انصار عباسی
اسلام آباد :…ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس (سی پی آئی) 2025ء میں پاکستان کی کارکردگی ملے جلے بیرونی تجزیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں صرف ایک بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کی درجہ بندی گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر، دو نے بدتر قرار دی جبکہ باقی پانچ اداروں نے کسی تبدیلی کا اندراج نہیں کیا۔ سی پی آئی 2025ء میں پاکستان نے 100؍ میں سے 27؍ اسکور حاصل کیا اور 182؍ ممالک میں سے 136ویں نمبر پر رہا، جبکہ 2024ء میں پاکستان 180؍ ممالک میں سے 135ویں نمبر پر تھا۔ پاکستان کے معاملے میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے 8؍ آزاد ڈیٹا ذرائع استعمال کیے، جن میں ہر ایک عوامی شعبے میں بدعنوانی کے مختلف پہلوؤں کو ناپنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ واحد ادارہ جس نے 2024ء کے مقابلے میں پاکستان کی درجہ بندی بہتر قرار دی، وہ ویرائٹیز آف ڈیموکریسی پروجیکٹ ہے۔ اس ادارے نے پاکستان کا اسکور 14؍ (2024ء) سے بڑھا کر 19؍ (2025ء) کر دیا۔ اس انڈیکس میں عوامی شعبے، ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ میں بدعنوانی کے اندازوں کو مجموعی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ زیادہ اسکور ریاستی اداروں میں بدعنوانی کے تاثر میں نسبتاً بہتری کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر۔ تاہم، قانون کی عمل داری اور نفاذ سے متعلق اشاریوں سے اس بہتری کی تائید نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کا مجموعی سی پی آئی اسکور محدود رہا۔ دو اداروں نے 2025ء میں پاکستان کا اسکور کم کر دیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایگزیکٹو اوپینین سروے کے تحت پاکستان کا اسکور 33؍ سے کم ہو کر 32؍ ہو گیا۔ یہ سروے کاروباری شخصیات کے خیالات کی عکاسی کرتا ہے، جو درآمدات و برآمدات، سرکاری ٹھیکوں اور لائسنسز، ٹیکس ادائیگیوں، عدالتی فیصلوں اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال میں رشوت کے امور سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کمی سے کاروباری طبقے میں غیر رسمی ادائیگیوں اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کے بارے میں بگڑتے تاثرات کا اظہار ہوتا ہے۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لاء انڈیکس میں بھی 2025ء کیلئے پاکستان کے اسکور میں کمی دیکھی گئی، اسکور 26؍ سے کم ہو کر 25؍ رہ گیا۔ یہ انڈیکس کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایگزیکٹو، عدلیہ، مقننہ، پولیس اور فوج کے اہلکار کس حد تک عوامی عہدے کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کم اسکور اس بات کی علامت ہے کہ احتساب اور قانون کے نفاذ میں کمزوریاں برقرار ہیں، بالخصوص یہ تاثر کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر مسلسل اور موثر سزا نہیں دی جاتی۔ پانچ ڈیٹا ذرائع نے سال بہ سال کوئی تبدیلی رپورٹ نہیں کی، جو ادارہ جاتی جمود کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان میں درج شامل ہیں: (۱) برٹلس مین فاؤنڈیشن ٹرانسفارمیشن انڈیکس، جو بدعنوان اہلکاروں کیخلاف مقدمات چلانے یا بدعنوانی پر قابو پانے کی حکومتی صلاحیت میں کوئی بہتری ظاہر نہیں کرتا۔ (۲) اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ، جو عوامی مالیاتی کنٹرول، سول سروس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عدالتی خودمختاری میں مستقل کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ (۳) گلوبل انسائٹس کنٹری رسک ریٹنگز، جو کاروباری اداروں کو درپیش رشوت اور بدعنوانی کے خطرات میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں کرتا۔ (۴) پی آر ایس انٹرنیشنل کنٹری رسک گائیڈ، جو سیاسی سرپرستی، اقربا پروری اور سیاست و کاروبار کے درمیان غیر شفاف تعلقات پر مسلسل تحفظات ظاہر کرتا ہے۔ (۵) ورلڈ بینک سی پی آئی اے، جو ایگزیکٹو احتساب، شفافیت اور ریاستی گرفت سے مزاحمت میں کسی پیش رفت کی نشاندہی نہیں کرتا۔ 2024ء میں سی پی آئی کی درجہ بندی 180؍ ممالک کے درمیان کی گئی تھی، جبکہ 2025ء میں ممالک کی تعداد بڑھ کر 182؍ ہو گئی۔