بچوں کی ذہنی صحت پر بھی گہرے زخم لگاتا ہے۔

مسلسل احتیاط، خون بہنے کا خوف، اسکول اور کھیل کود سے دوری، احساسِ کمتری اور اکیلے پن کی وجہ سے بچے اضطراب، ڈپریشن اور بعض اوقات اضطرابی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ابھی تک اس بیماری کا مکمل علاج نہیں نکلا۔ بین الاقوامی سطح پر مریضوں کو ہر 48 گھنٹے بعد فیکٹر 8 یا 9 کے انجیکشن دیے جاتے ہیں، مگر یہ انجیکشن نہایت مہنگے ہیں اور پاکستان جیسے ممالک میں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔

یہاں متبادل طور پر فریش فروزن پلازما (FFP) استعمال کیا جاتا ہے جو خون سے حاصل کیا جاتا ہے۔ البتہ اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر خون کی اسکریننگ ٹھیک نہ ہو تو مریض ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی یا دیگر مہلک بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں وان وِلبرینڈ ڈیزیز (Von Willebrand Disease) بھی بہت عام ہے جو علامات میں ہیموفیلیا سے ملتی جلتی ہے۔

مگر اس کی درست تشخیص کے لیے ٹیسٹ دستیاب نہیں ہوتے۔ حکومت کو فوری طور پر ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے قومی پالیسی بنانی چاہیے، فیکٹرز کو سبسڈی پر فراہم کرنا چاہیے اور خون کی محفوظ فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ساتھ ہی والدین، ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی کو مل کر آگاہی مہم چلانی چاہیے، تاکہ کوئی بچہ تشخیص کے بغیر نہ رہ جائے، کیوں کہ تشخیص واقعی دیکھ بھال کی پہلی اور اہم ترین سیڑھی ہے۔

صحت سے مزید