• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میزبان: محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ : سلیم اللہ صدیقی

تصاویر : جنید احمد

شرکاء:

عارف حبیب (چیئرمین، عارف حبیب گروپ)

عبدالقادر میمن (سرپرست/سابق صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن)

محمد آصف شمیم (اکنامسٹ/پروفیسر اقراء یونی ورسٹی) 

 بدقسمتی سے پاکستان غیر یقینی سیاست کا شکار ہے،اہم فیصلوں میں تاخیر کا نقصان ہوا، آئی ایم ایف کا کردار ایک ڈاکٹرکی طرح ہے اگر معیشت بیمار ہے تو پھر آئی ایم ایف کے پاس جایا جاتا ہے وہ پیسے کے ساتھ نسخہ بھی دیتا ہے۔ پاکستان سود کی مد میں ادائی پرپھنس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے چیز پر جولاگت آتی ہے عوام سےاس کی پوری قیمت وصول کریں، ریاست اب سبسڈی کے نام پر اپنی جیب سے پیسے خرچ نہ کرے۔

جس کی وجہ سے مہنگائی بہت بڑھ گئی ،آئی ایم ایف ہدایات پرعمل درآمدکی وجہ سے ہماری معیشت میں بہتری نظرآرہی ہے۔کچھ ماہ سے روپے کی قدر برقرار ہے،اسٹاک ایکسچینج اچھی کارکردگی دکھارہا ہے۔ پاکستان کو اپنا اگلا بجٹ بنانا آسان ہے، کبھی ہمارا افراط زر 38فیصد تھا وہ پچھلے ماہ ساڑھے بیس فیصد تھا، شرح سود نیچے آئے گی تواندازاً تین ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔ ہمارے یہاں انرجی پورے ریجن سے زیادہ مہنگی ہے، بجلی انڈسٹری کو 13سینٹ کی پڑرہی ہے جبکہ پڑوس میں سات سے آٹھ سینٹ ہے۔ 

ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی تو ڈالر کا مسئلہ رہے گا، سرمایہ کاری کے حالات کار بہتر بنائے جائیں ہمارا ٹیکس ریٹ ریجن میں سب سے زیادہ ہے کارپوریٹ ٹیکس 29فیصد ہے سپرٹیکس دس فیصد ہے۔ انرجی قیمتوں کو کم ہوناچاہیے شرح سود کم ہونی چاہیے اور ٹیکس ریٹ کم ہوناچاہیے۔

عارف حبیب

حکومت سیاسی بنیاد مضبوط اورگورنس کو دیکھے۔ زراعت معیشت کا بیس فیصدلیکن ٹیکس میں حصہ صرف ایک فیصد ہے،ٹرانسپورٹ سیکٹر17 سے اٹھارہ فیصد لیکن وہ صرف دو سے تین فیصد ٹیکس میں حصے دار ہے، سارا بوجھ مینوفیکچرزکے کاندھوں پر ہے۔ ہمیں نئے سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ صوبے کسی بھی طرح تمام زرعی زمینوں پرودہولڈنگ ٹیکس نافذ کریں۔ہمیں لازمی اپنی معیشت کو دستاویزی اور ڈیجیٹلائزیشن کرنا پڑے گی، دنیا بھر میں ٹیکس لینے کےلیے مختلف اقدامات کئے جاتے ہیں جو آٹو میشن سے آتے ہیں یا ڈیجیٹلائز اکانومی سے آتے ہیں، بجٹ میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس پر دوبارہ کی ضرورت ہے۔

ٹیکس اتنا ہی لیا جائے جتنا دینے والے کی سکت ہو،،کئی ممالک کی سروسس ایکسپورٹ گڈزایکسپورٹ سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ دکان دار کے پاس لائسنس ہونا چاہیے بغیر لائسنس کوئی دکان نہ کھولی جاسکےنہ وہاں کوئی کام ہوسکے، ٹیکس نیٹ میں لانا کایہ سب سے آسان فارمولا ہے۔ انڈسٹری بند ہورہی ہے اور ملک ٹریڈنگ ہوتاجارہا ہے۔ اگر کوئی ٹیکس نہیں دے رہا وہ علیحدہ بات ہے لیکن ٹیکس قوانین تو نافذ کرنے چاہیے۔

عبدالقادر میمن

پاکستانی معیشت کے حوالے سےاچھی خبر یہ ہے کہ ایک عرصے کے بعد ہمارا کرنٹ اکاونٹ اعشاریہ چھ بلین ڈالر سے سرپلس ہوا ہے بظاہر مہنگائی کم ہوتی نظرآرہی ہے، سعودی عرب پہلے راونڈ میں25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو تیار ہے۔ معیشت کے حوالے سے دو اہم مسائل درپیش ہیں جو عوامی اور دوسرا حکومتی ہے، حکومتی مسئلہ میں بجٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ ہےجس کے عوام پر اثرات بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

جب حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو وہ قرض کےلیے آئی ایم ایف سے رجوع کرتی ہے اس قرض سے ہم دفاع،پنشن، سرکاری تنخواہیں اور دیگر سرکاری اخراجات کو پورا کرتے ہیں، آئی ایم ایف اس موقع پر اسٹرکچرل ریفارمز پربات کرتا ہے ، ٹیکس بڑھانے اور ٹارگٹڈ سبسڈیز اور زرعی ٹیکس کی بات کرتا ہے۔ معاشی سدھار کےلیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانا پڑے گا۔، سامان کی نقل و حمل ٹرک یا ٹرالروں کے بجائے ریل سے کی جائے۔ان ڈائیریکٹ ٹیکس کو کم کیا جائے ڈائریکٹ ٹیکس بڑھایا جائے۔

