• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکثر وبیشتر لوگ چکر آنے کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ، یہ چکر آتے کیوں ہیں، اور یہ ہوتے کیا ہیں؟یہ جاننا بے حد اہم ہے کہ چکر کب آتے ہیں اور وہ کون کون سے محرکات ہیں جو ان کے ہونے کا باعث ہیں؟ چکروں کے ساتھ ساتھ اور کون کون سی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ المختصر معالج سے درست طبی معائنہ، ضروری ٹیسٹ سمیت بعض اوقات دماغ کے بڑے ایکسرے (ایم آر آئی) کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ VERTIGO یعنی چکر آنا اسے ’’گھومیری‘‘ بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات ہر چیز گھوم رہی ہوتی ہے؟

بعض اوقات سر گھوم رہا ہوتا ہے، اٹھنے، بیٹھنے، کھڑے ہونے میں شکایت درپیش ہو تی ہے جو تکلیف دہ پریشان کن صورتحال کا باعث ہوتے ہیں، ان چکروں کے باعث متعلقہ فرد کو اپنے روز مرہ کے کام سرانجام دینا مشکل ہو جاتے ہیں۔چکروں کی ایک اور صورت ہوتی ہے جسے DIZZINESS یا GIOOINESS کہتے ہیں۔

اس طرح کی صورت حال میں متعلقہ انسان کا سر نہیں گھوم رہا ہوتا ،جیسا کہ ’’vertigo ‘‘میں ہوتا ہے۔ سر گھومنا سر کے اردگرد چیزوں کا گھومنا یہ چکروں کی سب سے اہم قسم ہے۔ جسے ’’vertigo‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ:

٭آنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا ہے۔کبھی کبھی دھنلاہٹ بھی ہوتی ہے٭چلتے ہوئے لڑکھڑاجاتا ہے۔ ٭سفر میں ہے تو متلاہٹ یا قہ ہوتی ہے۔٭اچانک سر بھاری ہونے لگتا ہے، اور جسم ادھر سے ادھر ہلنے لگتا ہے ،یہ بھی چکروں کی علامت ہوتی ہے۔ چکر کی علامت کے ساتھ جب معالج اصل حقیقت جاننے کے لیے مریض سے مکمل معلومات حاصل کرتا ہے تا کہ چکر آنے کی اصل وجہ جان سکیں اور درست تشخیص ممکن بنائی جا سکے! لیکن معالج صرف مریض کے چکروں کی علامات کی بنیاد پر علاج نہیں کرسکتا۔

یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ چکر آنے کی وجہ کیا ہے؟کان کےاندرونی حصےّاورگردن کے مہروں میں درد ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہےکہ آس پاس کی ہر چیز گھوم رہی ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں ایک وجہ Benign paroxy.Positional ertigo-BPPV اور دوسری Peripheral vertigo Central ہے جو خطرناک نہیں ہے ۔Peripheral چکر عام طور پر کوئی پوزیشن تبدیل کرنے پر آتے ہیں۔ گھومیری والے چکر روزمرہ زندگی کو خاصا متاثر کر تے ہیں۔

Dizziness میں سر نہیں گھوم رہا ہوتا بلکہ سر ہلکا محسوس ہو رہا ہوتاہے، ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ جسم کا توازن قابو میں نہیں ہے۔ دراصل Dizziness میں چکر نہیں ہوتے ،مگر مریض اسے چکرہی سمجھتا ہے۔

Motion Sickness

اس کوبھی مریض چکر ہی سمجھتے ہیں ، مگر Motion Sickness کا چکر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی ’’کشتی‘‘ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جسم ’ہچکولے‘‘ کھا رہا ہے۔ نارمل بیٹھے ہیں، مگر محسوس ہوتا ہے کہ جسم ہچکولے کھا رہا ہے، مگر دراصل وہ چکر نہیں بلکہ Motion Sickness کی علامات ہوتی ہیں۔

اسی طرح کچھ لوگوں کو گونج یعنی کانوں میں شور کی آوازیں آرہی ہوتی ہے، اس کو طب کی زبان میں Tinnitvs کہتے ہیں۔ اس کیفیت کو بھی متاثرہ شخص چکر ہی سمجھتا ہے۔

درج بالا تمام علامتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جسم کا توازن خراب ہوتا ہے اور متاثرہ شخص اس عدم توازن کو ’’چکر‘‘ سمجھتا اور معالج سے رجوع کرتا ہے۔

