• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ اسمبلی، اقلیتی رکن کے مطالبے نے مسلمان اراکین کو مشکل میں ڈال دیا

کراچی ( رپورٹ: سہیل افضل )سندھ اسمبلی، اقلیتی رکن کے مطالبے نے مسلمان اراکین کو مشکل میں ڈال دیا، ہندورکن نےشراب کی خرید اور فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ،لیکن مسلمان اراکین نے اسکی مخالفت کردی ،صوبائی وزیر نے موقف اختیار کیا کہ شراب کی خریدو فروخت سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائیگا،حکومتی اراکین نے صوبائی وزیر کا یہ موقف تسلیم کرتے ہوئے قرار داد مسترد کر دی،ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں ،شراب ایک معاشرتی برائی ہے ،تمام مذاہب میں اسکی ممانعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خریدو فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے ،شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے ،عوام کیلئے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوںکہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں ،یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خریدو فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ منگل کو میری جانب سے قرار داد پیش کی گئی تو اپوزیشن نے اسکی حمایت کی لیکن افسوس حکومتی بینچوں نے اسکی مخالفت کی۔ انیل کما ر نے بتایا کہ میں نے اپنی ایک نجی قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ شراب ایک معاشرتی برائی ہے ،کسی مذہب میں اسکی اجازت نہیں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کےتمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ اسکے جواب میں وزیر قانون و داخلہ ضیا لنجار نے اسکی مخالفت کی اور کہا کہ آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں،اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائیگا،جس پر اسپیکر نے رائے لی تو حکومتی اراکین نے اسکی مخالفت کی اور ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔ دریں اثنا سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کردہ تمام قراردادیں مسترد کردی گئیں اور ان میں سے کوئی ایک قرارداد بھی منظور نہ ہوسکی۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنی ایک قرارداد میں کہا تھا کہ کراچی کے سمندر میں گندہ پانی جارہا ہے جس سے سمندر بری طرح آلودہ ہورہا ہے۔ کراچی کے سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کو بہتر بنایا جائے۔ صوبائی وزیرجام خان شورونے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی کئی بار ایوان میں بات ہوچکی ہے اور حکومت مسئلے کے حل کیلئے کام کررہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بتایا کہ پائلٹ پراجیکٹ چل رہے ہیں اورٹی پی فور پر جلد کام مکمل ہوجائے گا۔ بعدازاں یہ قرارداد مسترد کردی گئی۔ ایوان نے ایم کیو ایم کی خاتون رکن قراۃ العین خان کی بھی ایک قرارداد مسترد کردی جو جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کو روکنے کیلئے لائف بیسڈ اسکل لرننگ سے متعلق تھی۔ وزیر داخلہ نے اس قرارداد کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ یہ قراداد واضح نہیں دو حصوں میں ہے اس کو بہتر کیا جائےجس پر ایوان نے قراداد مسترد کردی۔ ایوان نے قراۃ العین خان کی ایک اور قرارداد بھی مسترد کی جس میں انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کو دیکھنے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ وزیر پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اس مسئلے پر پہلے سے کمیٹی موجود ہے میں اسکی مخالفت کرتا ہوں ایوان نے تحریک مسترد کردی۔

اہم خبریں سے مزید