آصف شمیم

نئی منتخب حکومت کا نیا بجٹ قریب ہے، پاکستان کی معیشت بظاہر ڈوبی ہوئی ہے تاہم ابھرنے کے اعشاریے بھی دکھائی دے رہے ہیں، معاشی صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ برسوں میں پاکستان میں غربت کے نمبرز بہت تیزی سے بڑھے ہیں، پاکستان تاریخ کی بلند ترین مہنگائی کی شرح کا شکار ہے، جو اب بھی اکیس فی صد بتائی جاتی ہے لیکن خوراک میں یہ اور بلند ہے جس کے سبب جلد ہی مذید ایک کروڑ افراد غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائیں گے، مڈل کلاس ختم ہو رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے مابین فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے، ورلڈ بینک کے مطابق تقریبا نصف آبادی غربت کا شکار ہو چکی ہے۔ 

خوراک میں مہنگائی کے سبب تراسی فی صد افراد صحت مند یا متوازن غذا سے محروم ہو چکے ہیں، یہ بہت خوف ناک صورت حال ہے کہ عوام کو دال سبزی کے بھی لالے پڑے ہیں روپے کی بےقدری اور درآمدی ملک ہونے کے سبب حالات میں بہتری کا کوئی امکان بھی نہیں، ک7وں کہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، پاکستان کے مالی وسائل میں اضافہ کیسے ہو، اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے نو فی صد کے برابر ہے جو انتہائی پست شرح ہے، رواں مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف چورانوے کھرب سے کچھ زیادہ ہے، جب کہ اپریل تک ایف بی آر کی وصولیاں چوہتر کھرب کے قریب ہیں۔ 

گویا ہدف حاصل کرنے کے لئے آئندہ دو ماہ میں تقریبا بیس کھرب روپے مذید جمع کرنا ہوں گے، توقع ہے کہ پاکستان اس برس مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، آئی ایم ایف اس آمدن کو بہت کم گردانتا ہے اس کی شرائط کے تحت پاکستان کو ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہو گا، جو آئندہ مالی سال میں کم از کم جی ڈی پی کے ایک فی صد کے برابر ہو، گویا ٹیکس کی شرح دس فی صد پر لانا ہو گی، پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہے، تو ہوشیار آئندہ بجٹ میں افراط زر کے اثر یا آمدن کو چھوڑ کر تیرہ کھرب کے اضافی ٹیکس عائد کئے جائیں گے، گویا ایک سو تئیس کھرب آمدن کا ہدف ہو گا یہ تیرہ کھرب کیسے وصول ہوں گے اس کے لئے تگ و دو جاری ہے۔ 

دیکھئے کیا نئے ذرائع آمدن تلاش کئے جاسکیں گے یا پھر پرانے شکار ہی کو مذید ذبح کیا جائے گا، ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں لیکن اس کے لئے ممنوعہ اور مزاحمتی علاقوں میں داخل ہونا ہو گا، موجودہ معاشی حالات اور آئی ایم ایف کی شرائط کو دیکھتے ہوئے بجٹ کیسا ہو گا؟ یہ جاننے کے لئے"پاکستانی معیشت کس حال میں ۔۔۔۔۔ پری بجٹ" " کے موضوع پر اقراء یونی ورسٹی میں جنگ فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں عارف حبیب (چیئرمین، عارف حبیب گروپ)، عبدالقادر میمن (سرپرست/سابق صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن) اور محمد آصف شمیم (اکنامسٹ/پروفیسر اقراء یونی ورسٹی) شریک گفتگو تھے، فورم کی تفصیلی رپورٹ پیش خدمت ہے

جنگ: پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال کیسی ہے اورہم کن حالات میں بجٹ بنانے جارہے ہیں؟

آصف شمیم : پاکستانی معیشت کے حوالے سےاچھی خبر یہ ہے کہ ایک عرصے کے بعد ہمارا کرنٹ اکاونٹ اعشاریہ چھ بلین ڈالر سے سرپلس ہوا ہے بظاہر مہنگائی کم ہوتی نظرآرہی ہے، سعودی عرب پہلے راونڈ میں25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو تیار ہے۔ معیشت کے حوالے سے دو اہم مسائل درپیش ہیں جو عوامی اور دوسرا حکومتی ہے،حکومتی مسئلہ میں بجٹ خسارہ اور تجارتی خسارہ ہےجس کے عوام پر اثرات بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت میں نظرآتے ہیں، 

آصف شمیم
آصف شمیم

حکومت کے پاس جب پیسے نہیں ہوتے تو وہ کسی فلاحی یا ڈیولپمنٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گی، دوہزار تین میں ہمارا تجارتی خسارہ 25فیصد تھا جو بڑھ کر 130فیصد ہوگیا ہے اسی طرح بجٹ خسارہ 25 فیصد تھا وہ بھی بڑھ کر120فیصد ہوگیا، دو ہزار دس میں حکومتی آمدنی ایک اعشاریہ9ٹریلین اور اخراجات دواعشاریہ چار ٹریلین تھے دو ہزار 23 میں حکومتی آمدنی بڑھ کر نواعشاریہ چارٹریلین اور اخراجات گیارہ ٹریلین ہوگئے ہیں, جب حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو وہ قرض کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرتی ہے اس قرض سے ہم دفاع،پنشن، سرکاری تنخواہیں اور دیگرسرکاری اخراجات کو پورا کرتے ہیں،آئی ایم ایف اس موقع پر اسٹرکچرل ریفارمز پربات کرتا ہے، ٹیکس بڑھانے اور ٹارگٹڈ سبسڈیز اور زرعی ٹیکس کی بات کرتا ہے۔ 

