لاہور(رب نواز خان)ماہرین صحت نے کہا ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ معاشرے کے تمام مسائل کی جڑ ہے،لڑکیوں کو نہ کہنا سکھائیں،لوگوں کی اکثریت بیٹے کی خواہش میں کئی کئی بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں جبکہ اولاد میں مناسب وقفہ نہ ہونے سے خواتین کی تولیدی اور جسمانی صحت شدید ابتری کا شکار ہو رہی ہے۔ کم عمری کی شادی اور آگہی کے فقدان سے آبادی میں اضافے کے مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ نوجوانوں کو آگے بڑھ کر آبادی کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ورنہ یہ اژدھا سب کو نگل جائے گا۔ ان خیالات کا اظہارکنئیرڈکالج لاہور میں گذشتہ روز منعقدہ یوتھ کانفرنس کے شرکاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔یوتھ کانفرنس کا عنوان یوتھ ایز کیٹلسٹ آف چینج : پاکستان پاپولیشن مینجمنٹ چیلنج تھا۔ کانفرنس میں ڈی جی ویلفئیر ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سلمان الراشد،پرنسپل کنئیرڈ کالج ڈاکٹر سید ارم انجم، وائس پرنسپل ڈاکٹر کلثوم، جینڈر سپشلسٹ خبیب کیانی اور دیگر نے شرکت کی۔ پرنسپل کنئیرڈ کالج ڈاکٹر ارم انجم نے کہا کہ ہمارے معاشرےمیں نارمل یا تندرست و صحت مند بیٹا پیدا کرنے کے چکر میں لوگ چھ 6 بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں۔ جس سے آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ آبادی کنٹرول کرنے کے لیے معاشرے سے بیٹے اور بیٹی کے فرق کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں بد قسمتی سے بیٹے اور بیٹی میں تفریق بہت زیادہ ہے ۔ عورت ہمارے معاشرے میں بہت مجبور ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اولاد کی جنس کے تعین کا ذمہ دار بھی عورت کو قرار دیا جا تا ہے اور بیٹیاں پیدا ہونے پر مرد دوسری شادی کر لیتا ہے ۔ جبکہ اولا دکی جنس کا تعین میں مکمل طور پر مرد ذمہ دار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ارم نے کہا کہ آج کی کانفرنس سے ہمارے طلبہ میں شعور پیدا ہو گا اور یہ کل بہترین مائیں ثابت ہوں گی انہوں نے کہا کہ کنئیرڈ کالج میں سائنس و آرٹس کے تمام طلبہ کو معاشرتی سوجھ بوجھ اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے لازمی کورس ورک نصاب میں شامل کیا گیا ہے جس کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں لڑکیوں میں نہ کہنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