کراچی(طاہر عزیز۔۔اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اورڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد کے درمیان خاموش ناراضی ختم، ضلع وسطی میں تختی پر نام نکالنے پر ڈپٹی میئر اور میئر کے درمیان سرد مہری کا آغاز ہوابعد ازاں ایک افسر کا تبادلہ پھر اس کا منسوخ ہو جانا اور پھر تبادلہ بھی ناراضی کا بڑا سبب قرار دیا جارہاتھاکچھ اور معاملات بھی تھے،تقریباً ڈھائی ماہ بعد ایک بار پھر پروگراموں میں ایک ساتھ جائیں گے، ڈپٹی میئرکسی بھی پروگرام میں میئر کے ساتھ نظر نہیں آتے تھے جبکہ کے ایم سی کے مختلف منصوبوں کے سنگ بنیاد یا افتتاح کے موقع پردعوت نامے پر صرف میئر کا نام نہیں ہوتا تھا اس سے پہلے ڈپٹی میئر کا نام بھی موجود ہوتا تھا دونوں نے کبھی ایک دوسرے کی کھل کرمخالفت نہیں کی اور پار ٹی ڈسپلن کے پابند رہے لیکن کے ایم سی افسران اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو اس دوری کا علم تھا منگل کو پہلے ڈپٹی میئر نےمرتضیٰ وہاب کے دفتر جا کر ان سے ملاقات کی اسی طرح میئر، سلمان عبداللہ مراد کے دفتر پہنچےان ملاقاتوں کا سب سے پہلانتیجہ جو سامنے آیا وہ کےایم سی کی جانب سے بدھ کو پختون آباد منگھوپیر ضلع غربی میں کرنل شیر خان گراونڈ کےسنگ بنیاد کے دعوت نامے میں میئر اور ڈپٹی میئرکے ناموں کا ایک ساتھ ہونا ہے ورنہ دونوں الگ الگ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