پاکستان میں زراعت سے منسلک افراد کی آمدنی 1300ارب روپے اور وہ دوارب روپے ٹیکس دیتے ہیں جو ہماری ٹیکس آمدنی کا کل اعشاریہ ایک فیصد ہے۔ دوسرا وہ اربن ایم موویبل ٹیکس کو پوچھتا ہے یہ پراپرٹی ڈیولپرپر لگتا ہے،وہ تمام گھرانے جن کے گھر کے سائزایک کنال سے زیادہ ہیں جن کی آمدنی ساڑھے چارہزار ارب روپے ہیں وہ صرف سولہ ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں جو اعشاریہ چارفیصد سے بھی کم ہے، ہمارا تیسرابڑا سیکٹر ٹریڈرز کا ہے یہ صرف 25ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں اور 2500ارب روپے برابر کی مراعات لیتے ہیں،اگر یہ مراعات ختم ہوجائیں تو ہمیں بجٹ میں 2500ارب کی سہولت مل جائے گی۔

ہمارا بہت بڑا خرچ ایس او اییس کا ہے جو دو سے ڈھائی ہزار ارب کے برابر ہیں،انہیں ختم کیا جائے تو ہمارے بجٹ میں یہ بچت بھی آجائے گی،اگر ہم صرف ان اخراجات پر ہی قابوپالیں توکافی حد تک ہمارا بجٹ خسارہ قابو میں آسکتا ہے پھر ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیوں کہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے وہ ہمیں اسٹرکچرل ریفارمز کا کہتا ہے اور جس کے کرنے سے ہمیں پچھلے چند برس میں 130ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ حکومت مہنگائی قابوکرنے کادعویٰ کرتی ہے لیکن عوام کی قوت خرید پر اس کا اثر نظر نہیں آتا عوام کا معیار زندگی مزید خراب ہورہا ہے۔

ہمیں معاشی سدھار کے لیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانا پڑے گا جس کے لیے فارمل بزنس کوزیادہ پروموٹ کرناپڑے گا،انڈیا کی طرز پر پاکستان ٹیکس پئیرآرگنائزیشن بننا چاہیے جن کے مشورے کے بغیر کوئی نیاٹیکس نہیں لگایا جائے، حکومتی سائز مختصر کرتے ہوئے وزارتوں کو کم کریں، وزارتوں کو 42 سے کم کرکے 20پر لایا جائے،شوگر مافیا قابوکی جائے شوگرانڈسٹری کو دوسطح پر سبسڈی دی جاتی ہے، صنعتی ترقی کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات قابو کرنےکی ضرورت ہے، سامان کی نقل و حمل ٹرک یا ٹرالروں کے بجائے ریل سے کی جائے جس سے اس مد میں ہونے والی ہماری ایک تہائی اخراجات میں کمی ہوجائے گی، ابھی چالیس لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں جو کم ازکم دوکروڑکرنے کی ضرورت ہے۔ ان ڈائیریکٹ ٹیکس کو کم کیا جائے ڈائریکٹ ٹیکس بڑھایا جائے۔

جنگ: آئی ایم ایف کے پاس جانا ان سے معاہدہ ہونا کیا پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے؟

آصف شمیم: پاکستان دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں آتا ہے جو آئی ایم ایف کے پیکج پر ہیں، دنیا کی کوئی بھی ایسی معیشت نہیں ہے جو آئی ایم ایف کے پیکج پر گئے اور کامیاب ہوگئے۔ ہم جب آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو وہ ہمیں ڈکٹیٹ کرتا ہے،وہ ہمیں کہتا ہے یہ کام کرنا ہے،آئی ایم ایف کبھی اخراجات کم کرنے کےلیے نہیں کہتا وہاں سے صرف کہا جاتا ہے پٹرول،گیس بجلی کی قیمت بڑھادیں۔

جنگ: ریکارڈ خسارے کابجٹ عرصے سے جاری ہے اخراجات بڑھ رہے ہیں اورآمدنی نہیں بڑھ رہی۔ ایف بی آر بھی اپنا کوئی ہدف پورا نہیں کررہا۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جن کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی قریباً نو فیصد ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے انڈیا16فیصد، بنگلہ دیش میں 15فیصد کے قریب ہے۔ خسارے پورا کرنے کےلیےاپنی آمدنی کوکیسے بڑھائیں؟

عبدالقادرمیمن : اہم موضوع پر گفتگو کے لیے میں جنگ فورم کا شکرگزار ہوں۔اگر ملک بھر کے تمام اداروں کی کارکردگی کی بات کریں تو کتابیں بھر جائیں گی لیکن یہ اس کا حل نہیں،موجودہ حالات میں سوچنا ہوگا کہ ہم اسے کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں،ہمیں آئی ایم ایف سے لون مل گیا ہے اورلوگ اس پرخوش ہیں حالانکہ قرض لینے پر کبھی خوش نہیں ہونا چاہیے۔ قرض مجبوری میں آخری حل ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس پر خوش ہیں ۔موجودہ بجٹ میں اگر میں کچھ تجاویز دوں تو ابتدائی کوشش میں حکومت اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرے اورگورنس کے مسائل کو دیکھے۔ہماری جی ڈی پی کا ٹیکس کمپوزیشن کچھ اس طرح ہے۔ 