جسم کے توازن کو برقرار رکھنے کا نظام جسے VestibularSystemیعنی’’توازن برقرار رکھنے کا نظام‘‘ جسے دماغ کی رگ Vestibular Nerve کنٹرول کرتی ہے جو ان درج بالا ’’چکروں‘‘ کی علامت پر مبنی کیفیت میں متاثر ہوتی ہے، یعنی توازن کے نظام کے متاثر ہونے کے باعث مریض کا جسم عدم توازن کا شکار ہو تا ہے۔ vestibular neuritis یعنی Vestibular رگ (nerve) میں ورم آ جاتا ہے۔

اس میں اچانک چکر آنے شروع ہو جاتے ہیں، متلاہٹ ہوتی ہے یہاں تک کہ الٹیاں بھی شروع ہوجا تی ہیں اور یہ سب ا چانک اور اتنا شدید ہوتا ہے کہ متاثرہ فرد کو حرکت کرنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ اگر فوری علاج نہ ہو تو Vestibular Nerve damage ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے مستقل چکر آنے کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔ Vestibular Neuritis کا فوری اور صحیح علاج درست تشخیص کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔

vestibular systemکے متاثر+کوئی بھی چیز دو نظر آئے +فالج کی علامات ہوں۔brain stem stroke (دماغ کا فالج) اگر کسی انسان کو اچانک سے چکر آ رہے ہوں ساتھ میں بینائی کےمسائل بھی رونما ہو جائیں بالخصوص کسی کو چیزیں دو دو نظر آنا شروع ہو جائیں اور ساتھ ہی جسم کا حصہ متاثر ہو جائے تو یہ علامات خطرناک ہوتی ہیں، اس کو طب کی زبان میں فالج کہتے ہیں ،جو دماغ کو متاثر کرتا ہے۔

چکر آنے کی عام وجوہات کیا ہوتی ہیں۔ چکر از خود بیماری نہیں۔ مختلف طبی مسائل ’’سر چکرانے ‘‘ کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثلاً :

٭جس میں نمکیات/ پانی کی کمی ’’ہلکے سر‘‘کا سبب بن سکتا ہے۔٭ذیابطیس میں مبتلا افراد کو عام طور پر شوگر کے لیول میں کمی کے باعث چکر آسکتے ہیں۔٭تنائو و پریشانی ،اچانک چکر آنے کا سبب بن سکتا ہے۔٭دل کا عارضہ ،دل کی بے ترتیب دھڑکن و دیگر قلبی معاملات چکروں کا سبب بن سکتے ہیں۔٭جسم میں ہیموگلوبین کی مقدار میں کمی دراصل آکسیجن کی ترسیل میں کمی کا باعث بنتا ہے جو چکر آنا اور کمزوری کا باعت بنتا ہے۔

(6) دواؤں کے ضمنی اثرات: بلڈپریشر ، سکون آور ادویات کو استعمال و درد کم کرنی والی ادویات ضمنی اثرات میں چکروں کا باعث بنتی ہیں۔جب بھی کسی کو چکروں کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جو مستقل اور بار بار آ رہے ہوں اور آہستگی سے بڑھ رہے ہوں تو فوری طور پر اپنے جنرل پریکٹشین سے رابطہ کریں اور اگر چکروں کے ساتھ الٹی/ متلی ہونا یا کانوں میں سیٹی جیسی آواز کا ہونا، سینے پر بوجھ، شدید سر کا درد وغیرہ طاری ہونے لگے تو ماہر امراض دماغ سے یا ماہر امراض قلب (کارڈیولوجسٹ) یا ماہر امراض کان (ای این ٹی) سے رجوع کریں۔

……علاج ……

چکر آنے کی درست وجوہات و تشخیص ہی دراصل چکروں کے علاج کی بنیاد ہیں۔ اگر درست وجہ جان لی جائے تو علاج کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاج میں چکر آنے کے ساتھ متلاہٹ کے علاج کے لیے بھی دوائوں کی ضرورت رہتی ہے۔نیز سر کے درد یا بے چینی وغیرہ میں بھی معالج کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہے۔

نیز غذائی امور مثلاً کم نمک والی غذائیں سمیت صحت مند غذا کا استعمال، پانی و دیگر پانی والی اشیا کے درست مقدار میں استعمال کے ساتھ ساتھ طرز زندگی پر توجہ چکروں کے علاج میں خاصے معاون و مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ چکر آنے پر لاپرواہی نہ برتیں بہ صورت دیگر کئی طبی پیچیدگیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا اس ضمن میں بروقت و درست تشخیص کے لیے اپنے معالج سے فوری رجوع کریں۔

صحت سے مزید