میں ایک ڈاکٹر ہوں اپنے مصروف ترین دن کے اختتام پر ڈائری لکھنے بیٹھی تو ذہن میں بار بار انیس بیس سالہ فائزہ کا خیال آرہا جو اپنی والدہ کے ساتھ دوچار دن پہلے بھی آئی تھی مریضہ بہت کمزور ہوتی جارہی تھی ہروقت تھکن اور جسم میں درد کی شکایت کرتی، رات کو پسینہ بہت آتا اور بے چین رہتی ہوں اس کا تو وزن بھی کم ہورہا ہے۔
میں نے پوچھا کسی ڈاکٹر کو دکھایا ؟ کوئی علاج کروایا؟ جواب تھا جی ڈاکٹر صاحبہ پہلے میڈیکل اسٹور سے کھانسی اور بخار کا شربت لے کر پیا، اس کے بعد محلے کے ڈاکٹر کو دکھایا تھا، اس نے اینٹی بایوٹک دی تھی، جس کا نام مجھے معلوم نہیں ہے اور پیراسیٹامول بھی دی تھی کہا تھا موسمی بخار ہے، مگر مجھے تو آرام ہی نہیں آرہا۔ دن بہ دن اس کی حالت خراب ہورہی تھی، میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر نے کوئی ٹیسٹ کروائے تھے ؟ جواب ملا نہیں بس دوا دی تھی۔
میں نے مریضہ کو چیک کرنے کےبعد ایکسرے (XRAY) اور خون کے ٹیسٹ کروائے تھے اور آج وہ رپورٹس کے ساتھ دوبارہ میرے کلینک میں تھی۔ فائزہ کی ساری رپورٹس بتارہی تھیں کہ اسے ٹی بی (تپ دق)ہے، میں نے فائزہ اور اس کی والدہ کو اطمینان سے بٹھا کر بتایا کہ فائزہ کو پھیپھڑوں کی’’ ٹی بی‘‘ (تپ دق) ہے یہ سن کروہ دونوں گھبرا گئیں۔
فائزہ کی آنکھوں میں خوف اور اس کی والدہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کہنے لگیں میری بچی فیکٹری میں کام کرتی ہے اور زیادہ چھٹیاں کرنے کی وجہ سے انچارج بھی ناراض ہورہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ میں نے تو اگلے سال کے آخر میں اس کی شادی بھی کرنی ہے، اب کیا ہوگا؟
میں نے فائزہ اور اس کی والدہ کو تسلی دی اور سمجھایا کہ انشااللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ٹی بی ایک خطرناک متعدی مگر قابل علاج مرض ہے جو علاج سے مکمل طور پر ٹھیک ہوجاتا ہے یہ بیماری عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے یہ ایک جراثیم کے ذریعے پھیلتی ہے جو کھانسنے یا چھینکنے سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتی ہے اور اگر مریض باقاعدگی سے دوالے اور احتیاط کرے اپنی غذا کا خیال رکھے تو وہ مکمل صحت یاب ہوجاتا ہے۔
میں نے دیکھا فائزہ کی آنکھوں میں خوف کی جگہ امید نے لے لی ہے یعنی صرف بیماری کا بتانا کافی نہیں بلکہ مریض کو مکمل آگہی اور تسلی دینا بھی ضروری ہے، تاکہ اس کا حوصلہ اور امید برقرار رہے بحیثیت ڈاکٹر صرف علاج کرنا فرض نہیں بلکہ لوگوں میں شعور اور آگہی پھیلانا بھی ہے، تاکہ بیماری کا بروقت مقابلہ کیا جاسکے۔ ٹی بی ایسی بیماری ہے جو بظاہر معمولی علامات سے شروع ہوتی ہے، مگر بروقت توجہ اور علاج نا ہو تو سنگین صورت اختیار کرلیتی ہے۔
جہاں تک ٹی بی کے علاج کا تعلق ہے تو علاج عموماً چھ سے نو ماہ تک جاری رہتا ہےاس کے لئے مخصوص ادویات بہت باقاعدگی سے لینا انتہائی ضروری ہیں ایک بھی خوراک کا چھوڑ دینا خطرناک ہوسکتا ہے کبھی دوا سے ابتدا میں متلی یا کمزوری ہوسکتی ہے تب بھی دوا بند کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
علاج کا ایک طریقہ DOTبھی ہے ۔ جس میں مریض (Directly Obsesnd Therapy) کو ڈاکٹر یا ہیلتھ ورکر کی نگرانی میں دوا دی جاتی ہے علاج ادھورا چھوڑ دینے سے بیماری دوبارہ ہوسکتی ہے اور جراثیم دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکتے(Drug Resistant) ہیں۔
دوا کے ساتھ غذا کا بھی دھیان رکھنا چاہیئے۔ متوازن اور پروٹین والی غذا جیسے دودھ، انڈے ،گوشت، دالیں، سبزیاں اور پھل مفید ہیں، تاکہ جسم مضبوط ہو اور قوت مدافعت میں اضافہ ہو، سوال یہ بھی ہے کہ ٹی بی سے زیادہ متاثر کون لوگ ہوتے ہیں تو ٹی بی زیادہ تر ان لوگوں کو متاثر کرتی ہے جن کا مدافعت کا نظام کمزور ہوتا ہے جیسے:
٭…بچے ، بوڑھے ٭… کمزور ، غذ کی کمی کا شکار افراد ٭…ذیا بیطس HIV/AIDS کے مریض ٭… -بھیڑ والی تنگ جگہ اور غیر صحت مند ماحول میں رہنے والے افراد ٭…سگریٹ اور تمباکو نوشی کرنے والے لوگ ٭… وہ افراد جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہوں ۔
اگر احتیاط کی جائے تو ہم سب کو کھانستے یا چھینکتے ہوئے منھ پر ٹشو یا رومال رکھنا چاہیے اور بچوں کو بھی سمجھانا چاہیئے، تاکہ جراثیم دوسروں تک نہ پھیلیں۔
مریض کو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔ خصوصاً علاج کے ابتدائی دنوں میں، مریض کا تولیہ، کپ، گلاس اور ذاتی استعمال کی چیزیں الگ رکھنا چاہیئے۔ مریض کے لئے مکمل آرام اور بھرپور نیند، تمباکو نوشی سے پرہیز بھی بہت ضروری ہے، کیوں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کو کمزور کرتی ہے اور بیماری کو بڑھادیتی ہے۔
ڈائری بند کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ اس وقت پاکستان T.Bکے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اس خطرناک بیماری سے لڑنا صرف ڈاکٹر کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا فرض ہے ٹی بی صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ ہے غربت کمزوری غذا کی کمی اور لاعلمی اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
اگر ہم سب بروقت مکمل علاج کروائیں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دوسروں تک آگہی پھیلائیں تو ہم اس بیماری کو شکست دے سکتے ہیں مجھے امید ہے کہ فائزہ بھی علاج اور احتیاط کے ساتھ ٹی بی کو شکست دے، دے گی۔