عبدالقادرمیمن
عبدالقادرمیمن

زراعت معیشت کا بیس فیصدلیکن ٹیکس میں اس کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، ٹرانسپورٹ سیکٹر17 سے اٹھارہ فیصد لیکن وہ صرف دو سے تین فیصد ٹیکس میں حصے دار ہے،اس طرح سارا بوجھ مینوفیکچرز کاندھوں پر ہے۔ ہمیں کوشش کرکے نئے سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔اس طرح ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھے گا اور مینوفیکچرنگ سیکٹر پر بوجھ کم ہوگا۔ زرعی ٹیکس صوبائی معاملہ ہے لیکن جب ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو گنا جاتاہے تو وہ صوبوں اور وفاق کے مشترکہ ٹیکس وصولی کو جمع کرکے ہوتا ہے۔ زرعی ٹیکس کےلیےاکثر گفتگوہوتی رہی ہے لیکن بدقسمتی سے کبھی کچھ نہیں ہوا۔

یہ میری تجویز ہے کہ صوبے کسی بھی طرح تمام زرعی زمینوں پرودہولڈنگ ٹیکس نافذ کریں اوراسے صرف صفراعشاریہ ایک فیصد ہی کرے لیکن یہ ٹیکس ایڈجسٹی بل ہوں،وہ فیڈرل انکم ٹیکس یا صوبائی ٹیکس کے ہرقانون میں ایڈجسٹی بل ہوں۔اس سے ہماری معاشی دستاویزی ریکارڈ کوبہت فائدہ ہوگا اورآمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہمیں لازمی اپنی معیشت کی دستاویز کی ڈیجیٹلائزیشن کرنا پڑے گی،دنیا بھر میں ٹیکس لینے کےلیے مختلف اقدامات کئے جاتے ہیں۔جو آٹو میشن سے آتے ہیں یا ڈیجیٹلائز اکانومی سے آتے ہیں، ہمیں مثبت نتائج کو یقینی بنانے کے لیے یہ کرناپڑے گا۔

ماضی میں نافذ کئے گئے کچھ ٹیکس پر دوبارہ غورکرنے کی ضرورت ہے مثلا کییپٹل ویلیو ٹیکس فارن نان ریزیڈنٹس پر لگایا گیا، اس سے ٹیکس تو اتنا جمع نہیں ہوا لیکن نقصان یہ ہوا،متعدد اچھے کاروباری شخصیات نے خود کو نان ریزیڈنٹس کردیا۔ یہ ہوا کیوں اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی جو انکم بیرون ملک سے ہورہی ہے اسے نان ریزیڈنٹس سے ٹیکس یہاں کررہے ہیں پھر اس کے اثاثوں پر بھی ٹیکس کررہے ہیں،جس کی اجازت کوئی بھی ٹیکس قانون نہیں دیتا۔دوسرا یہ صرف ان سے لے رہے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں ہے ٹیکس نیٹ سے باہر سے نہیں لے رہے نہ کوئی کوشش ہے۔ اس طرح کی کئی وجوہات سے ٹیکس آمدنی پر بڑا فرق پڑرہا ہے۔

اس لیے بجٹ میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس پر دوبارہ غورکرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے یہاں ڈسٹارشنز بھی بہت زیادہ ہے۔جیسے ٹیلی کمیونیکیشن پر 22 فیصد سیلزٹیکس وصول کیاجاتا ہے لیکن 13فیصد کریڈٹ دیا جائے گا جب کہ یہ دنیا میں قانون ہے جتنا ان پٹ دیں گے اتنا ہی آوٹ پٹ پر ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔ ہمارے نظام میں اس طرح کے ڈسٹاریشنز کی لمبی فہرست ہے۔ ایک زمانے میں کئی ممالک جو ہم سے پیچھے تھے انہوں نےقریبا دوصدی قبل ایڈن اسمتھ کی بات پرآج من وعن نافذ کردیا ہے ٹیکس میں آسانی رہے ، ٹیکس اتنا ہی لیا جائے جتنا دینے والے کی سکت ہو،اس طرح سوچ کر ٹیکس لگایا جانا چاہیے۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو تمام نعمتوں سے مالامال ہے،سب سے بڑی نعمت نوجوان ہیں اگر ہم کسی طرح صرف انہیں چینلائزکرلیں تو ہماری پریشانیاں ختم ہوسکتی ہیں،کیوں کہ ابھی دنیا بھر میں نوجوانوں کی تیکنیکی صلاحیت ایکسپورٹ ہورہی ہے، کئی ممالک کی سروسس ایکسپورٹ گڈزایکسپورٹ سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہمیں ایکسپورٹ پروسسینگ زون زیادہ سے زیادہ بنانے چاہییں جہاں زیادہ سے سہولیات فراہم کی جائیں۔ہمارے پڑوس میں جبل علی ہے جس رقبہ پندرہ ہزار ایکڑپر ہے جب کہ کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کارقبہ صرف 300ایکڑپر ہے، ایران میں یہ رقبہ 82ہیکٹر پرہے جب تک ہم اس طرح کے سنجیدہ اقدامات نہیں کریں گے ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی۔ ہمیں انکم کے ساتھ اخراجات بھی قابو کرنے کی ضرورت ہے۔جنگ:رئیل اسٹیٹ اور ٹریڈرز کو ٹیکس نیٹ پرلانےکی بات ہورہی ہے لیکن وہاں سے مزاحمت ہے تو پھر کیا ہوگا؟

عبدالقادرمیمن: متحدہ عرب امارات میں ویٹ کا قانون آگیا ہے وہاں کوئی دکان ایسی نہیں جو ویٹ کے قانون میں رجسٹرڈ نہیں ہے،دکان کا رجسٹر کرنا ہے ویٹ کا قانون نافذ کرنا ہے یہ آغاز ہوگا۔اس کے لیے حکومت کو جرات دکھانی پڑے گی اگر وہ ایسا نہیں کرسکی تو یہ قانون کبھی نافذ نہیں ہوسکتا۔ اقدامات لیکن شفاف ہونا چاہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک ہے جس کی تینوں سرحدیں کھلی ہیں اور تینوں مقامات سے آپ کے اچھے تعلقات بھی ہیں سامان ان ہی راستوں سے آتا ہے۔

آج کسی گلی کی دکان میں بھی جائیں وہاں اسمگل شدہ سامان بہ آسانی دستیاب ہے۔یا وہ سامان دستیاب ہے جس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ اس سے نمٹنے کے لیے آسان سافارمولا بنایا جائے۔ میرے خیال میں دکان دار اپنی مرضی کی سیل ڈیکلئرکرے لیکن اسے ایک فیصد ٹیکس دینا ہے وہی اس کاانکم اور سیلز ٹیکس ہونا چاہیے۔دکان دار کے پاس لائسنس ہونا چاہیے بغیر لائسنس کوئی دکان نہ کھولی جاسکےنہ وہاں کوئی کام ہوسکے، ٹیکس نیٹ میں لانا کایہ سب سے آسان فارمولا ہے۔ 

ٹریڈرز سے نہ اس کا ماضی پوچھیں نہ اس کی موجودہ حیثیت کا سوال کریں، سادہ سافارمولا ہو وہ ایک فارم بھریں کہ میری اتنی سیل ہوئی ہے اس میں یہ ٹیکس تھا جومیں نے جمع کرادیا ہے اس کے بعد کوئی دکان جاکر کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کرے گا، ریٹیلرز کی سب سے بڑی مانگ بھی یہی ہے۔وہ کہتے ہیں ہم ٹیکس جمع کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم سے حساب کتاب نہ پوچھاجائے۔

جنگ: ٹریڈرز کے حوالے سے کیااس پر کوئی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے،گر ہم اس کوشش میں پھر ناکام رہتے ہیں تو کتنا ٹیکس آمدنی کا نقصان ہوگا

عبدالقادر میمن: کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر جی ڈی پی کا21فیصد سے زیادہ ہوگیا ہے۔انڈسٹری بند ہورہی ہے اور ملک ٹریڈنگ ہوتا جارہا ہے۔ اگر کوئی ٹیکس نہ دے رہا وہ علیحدہ بات ہے لیکن ٹیکس قوانین تو نافذ کرنے چاہیے۔ ہمارایہ کلچر ہے کہ جب تک زبردستی ٹیکس نہیں لے گا ہم نہیں دیں گے۔ٹیکس آفیسر کا یہ مائنڈسیٹ ہے جب تک اس کے پاس آنے والا شخص خود کو ایمان دار ثابت نہ کردے وہ اسے چور سمجھتا ہے۔

جنگ: انرجی سیکٹر میں قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں ،اطلاعات مل رہی ہیں الیکٹرک نے درخواست دی ہے کہ گزشتہ اکتوبر سے جون تک 19روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے۔دوسراشرح سود جو22فیصد ہے دونوں کا تعلق براہ راست عوام،صنعت سے ہے اس کا کیا اثر پڑرہا ہے؟

عارف حبیب: میں جنگ فورم اور حاضرین کا شکریہ اداکرتاہوں۔اللہ نے ہمیں ہرنعمت سے نوازا ہے ہمیں مینجمنٹ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے،مشکل حالات کی وجہ خراب کارکردگی ہے۔میں اس پوائنٹ سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کی معیشت ڈوب گئی ہے، ہم مشکل دور سے گزررہے ہیں لیکن کوشش کریں تو جلدی نکل بھی سکتے ہیں۔

عارف حبیب
عارف حبیب

دنیا نے صرف تیس سال میں دبئی کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے کسی زمانے میں صرف وہاں ایک بلند عمارت ہوتی تھی آج لاتعداد ہیں،60 کی دہائی کے جاپان میں سرد موسم کی وجہ سے وہ کوٹ پہنتے تھے لیکن غربت اتنی اس کے نیچے پہننے کےلئے جاپانیوں کے پاس شرٹ نہیں ہوتی تھی اسے چھپانے کےلیے وہ اپنے کوٹ کو گریبان تک بند رکھتے تھے۔ لیکن پھر انہوں نے منصوبہ بندی سے تیزی سے ترقی کی، یہی صورت حال انڈیا کی بھی ہے۔

اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہوناچاہیے۔ پاکستان معیشت کا سائز کم نہیں ہے 350بلین ڈالرکا جی ڈی پی سائز ہے جو ترقی یافتہ یواے ای کے برابر اور ملائیشیا سے کچھ کم ہے بنگلہ دیش بھی ابھی کم ہے۔ہماری آبادی صحت مند ہے۔ انسانی اورقدرتی وسائل،دریا،سمندرزرخیز زرعی زمین ہمارے پاس ساری نعمتیں ہی۔ ہمارے نوجوانوں کے پاس ملک میں کرنے کےلیے بہت کچھ ہے۔

جہاں تک موجودہ حالات کی بات ہے اگر کوویڈ سےآغاز کریں،ان دنوں پوری دنیا کو مشکلات کا سامنا تھا، پاکستان نے اسے اچھے طریقے سے سنبھالا، اقوام عالم میں کوویڈ پر ہماری کارکردگی کی مثال دی جاتی ہے کہ پاکستان نے کوویڈ میں اچھے اقدامات کئے تھے۔دوسرا بڑا اور برا ایونٹ یوکرین روس جنگ ہےاس تصادم نے بھی دنیا کو نقصان پہنچایاہے، بدقسمتی سے اس جنگ کے دوران ہی پاکستان غیر یقینی سیاست کا شکار ہوگیا،تحریک عدم اعتماد پھر حکومت کی تبدیلی ہوئی۔ 

سیاسی چپقلش میں جاتی ہوئی حکومت نے کچھ غلط فیصلے کئے تواقتدار سنبھالنے والی حکومت نے اہم فیصلوں میں تاخیر کی جس کا نقصان ہوا۔جنگ کےدنوں میں دنیا بھر میں کموڈیٹیز کی قیمت بڑھ گئی تھیں ہم کیوں کہ امپورٹر ملک ہیں اس لیئے ہم پر زیادہ اثر پڑا،سیاسی عدم استحکام اور مستحکم حکومت نہیں تھی تواس نے مناسب فیصلے نہیں کئے، اسی دوران ہمارے روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ آگئی،کچھ عرصے قبل جو ڈالر ایک سو روپے کا تھا وہ بڑھ کر 300 سے اوپر چلاگیا تھا اور آج بھی پونے تین سو کے قریب ہے جس کی وجہ سےمہنگائی کی شرح بڑھی۔

اس کے بعد ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں گئے ۔آئی ایم ایف کا کردار ایک ڈاکٹرکی طرح ہے اگرمعیشت کمزوریا بیمار ہے توپھرآئی ایم ایف کے پاس جایا جاتا ہے،آئی ایم ایف پیسے کے ساتھ نسخہ بھی دیتا ہے۔ وہ دوا دیتا ہے اور بتاتا ہے آپ یہ کریں اس سے صورت حال بہتر ہوگی۔اخراجات کم کرنے کا وہ لازمی کہتا ہے۔

ہمارے بجٹ میں سود کے علاوہ بھی اخراجات ہیں تو انہوں نے جی ڈی پی کا اعشاریہ چارفیصد تک خرچ کا کہا ہے اس سے زیادہ نہیں ہونے چاہیں۔ شرح سود کے علاوہ اس نے دیگر اخراجات پرکہا کہ آپ کے اخراجات آمدنی سے زیادہ نہیں ہونے چاہیں، پاکستان یہاں تک کامیاب ہے۔ پاکستان سود کی مد میں ادائی پرپھنس رہا ہے کیوں کہ ہم نے مالیاتی فیصلے تاخیر سے کئے، اس لیے اب ساری دوائی ایک ساتھ لینی پڑرہی ہیں، اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے، گیس، بجلی، پٹرول سب کی قیمتیں بڑھادی گئیں ہیں۔

آئی ایم ایف کہتا ہے چیز پر جو لاگت آتی ہے عوام سےاس کی پوری قیمت وصول کریں، ریاست اب سبسڈی کے نام پر اپنی جیب سے پیسے خرچ نہ کرے۔جس کی وجہ سے مہنگائی بہت بڑھ گئی اور عوام کی تکلیف میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن دوسری طرف آئی ایم ایف ہدایات پر عمل درآمدکی وجہ سے ہماری معیشت میں بہتری نظرآرہی ہے۔کچھ ماہ سے روپے کی قدر برقرار ہے،اسٹاک ایکسچینج اچھی کارکردگی دکھارہا ہے۔

اب ہم اگلا بجٹ کیسا بنائیں ااس پر توجہ دینےکی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کو اپنا اگلا بجٹ بنانا آسان ہے،کیوں کہ کبھی ہمارا افراط زر 38فیصد تھا وہ پچھلے ماہ ساڑھے بیس فیصد تھا اپریل میں ساڑھے سترہ فیصد ہونے کی امید ہے، آئی ایم ایف نے کہا ہےکہ اگلے برس تک افراط زررواں سال سے 12سے 13فیصد کم ہوگا،یعنی اگراوسطاً افراط زر ابھی 25فیصد ہے تو وہ اگلے برس12 سے تیرہ فیصد ہوگا۔

شرح سود افراط زر سے جڑا ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے شرح سود ہمیشہ افراط زر سے زیادہ ہونا چاہیے لوگوں کے لئے بچت کی واپسی اچھی ہونی چاہیے۔کیوں کہ ابھی ہمارے ایکسٹرنل اکاوئنٹ میں ڈالر ناکافی ہیں اسی وجہ سے شرح سود برقرار رکھی گئی ہے لیکن اگلے سال تک امید ہے کہ کم ہوکرتیرہ چودہ فیصد ہوجائے گی۔ پاکستان پر جی ڈی پی کا قرض 70فیصد ہےجو بین الاقوامی سطح پر اتنا زیادہ نہیں ہے۔

جاپان کا قرض اس کی جی ڈی پی سے دو سوفیصد زیادہ ہے،انڈیا کا بھی قرض پاکستان کے مقابلے میں اس کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ لیکن انہیں جو ایڈوانٹیج حاصل ہیں وہ ہمیں میسر نہیں، جاپان میں شرح سود ایک فیصد ہےپہلے تو شاید تھاہی نہیں اس لیے وہاں لاگت کا مسئلہ نہیں، انڈیا میں شرح چھ سے سات فیصد ہے۔

ہمارے لیئے بائیس فیصد پر قرض کا سود اداکرنا سب سے بڑی تباہی ہے ،اس سال صرف سود کی ادائی میں ساڑھے آٹھ ٹریلین روپے خرچ ہوا ہے،تین سال پہلے یہ ڈیڑھ ٹریلین روپے ہوتاتھا جو بجٹ میں فراہم کرنا ہوتا تھا۔صرف تین سال میں بجٹ میں سات ٹریلین روپے زیادہ سود کی مد میں اداکئے ہیں۔ ایف بی آر کی مجموعی آمدنی ہی صرف نواعشاریہ چارٹریلین ہے۔ ان حالات میں جب یہ امید کی جارہی ہے کہ شرح سود نیچے آئے گی، تو اس طرح اندازاً تین ٹریلین روپے کی بچت ہوگی،اگلے برس اگر کوئی نیا ٹیکس نہ بھی لگائیں تو ساڑھے گیارہ ٹریلین ایف بی آر وصول کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کا منافع بھی بجٹ میں انکم کے طور پر جاتا ہے رواں سال اسٹیٹ بینک کا منافع ایک ٹریلین سے زیادہ ہے۔اگلے سال تین ٹریلین کی بچت ایک ٹریلین اسٹیٹ بینک سے منافع اور آمدنی بھی ڈیڑھ ٹریلین زیادہ ہوگی۔اب اگر نجکاری ہوتی ہے جس کے متعلق بہت عرصے سے بات چیت ہورہی ہے،یہ ادارے 500 سے زیادہ کےخسارے میں ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق ہمارے ان قومی اثاثوں کی مالیت 19ٹریلین کے قریب ہے،ان پر ہمیں واپس صرف ایک فیصد ملتا ہے،ہم اٹھارہ فیصد سے زائد پر قرضہ لے کر وہاں لگاتے ہیں اور واپسی ایک فیصد ہے اندازہ لگالیں نتیجہ کیا نکلے گا۔

اگر وہ ادارے فروخت ہوتے ہیں تو اس کا بھی تین چارٹریلین روپے ملتا ہے اس طرح بجٹ خسارہ ختم ہونے کی گنجائش ہے لیکن بدقسمتی سے فیصلہ سازوں کو بیلنس شیٹ بھی پڑھنا نہیں آتی۔ لہذا مجھے امید ہے اگلے سال کا بجٹ آسان ہوگا۔ ہمیں بہتری کےلیے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے یہاں انرجی پورے ریجن سے زیادہ مہنگی ہے، بجلی انڈسٹری کو 13سینٹ کی پڑرہی ہے جبکہ پڑوس میں سات سے آٹھ سینٹ ہے۔ اس سے لاگت بڑھ رہی ہے اور ہم ایکسپورٹ میں کسی کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے، ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی تو ڈالر کا مسئلہ رہے گا۔

بلند شرح سود کی وجہ سے لون لے کر کاروبار کرنا ناممکن ہوگیا ہے اور جس کے پاس پیسے ہیں اسے کاروبار کرنے کی کیاضرورت ہے اسے بینک میں پیسہ رکھنے پر اٹھارہ سے بیس فیصد گھر پر ہی مل رہے ہیں۔ تیسرا یہ کہ یہاں سرمایہ کاری کے حالات کاربہتربنائے جائیں سرمایہ کاری کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کےنئے مواقع ملتے ہیں،سرمایہ کارحکومت کو آمدنی دیتا ہے اور اشیا صرف کی فراوانی میں کردار ادا کررہا ہوتا ہے اسی لئے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ہمارے ٹیکس ریٹ ریجن میں سب سے زیادہ ہے کارپوریٹ ٹیکس 29فیصد ہے سپرٹیکس دس فیصد ہے۔انرجی قیمتوں کو کم ہوناچاہیے شرح سود کم ہونی چاہیے اور ٹیکس ریٹ کم ہوناچاہیے ایسے اقدامات کرنے سے معاشی سرگرمی بڑھے گی۔ان اقدامات سے ہم تمام مالی بوجھ کم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

جنگ: آج اگر کسی کے پاس ایک کروڑ روپے کی بچت ہے تو صرف وہ بینک کے سیونگ اکاوئنٹ میں رکھ کر ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ منافع گھر بیٹھے لے سکتا ہے۔

جنگ: ڈالر کمی بڑا مسئلہ ہے اسے کیسے حل کریں؟

عارف حبیب: پچھلے دس سال میں کرنٹ اکاوئنٹ خسارہ 80ملین ڈالر کا ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے سب سے ضروری چیز ہمیں امپورٹڈ اشیاخریدنا بند کرنی پڑے گی۔ ہمارے یہاں دہشت گردی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار آنے سے گھبراتے ہیں، انڈیا میں بھی کرنٹ خسارہ زیادہ ہے لیکن وہاں سرمایہ کاری ہونے کی وجہ سے ڈالر مسئلہ نہیں ہے۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کےلیے سمجھ دار دانا لیڈر شپ کی ضرورت ہے، عوام کو بھی کوئی کام کرنے سے پہلے اپنے وطن کا سوچنا چاہیے۔

جنگ فورم کے دوران ٹیکس پر گفتگو جاری تھی کہ اسی دوران عارف حبیب کو ان کے موبائل پر ٹیکس سے متعلق شاعر یاسرعلی کا طنزیہ مزاحیہ کلام موصول ہوا، انہوں نے سامعین سے یہ کلام شئیر کیا تو فورم قہقہوں سے گونج اٹھا، آپ بھی پڑھئے

ہر تل پہ ہر رخسار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب وصل کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا

محبوب کی گلی میں بھی جانا سنبھل کے

سنتے ہیں کہ دیدار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب ٹیکس اداؤں پہ بھی دینا ہی پڑے گا*

بے وجہ کے انکار پہ بھی ٹیکس لگے گا

بھر جائے گا اب قومی خزانہ یہ ھے امکاں

ہر عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا

اب باغ کی رونق کو بڑھائے گا بھلا کون

ہر پھول پہ ہر خار پہ بھی ٹیکس لگے گا

جس زلف پہ لکھتے ہیں صبح و شام سخن ور

اسی زلف کی ہر تار پہ بھی ٹیکس لگے گا

دل بھر کے دیکھ لو جتنا بھی اب چاھو

ہر تل پہ ہر رخسار پہ بھی ٹیکس لگے گا

حاضرین کے سوالات

صابر زمان: ٹیکس میں بہتری کےلیے ڈیجیٹلائزیشن کی بات ہوئی ایسے کیا اقدامات کئے جائیں جس سے عوام میں ٹیکس سے متعلق شعور بیدار ہو؟

عبدالقادر میمن: ڈیجیٹلائزیشن سے مراد دنیا میں کوئی بھی چیز دکان دار بغیر رسید کے نہیں فروخت کرتا ایک مشین لگی ہوتی ہے پرچی جیسے ہی کٹتی ہے اس پر پی او نمبر ہوتا ہے جس کا ریکارڈ کہیں جمع ہورہا ہوتا ہے، ہماری ٹرانزیکشن بینکنگ کےذریعے ہونی چاہیے، امریکا میں کوئی آپ سے نقد سوڈالر لینے کو تیار نہیں ہوتا وہ کریڈٹ کارڈ سے ادائی پر زور دیتے ہیں۔

طہہ حبیب: آج بھی بعض ایسے سیکٹر ہیں جن پر کوئی ٹیکس نہیں جب کہ رئیل اسٹیٹ پر روزانہ ٹیکس کا ذکر ہوتا ہے کیوں ؟

عارف حبیب: رئیل اسٹیٹ کے دوحصے ہیں ایک پلاٹ گھرمیں سرمایہ کاری اس کا معیشت پر کوئی کردار نہیں ہے دوسرا رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ جس سے مراد کنسٹرکشن سے ہے اس کا ہماری معیشت میں عمل دخل بہت زیادہ ہے زراعت کے بعد روزگار دینے میں یہ شعبہ دوسرے نمبر پر ہے اس پر انڈسٹری سے زیادہ ٹیکس ہے،زراعت پر بھی ٹیکس ہونا چاہیے۔

وقاص احمد: پہلےاعلان کیا گیا تھا لیکن اب کسانوں کو مطلوبہ قیمت پر گندم فروخت کرنا مسئلہ بن گیا ہے؟

عارف حبیب: یہ ہماری پالیسی سازوں کی غلطی ہے۔لیکن امید ہے اس کا فیصلہ جلد میرٹ پر ہوگا۔

علی راج: جو چیز خریدو اس پر ٹیکس ہے تو پھر یہ کیوں کہا جارہا ہے لوگ ٹیکس نہیں دے رہے۔

آصف شمیم: بزنس میں لوگ ٹیکس دے رہے ہیں لیکن سوسائٹی کے کچھ لوگ ایسے ہیں جو مطلوبہ ٹیکس جمع نہیں کرارہے جس کی وجہ سے دوسرے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔

مہتاب حسین: آپ نے اپنی گفتگو میں جن چیزوں کی نشاندہی کی وہ تو نارمل ہے ہمارے یہاں اب تک کیوں نہیں ہوا۔

عارف حبیب: پاکستان میں ہروہ چیز ہونا باقی ہے جو دنیا کرچکی ہے۔ ہمیں دنیا کے پیسوں کی اور دنیا کو مزید امکانات کی ضرورت ہے اگر ہم اپنی گورنس ٹھیک کرلیں تو بہت فائدہ ہوگا۔

جوادعلی: بہتر معیشت کے لیے سیاسی استحکام کیوں ضروری ہے؟

آصف شمیم: پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے، لیکن سیاسی استحکام کا ہونا بہت ضروری ہے۔

شجاعت: پاکستان میں طلب کی وجہ سے نہیں لاگت کی وجہ سے مہنگائی ہورہی ہے۔

سیما: ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے جیسے گیس وغیرہ توایسے میں سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟

عبدالقادرمیمن: پاکستان کو متبادل انرجی کی طرف جانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔

عارف حبیب: دنیا بھر میں یوای اے تک میں پکانے کےلیے گیس پائپ لائن سے دستیاب نہیں ہوتی، سلنڈرز استعمال ہوتے ہیں، بنگلہ دیش میں گیس پہلے انڈسٹری کو پھر گھروں کو فراہم کی جاتی ہے، کیوں کہ گیس سے ایکسپورٹ اور روزگار منسلک ہے۔ گیس قیمتیں مہنگی ہونے سے پالیسی ٹھیک کرنے میں آسان ہوگی۔

وہاب: یہ کیوں کہاجاتا ہے کہ پاکستانی نوجوان لمبی ریس کے گھوڑے نہیں ہمیں اپنے تجربات سے بتائیں نوجوانوں کے اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

عارف حبیب: پاکستانی انفرادی طور پر اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن بحثیت قوم کارکردگی خراب ہے۔کیوں کہ سپورٹ کے بجائےآپس میں لڑتے ہیں جس کی مثال ہمارے اکاوئنٹنٹس کی دنیا بھر میں ڈیمانڈ ہے اور لوگ جارہے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی زیادہ سے تربیت کی ضرورت ہے۔